جمعہ , 26 اپریل 2019

انکل چریا ہیں

(وسعت اللہ خان)
یہ ملک کبھی بھی امیر نہیں تھا ، ترقی کی رفتار بھی مسلسل اور ٹھوس نہیں تھی۔غریب اتنا ہی غریب تھا جتنا آج ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی غریب تھا۔مگر جس کے پاس جتنا تھا اس میں مست تھا۔اسے لگتا تھا کہ ریاست کم وسائل کے باوجود اس کا خیال رکھنے کی اپنی سی کوشش کر رہی ہے۔

ایسا نہیں کہ لوگ چالیس برس پہلے تک مایوسی کا شکار نہیں ہوتے تھے لیکن اجتماعی مایوسی ویسی نہ تھی جیسی اب ہے۔وجہ بہت سادہ تھی۔مہنگائی چھلانگیں نہیں مارتی تھی بلکہ ایک ایک قدم بڑھتی تھی۔تنخواہیں اور آمدنیاں کم تھیں مگر یہ سوچ کے سکون مل جاتا تھا کہ ہم اکیلے تو نہیں پڑوسی کی بھی اتنی ہی اوقات ہے۔ گلی اور محلے کی سطح پر ایک دوسرے کی خبر رکھنے سے کسی حد تک چھوٹی چھوٹی محرومیوں کا ازالہ ہو جاتا تھا۔اور اس کا بڑا مظاہرہ کسی کی شادی یا موت کے وقت محلے کی سطح پر بے ساختہ تعاون کی مختلف شکلوں میں ہوتا تھا۔

بڑوں کی سماجی قربت بچوں کو بھی منتقل ہوتی تھی۔ وہ ساتھ کھیلتے، ساتھ پڑھنے پیدل جاتے۔اسکول کی صرف ایک ہی شکل تھی یعنی سرکاری اسکول۔اور سرکاری اسکول کی تعریف یہ تھی کہ اس کی نہ صرف مناسب عمارت ہو بلکہ کھیل کا میدان بھی ہو اور بچوں کی ذہنی تربیت کے ساتھ ساتھ جسمانی نشوونما میں معاون ثابت ہونے والی سرگرمیاں بھی ہوں۔

گویا فزیکل ایکٹی ویٹی اور ذہنی نشوونما لازم و ملزوم تھے۔والدین ہوں کہ اساتذہ ان میں سے کوئی بھی بچوں سے توقع نہیں کرتا تھا کہ وہ چوبیس گھنٹے پڑھاکو ہی بنے رہیں اور بچپن و لڑکپن کتابوں کاپیوں، اسکول ورک اور ہوم ورک کے درمیان ہی گنوا دیں۔ایسے بچوں کو ذہین نہیں خبطی سمجھا جاتا تھا جو غیر نصابی سرگرمیوں سے دور بھاگتے تھے۔

ہر سرکاری سیکنڈری اسکول میں چھوٹے بچوں کے لیے پی ٹی اور بڑے بچوں کے لیے کرکٹ ، ہاکی ، فٹ بال یا بیڈ منٹن میں سے کم ازکم ایک کھیل اور فزیکل ایجوکیشن تک رسائی کا انتظام تھا۔انگریزی کا یہ محاورہ اس دور کے ہر اسکولی بچے کو یاد کروایا جاتا تھا کہ ’’ آل ورک اینڈ نو پلے میکس جیک اے ڈل بوائے‘‘۔ یعنی صرف کام ہی کام مگر کھیل میں عدم دلچسپی بچے کو چست و چالاک نہیں سست اور بور بنا دیتی ہے۔

’’ جیک ڈل نہ ہو جائے ‘‘ اس کے لیے غریب سے غریب محلے میں بھی کھیل کا کم از کم ایک چھوٹا یا بڑا سبز یا مٹیالا میدان ہوتا تھا جہاں محلے اور نواح کے بچے سہ پہر سے مغرب تک کچھ نہ کچھ ضرور کھیلتے ، گپ ہانکتے ، فقرے بازی کرتے اور غیر محسوس انداز میں ایک سماجی بندھن اور تعلق میں بندھ جاتے۔

اسکولوں میں مختلف جماعتوں اور پھر مختلف اسکولوں کے درمیان ٹیموں کی شکل میں چھوٹے چھوٹے ٹورنامنٹ اور چھوٹے چھوٹے انعامات اور کپ جیتے یا ہارے جاتے تھے۔اذہان کو تیز رو اور منطقی بنانے کے لیے تقریری مباحث، معلوماتِ عامہ ، بیت بازی اور گلوکاری کے مقابلے ہر سطح پر سال میں کئی مرتبہ منظم ہوتے۔ان میں دلچسپی و شرکت پانچ برس سے لے کر پندرہ سولہ برس کے بچے بچیوں میں زندگی کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے وہ اعتماد کوٹ کوٹ کے بھرتی تھی جو عملی زندگی میں ان کا ہمزاد بن کے رہتا تھا۔

یہی وہ نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کی متوازن نرسری تھی جو بچوں میں قائدانہ صلاحیتوں کی نشو و نما کرتی اور ایک دوسرے کو جھٹک کے یا شارٹ کٹ کے بجائے صحت مند مسابقت اور تعاون کے ذریعے زندگی میں آگے بڑھنے کی تربیت کرتی تھی۔سماج کے ہر طبقے اور ہر سرکار کو نہ صرف ادراک تھا کہ بچوں کو ہر آن کسی نہ کسی کام یا مشغلے میں مصروف رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی توانائیاں بے راہرو نہ ہو جائیں بلکہ ان سرگرمیوں کا انتظام بھی معمول کی ذمے داری اور فرض سمجھا جاتا تھا۔

