ہفتہ , 23 فروری 2019

سپریم کورٹ کا فیصلہ، گلگت بلتستان کو کیا ملا؟

(رپورٹ: لیاقت علی انجم)

ایک صبر آزما انتظار کے بعد بالآخر سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا، فیصلے کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت برقرار رہے گی، کشمیر میں استصواب رائے تک پاکستان گلگت بلتستان کو حقوق دینے کا پابند ہوگا، سپریم کورٹ میں جی بی کی آئینی حیثیت سمیت مختلف ایشوز پر 32 آئینی درخواستیں دائر تھیں، ان میں سب سے اہم گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین اور سپریم کورٹ کے 1999ء کے فیصلے پر عملدرآمد کی درخواستیں تھیں، عدالت نے تمام درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کی۔ عدالت کا 1999ء کا فیصلہ پانچ رکنی بینچ نے دیا تھا، جس میں وفاق پاکستان کو حکم دیا گیا تھا کہ گلگت بلتستان کو اگلے چھ ماہ کے اندر دیگر صوبوں کے برابر بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس فیصلے پر انیس سال گزرنے کے باؤجود بھی عملدرآمد نہ ہوسکا، جس کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی، پانچ رکنی لارجر بینچ کے فیصلے کا جائزہ لینے کیلئے آئینی تقاضوں کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ قائم کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے کئی سماعتوں کے بعد 7 جنوری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 17 جنوری کو سنایا گیا۔ چونکہ گلگت بلتستان کے عوام کا بنیادی مطالبہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے مطابق عبوری صوبے کے قیام اور پارلیمنٹ میں نمائندگی کا تھا لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں صدارتی آرڈننس کو ہی برقرار رکھا، یوں گلگت بلتستان کے عوام کا عبوری آئینی صوبے کا خواب پورا نہ ہوسکا، نیا صدارتی آرڈر ”گلگت بلتستان گورننس ریفارمز2019ء” کے نام سے لاگو ہوگا۔ عدالت نے 29 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں گورننس ریفارمز کے ڈرافٹ کو بھی اپنے فیصلے کا حصہ بنا دیا ہے، اب اسی فیصلے کے مطابق گلگت بلتستان کا نظام حکومت چلے گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق لاگو ہونے والے نئے آرڈر میں گلگت بلتستان میں کیا تبدیلیاں ہوں گی، عوام کو کیا ملے گا؟ اس کا مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

ستر سال بعد سپریم کورٹ تک رسائی
گلگت بلتستان کو ستر سال بعد سپریم کورٹ تک رسائی مل گئی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں گلگت بلتستان کے لوگوں کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی مشروط اجازت دیدی، اس سلسلے میں گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019ء کے آرٹیکل 103 میں یہ گنجائش پیدا کر دی گئی ہے کہ اگر گلگت بلتستان حکومت کا وفاق کے ساتھ کوئی تنازعہ پیدا ہو یا گورننس ریفارمز 2019ء کی کسی شق کے حوالے سے کوئی تنازعہ ہو یا اس کو تبدیل یا ترمیم کے حوالے سے کوئی ابہام پیدا ہو، یا عدالتی نظرثانی جو ریفارمز سے متعلق ہو تو اس صورت میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا جا سکے گا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سپریم اپیلٹ کورٹ یا چیف کورٹ کے کسی بھی فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا جا سکے گا، ان فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا وہی طریقہ کار ہوگا، جس طرح ملک کی دیگر ہائیکورٹ یا انتظامی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاتا ہے، جی بی گورننس ریفارمز 2019ء کے آرٹیکل 103 میں یہ بات بھی صراحت کے ساتھ واضح کر دی گئی ہے کہ گلگت بلتستان کی تمام عدالتیں بشمول سپریم ایپلٹ کورٹ اور چیف کورٹ پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کا اطلاق ہوگا۔

