ہفتہ , 23 فروری 2019

افغان امن مذاکرات۔ زلمے خلیل زاد کا دورہ پاکستان

()
گزشتہ 17 سال میں امریکہ نے افغانستان میں 2500 سے زائد فوجیوں کی ہلاکت کا زخم کھایا ہے جو امریکہ کی تاریخ کا بلند ترین جانی نقصان ہے ۔ ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ سب سے زیادہ امریکی ویت نام میں ہلاک ہوئے پھر یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا اور عراق میں امریکیوں کی ہلاکتیں ویت نام سے بڑھ گئیں۔ اب تازہ ترین واقعات کے بعد افغانستان پہلے نمبر پر ہے۔ 2500 ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ 20 ہزار امریکی فوجی زخمی ہوئے جو لڑائی کے قابل نہ رہے اور ان میں سے اکثر فوج سے سبکدوش کر دیے گئے۔ جنگ کے مالی اخراجات کا تخمینہ ہوش رہا ہے۔ 2018 ء کے آخر تک امریکہ 1.10 ٹریلیئین ڈالر خرچ کر چکا تھا یعنی ایک ہزار اور دس ارب ڈالر ( پاکستان کا مجموعی قرضہ 70بلیئین ڈالر ہے ) اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس جنگ کی امریکہ کو کتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔

یہ وہ پس منظر ہے جس میں امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان امور زلمے خلیل زاد افغانستان میں قیام امن اور وہاں سے امریکی انخلاء کی تفصیلات مرتب کرنے کے لیے پاکستان افغانستان چائنہ اور انڈیا کا دورہ کر رہے ہیں ۔ امریکہ کی اسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ایلیس ویلز بھی ہیں جو اس سے پہلے بھی پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی اس ٹیم میں زلمے خلیل زاد وہ شخص ہے جو ماضی میں ہمیشہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے کے لیے لابنگ کرتے آئے ہیں۔لیزا کرٹس اس امریکی تھنک ٹینک کی ممبر رہی ہیں۔ جس کے سر براہ حسین حقانی ہیں جن کا پاکستان کی اقتصادی اور فوجی امداد رکوانے میں اہم کردار ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں مگر بری بات یہ ہے کہ ان کی سفارتی ٹیم ساری پاکستان مخالف ہے اور اس سے بھی سنسنی خیز یہ ہے کہ امریکی فوجی اسٹیبلشمنٹ انخلاء کی مخالف ہے جسکی وجہ سے ٹرمپ کو انخلاء کا اپنا اعلان واپس لینا پڑا۔ جس دن زلمے خلیل زاد نے پاکستان میں لینڈ کرنا تھا اس دن کا بل کے قریب ایک دہشت گرد حملے میں ایک امریکی مارا گیا جس کی زمہ داری طالبان نے قبول کر لی۔ خلیل زاد نے اپنا پروگرام ایک دن کے لیے ملتوی کر دیا۔ جس کی بظاہری وجہ ان کی مصروفیت اور اندرونی وجہ سکیورٹی وجوہات تھیں۔ جس سے معاملات کی نزاکت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے وزیر اعظم عمران خان کو فون کیا ہے اور مذاکرات میں سہولت کاری پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے جو پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف ہے۔قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان میں انڈیا کی طرف سے ایک لائبریری کھولنے پر نریندر مودی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں کون اس لائبریری میں بیٹھ کر مطالعہ کرے گا جس پر انڈین فارن آفس نے خاصا احتجاج بھی کیا۔ اصل میں افغانستان امن میں انڈیا کا کردار صفر ہے۔ مگر امریکی دوستی کی وجہ سے امریکہ کہتا ہے کہ انڈیا خطے کا اہم ملک ہے اس لیے اس کو شامل کیا جائے انڈیا کا افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے اتنا ہی تعلق ہے جتنا ایک جنگ میں لائبریری کا ہوتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان کا کردار کھل کر سامنے آ رہا ہے جس سے پاکستان کی اہمیت ابھر کر سامنے آئی ہے کہ تمام تر کشیدہ تعلقات اور پابندیوں اور امداد کی بندش کے با وجود امریکہ افغان معاملے میں پاکستان کا محتاج ہے ۔ ایک اور دلچسپ امر یہ ہے کہ 1996 ء میں جب طالبان بر سر اقتدار آئے تھے تو نئی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے ممالک میں پاکستان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل تھے یہ ایک دلچسپ حسنِ اتفاق ہے کہ یہ تینوں ممالک حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے بہت قریب آچکے ہیں پاکستان کی خاموش سفارتکاری کا کریڈٹ آرمی چیف جنرل باجوہ کو جاتا ہے جن کی وجہ سے سعودیہ اور امارات نے پاکستان کو بیل آؤٹ پیکج دیئے ہیں یہ تینوں ممالک طالبان کے پرانے دوست ہیں اور ان کا اثر و رسوخ اب بھی موجود ہے۔ ان حالات میں امیدِ واثق ہے کہ افغان مسئلے کے حل میں پاکستان کی رائے کو خصوصی اہمیت حاصل رہے گی ۔ جس کا صاف مطلب یہ ہو گا کہ افغانستان میں انڈین مفادات کو دھچکا پہنچے گا جس کے متعلق انڈین آرمی چیف نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ انڈیا کوان مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے یہ بیان انڈیا کے لیے شرمندگی کا باعث بنا کیونکہ فوج کاخارجہ تعلقات سے کیا تعلق؟ اس کے بعد انڈیا کی وزارت خارجہ حرکت میں آئی اور انہوں نے معاملے کو cover کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کا افغان پالیسی بیان دہرانا شروع کر دیا کہ مذاکرات کا عمل ’’Afghan led afghan controlled ‘‘ ہونا چاہیے۔