اور پھر یہ ڈھانچہ مزید ترقی کرنے کے بجائے رفتہ رفتہ غیر محسوس طریقے سے بکھرتا چلا گیا۔مسابقت کے بجائے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی ہوڑ، خود کو اچھا اور دوسرے کو برا ثابت کرنے کی دوڑ، بنیادی تہذیبی اقدار سے ہاتھ چھڑا کر مادہ پرستی کے ہمقدم ہونے کی دوڑ، دکھ سکھ کی روایت کو راستے میں بھول کر نفسانفسی کی ٹرین پر چڑھنے کی دوڑ۔اس لپاڈکی نے سماجی چہرے پر باہمی شک کی دھول جما دی اور اس دھول نے ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کی بے ساختہ عادت کے پرزے اڑا دیے۔ سامنے بس انفرادی مفاد و غرض کا چٹیل میدان تھا اور سب سائے کی تلاش میں بھاگ رہے تھے۔

یوں ہم لوگ اپنے اپنے ڈبوں میں بند ہوتے چلے گئے، ہمارا بچہ میرے بچے میں بدل گیا، ہمارا محلہ صرف میرے گھر تک رہ گیا۔باہر نہیں نکلو گے باہر خطرہ ہے ، محلے کے بچوں میں نہیں اٹھو بیٹھو گے ، وہ ہمارے اسٹینڈرڈ کے نہیں بلکہ گنوار ہیں۔نہیں فٹ بال نہیں کھیلنا چوٹ لگ جائے گی ، ہاکی کون کھیلتا ہے اس زمانے میں ۔ یہ لو وڈیو گیم، یہ لو ٹیبلٹ، یہ لو انٹرنیٹ۔اس بار صرف اسی پرسنٹ نمبر آئے اگلی بار نوے پرسنٹ لائے تو موبائل ملے گا۔ کھیل کود میں وقت ضایع نہ کرو ، یہ عمر زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی ہے ورنہ پیچھے رہ جاؤ گے۔

جب پلے گراؤنڈز کا کوئی والی وارث نہ رہے تو وہ کچرے کے ڈمپنگ گراؤنڈ بنتے چلے گئے، خالی فلاحی پلاٹوں پر راتوں رات مساجد و مدارس نمودار ہوتے چلے گئے، دکانیں پھوڑوں کی طرح ابھرنے لگیں ، بلڈرز ہر کھلی جگہ ڈکارلیے بنا ہڑپ کرتے چلے گئے۔اسکول صرف کلاس رومز کی قطار کا نام ہوگیا۔ پلے گراؤنڈز صرف پرانے اسکولوں کے قصے کہانیوں میں رہ گئے۔

مگر بچے تو بچے ہیں ، ہر گلی میں شام کے وقت اینٹ کے اوپر اینٹ رکھ کے گول پوسٹ یا وکٹ بنا کر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے بچتے ہوئے فٹ بال اور کرکٹ کھیلنے والے ان معصوموں کو اگر بتاؤں کہ ہمارا بچپن کیسا گذرا تو وہ رشک کرنے کے بجائے گول گول دیدے گھماتے ہوئے ایک دوسرے سے سرگوشی کرتے ہیں ’’انکل چریا ہیں ، پتہ نہیں کیا کیا الٹی سیدھی کہانیاں ہانکتے رہتے ہیں ’’۔

اس وقت پاکستان کی پینسٹھ فیصد آبادی کی عمر تیس برس سے کم ہے۔ہم نے اپنے بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ کیا کیا ہے؟ اس کی ایک جھلک اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کی نیشنل ہیومین رپورٹ دو ہزار سترہ میں مل جائے گی۔سات ہزار نوجوانوں کی سماجی مصروفیات اور سرگرمیوں کے سروے سے اندازہ ہوا کہ اٹہتر فیصد کی پارکس تک رسائی نہیں ، پچانوے فیصد کو کسی لائبریری میں جا کے مطالعے کا کوئی تجربہ نہیں ، ستانوے فیصد نے کبھی آمنے سامنے بیٹھ کر کسی گلوکار کو یا لائیو میوزک نہیں سنا ، نہ کبھی سینما جا کر فلم دیکھی ، چورانوے فیصد نے کوئی میچ پلے گراؤنڈ میں جا کر نہیں دیکھا۔

پھر بھی مجھ سمیت تمام لال بھجکڑ سر پکڑے غور فرما رہے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اسٹریٹ کرمنل ہونے ، آئس ، چرس اور شراب وغیرہ ، چھوٹی چھوٹی بات پر غصے سے بے قابو ہو جانے ، کسی انتہا پسند گروہ کا خام مال بننے ، گھر کے اندر بیگانہ بن کے رہنے اور صحت مند تفریحات میں دلچسپی نہ لینے کی عادت سے کیسے بچائیں۔اے لال بھجکڑو آپ نے ان کے لیے بچا کے رکھا ہی کیا ہے جس کے چھوڑے جانے کا غم آپ کی نیند حرام کیے ہوئے ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بین المذاہب منافرت

(ظہیر اختر بیدری)  جب کسی طرف سے انسانوں کی بھلائی کی کوئی بات نظر سے …