پہلی مرتبہ ججز کی تقرری بذریعہ جوڈیشل کمیشن
گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہوگی،(اس سے پہلے انتظامی آرڈر کے ذریعے ججوں کی تقرریاں ہوتی تھیں) گلگت بلتستان گورننس ریفارمز2019ء کے آرٹیکل 81 میں سپریم ایپلٹ کورٹ اور چیف کورٹ گلگت بلتستان میں ججوں کو بھرتی کرنے کے طریقہ کار کو وضع کیا گیا ہے کہ ان دو عدالتوں کے ججز بذریعہ جوڈیشل کمیشن تعینات کئے جائیں گے، سپریم ایپلٹ کورٹ کے ججز کو تعینات کرنے کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں چیف جج سپریم ایپلٹ کورٹ اس کے چیئرمین ہونگے، سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان ممبر ہوگا، سپریم ایپلٹ کورٹ کا سینیئر جج بھی ممبرز میں شامل ہوگا، جبکہ سپریم کورٹ کا کوئی بھی ریٹائرڈ جج جس کو چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کریگا، کو بھی دو سال کیلئے جوڈیشل کمیشن کا ممبر تعینات کیا جائے گا، وزیر قانون گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹری جی بی بھی اس کمیشن کے ممبر ہوں گے، جبکہ سپریم ایپلٹ کورٹ کا ایک سینیئر وکیل جس کو بار کونسل نامزد کریگی، کمیشن کا دو سال کیلئے ممبر ہوگا، جوائنٹ سیکرٹری جی بی کونسل اس کمیشن کا سیکرٹری ہوگا۔

جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر گلگت بلتستان کونسل جج کی تقرری کی سمری چیئرمین گلگت بلتستان کونسل(وزیراعظم پاکستان) کو بھیجے گی اور وہ اس کی منظوری دینگے۔ اگر سپریم ایپلٹ کورٹ کے چیف جج کی

تعیناتی عمل میں لانا مقصود ہو تو اس میں سیکرٹری کشمیر افیئرز اس کمیشن کا سربراہ ہوگا۔ اسی طرح چیف کورٹ کے ججز لگانا مقصود ہو تو چیف جج چیف کورٹ اور سینیئر جج چیف کورٹ اس کمیشن کے ممبر ہونگے، جبکہ چیف کورٹ کا ایک سینیئر وکیل جسے بار کونسل نامزد کریگی، وہ بھی اس کمیشن کا رکن ہوگا۔ چیف کورٹ کا چیف جج لگانا مقصود ہو تو چیف کورٹ کا سینیئر جج اس کمیشن کا ممبر نہیں ہوگا کیونکہ وہ خود اس عہدے کا امیدوار ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان سپریم ایپلٹ کورٹ ایک چیف جج اور دو ججوں پر مشتمل ہوگی، تاہم وفاقی حکومت وقتاً فوقتاً ججوں کی تعداد کو بڑھا سکے گی، سپریم ایپلٹ کورٹ میں جج لگنے کیلئے جو اہل ہونگے، ان کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج رہا ہو یا بننے کی اہلیت رکھتا ہو یا چیف کورٹ میں کم از کم پانچ سال بطور جج خدمات انجام دی ہوں، یا پندرہ سال تک ہائیکورٹ میں وکالت کا تجربہ حاصل ہو۔

سپریم ایپلٹ کورٹ کے چیف جج اور ججز 65 سال کی عمر پوری ہونے تک اپنے فرائض سرانجام دے سکیں گے، اگر سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کو چیف جج یا جج سپریم ایپلٹ کورٹ لگا دیا جاتا ہے تو وہ ستر سال کی عمر پوری ہونے تک اپنے فرائض سرانجام دے سکے گا۔ ان ججوں کی تنخواہ و مراعات وہی ہونگی جو سپریم کورٹ کے ججوں کیلئے حاصل ہیں، سپریم ایپلٹ کورٹ کے فنڈز جی بی کونسل کے ذریعے فراہم کئے جائیں گے، اس سے پہلے سپریم ایپلٹ کورٹ کے اخراجات حکومت گلگت بلتستان مہیا کرتی تھی۔ اسی طرح گورننس ریفارمز کے آرٹیکل 92 کے تحت چیف کورٹ کے ججوں کی بھرتی کیلئے چالیس اور ساٹھ فیصد کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے یعنی چالیس فیصد ججز کیلئے اور ساٹھ فیصد وکیلوں کیلئے مختص ہوگا۔ چیف کورٹ میں ججوں کی تعداد سات ہوگی، 45 سال سے کم عمر کا کوئی امیدوار چیف کورٹ میں جج لگنے کا اہل نہیں ہوگا، چیف کورٹ کے چیف جج اور ججز 62 سال کی عمر پوری ہونے تک اپنے فرائض سر انجام دے سکیں گے، چیف کورٹ کی تنخواہ اور مراعات وہی ہونگی، جو دیگر صوبوں کی ہائیکورٹ کے ججز کو حاصل ہیں۔