اگر سوچا جائے تو مذکرات کے عمل میں پاکستان کے تعاون کے بغیر کوئی پارٹی ایک قدم بھی نہیں چل سکتی۔ گزشتہ سال جب امریکہ نے قطر میں طالبان آفس کھولنے اور مذاکرات کے آغاز کا اعلان کیا تو طالبان کا سب سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ پاکستان کی قید میں ملا عبدالغنی برادر کو رہا کروایا جائے ملا برادر طالبان کے بانیوں میں سے تھے جنہیں گزشتہ سال پاکستان نے امریکی سفارش پر رہا کیا۔ وہ اب بھی پاکستان میں ہیں اور افغانستان دو بئی قطر آزادانہ آتے جاتے ہیں۔حال ہی میں پاکستان نے طالبان حکومت کے سابقہ وزیر مذہبی امور حافظ محب اللہ کو پشاور سے گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے۔ کہ یہ طالبان پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے ۔ ایک اور شخصیت جو طالبان سے تعلق رکھتی ہے اس کی گرفتاری کی بھی اطلاعات ہیں۔ ان حالات میں دونوں گروپوں کے لیے پاکستان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔؂

سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبان اب بھی صدر اشرف غنی کی حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں اور ان کے ساتھ براہ راست مذاکرت سے انکاری ہیں وہ کہتے ہیں کہ امریکہ ان سے خود بات کرلے۔ پہاڑوں کی چٹانوں اور غاروں اور جنگلوں میں موجود طالبان کی سفارتکاری ہاورڈ کوالیفائیڈ فریق کو مذاکرات ٹیبل پر ٹف ٹائم دیئے ہوئے ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے طالبان کو ڈپلومیسی لاجواب ہے۔

طالبان حلقوں نے اب یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ جب امریکہ افغانستان میں گھس گیا تھا کیا اس وقت کوئی معاہدہ کیا گیا تھا جب بغیر معاہدے کے آ گئے تھے تو اب جانے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں وہ یہاں سے نکل جائیں اسی راستے سے جس راستے سے وہ آئے تھے۔

اس وقت طالبان ملک کے 55 فیصد حصے پر قابض ہیں جو 45 فیصد امریکی حمایت یافتہ اشرف غنی کے قبضے میں ہے اس پر بھی انہیں گرفت نہیں ہے۔ اور تو اور اشرف غنی کی حکومت افغان دار الحکومت کا بل کو بھی آج تک طالبان حملوں سے محفوظ نہیں کر سکی وہ جب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں کارروائی کرتے ہیں۔ امریکی دفاعی اداروں کا موقف یہ ہے کہ افغانستان میں اپنے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں اور اگر وہاں سے انخلاء ہوا تو علاقے میں تباہی پھیل جائے گی جس کے اثرات ایشیا اور مڈل ایسٹ تک محدودنہیں رہیں گے امریکی نہیں چاہتے کہ افغانستان میں کوئی امریکہ مخالف حکومت قائم ہو جیساکہ طالبان۔ البتہ طالبان کو سیاسی دھارے میں لانے کی پیشکش کی جاتی ہے۔ افغانستان ایسا ملک ہے جس کے بارے میں پیش گوئیاں کام نہیں آتیں اور جنگ اور سیاست ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے ۔ وہاں جوچاہے ہو جائے پاکستان کی اہمیت کم نہیں ہو گی۔

یہ بھی دیکھیں

پاک بھارت کشیدگی اور چند معروضات

(حیدر جاوید سید) پاک بھارت کشیدگی کے حالیہ دنوں میں کیا محض اس لئے حکومت ...