ریفارمز میں ترمیم کا اختیار
گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019ء میں ترمیم کا اختیار مشروط طور پر صدر پاکستان کو حاصل ہوگا، تاہم فائنل اتھارٹی سپریم کورٹ ہوگی، گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019ء کی شق نمبر 24 میں ریفارمز میں ترمیم کرنے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جس کے مطابق صدر پاکستان وفاقی حکومت کی سفارش پہ کسی بھی شق میں ترمیم یا تبدیلی لاسکتا ہے، تاہم ان ریفارمز میں کوئی ایسی ترمیم یا تبدیلی اس وقت تک کارآمد ثابت نہیں ہوگی، جب تک وفاقی حکومت بذریعہ درخواست سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع نہیں کرتی، اس درخواست پر سپریم کورٹ اسی طرح غور کریگی، جس طرح باقی بنیادی حقوق سے متعلق درخواستوں پر غور کیا جاتا ہے۔ ریفارمز میں ترمیم سپریم کورٹ کے وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق ہی ہوگی۔ اسی طرح ریفارمز 2019ء کی شق 126 کے تحت گلگت بلتستان کی کوئی بھی عدالت ریفارمز کو منسوخ یا ترمیم کرنے کی مجاز نہیں ہوگی، یہ اختیار صرف سپریم کورٹ آف پاکستان کو حاصل ہوگا۔ اسی طرح کوئی ایسا قانون جو ریفارمز 2019ء کے تحت بنایا گیا ہو، یا کوئی بھی قانون جو وفاقی حکومت نے بنایا ہو، اگر ان دونوں قوانین میں کوئی تنازعہ پیدا ہو تو وفاق کا بنایا ہوا قانون کا اطلاق ہوگا۔

وزیراعظم کو سزا معاف کرنے کا اختیار
گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019ء کے آرٹیکل 55 کے تحت وزیراعظم پاکستان جو کہ چیئرمین گلگت بلتستان کونسل ہے، کو کسی بھی اتھارٹی کی طرف سے دی گئی سزا کو ختم کرنے، تبدیل کرنے یا کم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا، اس سے قبل آرڈر 2018ء میں یہ اختیار صدر پاکستان کو حاصل تھا۔ تاہم وزیراعظم کے معافی دینے کے اختیارات کا معاملہ ایک الگ پٹیشن کے ذریعے سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، چلاس کے ایک شہری کو سپریم اہپلٹ کورٹ نے پھانسی کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد انہوں نے وزیراعظم پاکستان (چیئرمین جی بی کونسل) سے رحم کی اپیل کی تھی، ان کی اپیل مسترد ہونے پہ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا، بعد میں سپریم کورٹ چلا گیا، یہ درخواست ابھی زیر سماعت ہے، جس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ فیصلے کے بعد واضح ہوگا کہ معافی دینے کا حق صدر پاکستان کو حاصل ہے یا وزیراعظم کو۔

اسمبلی اور کونسل کے اختیارات کا تعین
گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019ء کے تحت جی بی کونسل مکمل اختیارات کے ساتھ بحال ہوگئی ہے، کونسل کو 63 سبجیکٹس میں قانون سازی کا اختیار حاصل ہوگا۔ ریفارمز 2019ء کے آرٹیکل 68 کے تحت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے درمیان قانون سازی کے اختیارات کا تعین کیا گیا ہے، جس کے تحت اسمبلی اور کونسل دونوں کو گلگت بلتستان اور جی بی میں بسنے والے لوگوں سے متعلق قانون سازی کے اختیارات حاصل ہونگے۔ جی بی کونسل شیڈول تھری میں دی گئی لسٹ کے مطابق قانون سازی کرسکے گی جو کہ 63 امور سے متعلق ہے، باقی تمام امور سے متعلق قانون سازی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کریگی۔ کونسل کسی بھی وفاقی قانون کو گلگت بلتستان میں لاگو کرسکے گی۔ اسی طرح قانون ساز اسمبلی اور کونسل دفاع، کرنسی، خارجہ امور، بیرونی امداد، بیرونی تجارت یا کوئی ایسے امور جن کے متعلق صدر پاکستان نے احکامات جاری کئے ہوں، کے بارے میں قانون سازی نہیں کرسکے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل آرڈر 2018ء میں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اور وزیراعظم پاکستان کو 68 امور میں یکساں قانون سازی کا اختیار حاصل تھا جبکہ گلگت بلتستان کونسل کو مشاورتی باڈی کا درجہ دیا گیا تھا، اب ان اختیارات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کے تحت وفاقی سبجیکٹس جی بی کونسل کے پاس ہونگے، جبکہ باقی تمام اختیارات گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو منتقل کر دیئے گئے ہیں۔

ٹیکس کی تلوار
گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019ء کے آرٹیکل 69 کے تحت ٹیکس سے متعلق قانون سازی کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ جی بی میں کوئی بھی ٹیکس اسمبلی، کونسل یا حکومت پاکستان کی جانب سے کی گئی قانون سازی کے ذریعے سے ہی وصول کیا جائے گا، اس کے علاوہ کسی اور طریقہ سے کوئی بھی ٹیکس لاگو نہیں ہوسکے گا۔ واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے کونسل کی طرف سے بنائے گئے قانون کے ذریعے سے لاگو کیے گئے ٹیکس کیخلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تھی اور پورے گلگت بلتستان میں مظاہرے ہوئے تھے، جس کے بعد ٹیکس کی وصولی معطل کی گئی تھی، اب نئی ریفارمز میں ایک بار پھر ٹیکس کی تلوار لٹک گئی ہے۔ یاد رہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 77 کے تحت صرف پارلیمنٹ آف پاکستان ہی ٹیکس لگانے کا مجاز ادارہ ہے، جس میں گلگت بلتستان کی کوئی نمائندگی نہیں ہے، اب ایک بار پھر حکومت پاکستان نے ایک اور ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

متنازعہ حیثیت
آرڈر 2018ء میں سٹیزن شپ ایکٹ 1951ء کو گلگت بلتستان میں بھی لاگو کیا گیا تھا، جس کے مطابق گلگت بلتستان کے شہریوں کو پاکستان کے شہری تصور کیا گیا تھا، اب نئی ریفارمز میں اس ایکٹ کو ختم کیا گیا ہے، جس کے بعد گلگت بلتستان کے شہری پاکستانی شہری تصور نہیں ہونگے۔ آرڈر 2018ء میں اسمبلی کا نام گلگت بلتستان اسمبلی رکھا گیا تھا، نئی ریفارمز میں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی رکھا گیا ہے۔ نون لیگ کی حکومت کا موقف ہے کہ انہوں نے نواز شریف دور میں آرڈر کے ذریعے سٹیزن شپ ایکٹ لاگو کرکے گلگت بلتستان کے شہریوں کو شناخت دی تھی، یہ ایکٹ ختم ہونے سے جی بی کی شناخت ختم ہوگئی، دوسری جانب پیپلز پارٹی کے لوگوں کا کہنا تھا کہ سٹیزن شپ ایکٹ لاگو کرنے سے گلگت بلتستان کا مسئلہ کشمیر سے تعلق مکمل طور پر ختم ہوگیا تھا، کیونکہ رائے شماری کیلئے متنازعہ ہونا ضروری ہے، کوئی پاکستانی شہری استصواب رائے میں حصہ نہیں لے سکتا۔نگران حکومت کے قیام کی شق ندارد
گلگت بلتستان گورننس ریفارمز 2019ء میں نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے کوئی شق موجود نہیں، موجودہ حکومت کی پانچ سالہ مدت پوری ہونے کے بعد کونسا ادارہ کس طریقے سے انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے گا، واضح نہیں کیا گیا، یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ان ریفارمز کے تحت حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد یا اسمبلی کے قبل از وقت ٹوٹنے کی صورت میں کیسے انتخابات ہونگے؟ واضح رہے کہ نگران حکومت سے متعلق آرڈر 2018ء میں بھی کوئی شق موجود نہیں تھی جبکہ آرڈر 2009ء میں نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے واضح شق موجود تھی اور اسی شق کی روشنی میں شیر جہاں میر کو نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان بنایا گیا تھا، انہوں نے 2015ء میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد کرایا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

پاک بھارت کشیدگی اور چند معروضات

(حیدر جاوید سید) پاک بھارت کشیدگی کے حالیہ دنوں میں کیا محض اس لئے حکومت ...