ہفتہ , 23 فروری 2019

ساہیوال واقعہ: بچوں سے بار بار مت پوچھیں کہ بیٹا بتاؤ کیا ہوا تھا!

قانون میں کسی بھی جرم اور واقعے کی شہادت بہت اہم ہوتی ہے چاہے وہ ایک ننھے بچے کی ہی کیوں نہ ہو۔ دنیا بھر میں بہت سے ایسے کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں معصوم بچوں نے گواہی دی لیکن بچوں کے سامنے قتل اور مجرم کا ان کے سامنے تھانے میں پیش کیا جانا بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اس صورتحال کے بچوں کی ذہنی صحت پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔ یہ خصوصی تحریر نفسیاتی معالج ارسہ غزل سے ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے جو انھوں نے بی بی سی کی حمیرا کنول سے ساہیوال واقعے کے بعد کی۔

اس وقت ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر بار بار ساہیوال واقعے اور اس میں متاثر ہونے والے بچوں کی ویڈیوز چل رہی ہیں۔ بچوں کو بار بار اسی واقعے کے اندر لے جایا جا رہا ہے یہ سوال کر کے کہ بیٹا بتاؤ کیا ہوا تھا؟

یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ سے کسی گزرے ہوئے واقعے کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو آپ اپنے ذہن میں اس واقعے کو یاد کرتے ہیں دوہراتے ہیں۔ پھر آپ کسی کو اس کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ساہیوال میں بھی بچوں کے ساتھ یہی کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کے ذہنوں پر ایک شدید نقش چھوڑ رہا ہے جو کہ غلط ہے۔

ہو سکتا ہے کہ آپ لوگ یہ سوچ رہے ہوں کہ ہم ان کی مدد کر رہے ہیں ٹھیک ہے آپ انھیں انصاف دلوانا چاہ رہے ہوں گے لیکن یہ طریقہ کار بہت غلط ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ قانون موجود ہے کہ آپ بچوں کے سامنے ان کی موجودگی میں اس قسم کی کوئی کارروائی کسی صورت میں نہیں کر سکتے۔

نفسیاتی معالجین کے مطابق اس قسم کے واقعات میں بچے ڈراؤنے خواب، اکیلے پن، کھانے اور سونے کے اوقات کے متاثر ہونے کا شکار ہو سکتے ہیں ان کے سامنے اگر ایسا واقعہ ہو گیا ہے تو آپ فی الحال ریلیکس ہونے کے لیے چھوڑ دیں۔ یہ پہلی ترجیح ہونی چاہیے انھیں اس وقت کونسلنگ کی ضرورت ہے۔

بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں اور اِن بچوں کے والدین کی طبعی موت نہیں ہوئی یہ چیز ان پر منفی اثرات چھوڑتی ہے۔ یہ واقعہ اور بار بار اس کی یاد دلانا انھیں مستقبل میں بہت سی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کر سکتا ہے۔ بطور نفسیاتی معالج ایسے بچوں کا علاج کرنا بھی بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ یاداشت کو کھرچ دینا بالکل ختم کرنا خاص طور پر بچوں کے معاملے میں اتنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے ہمیں اپنے بچپن کی باتیں شاید حال کی کچھ باتوں سے زیادہ اچھی طرح یاد ہوتی ہیں۔

بچوں کی یاداشت بہت اچھی اور پکی ہوتی ہے اور ایسی صورتحال کا شکار ہونے کے بعد وہ زیادہ مشکل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایسا ان کے لیے ڈراؤنے خواب، اکیلے رہنے کو ترجیح دینا یعنی گھُلنا ملنا پسند نہ کرنا، کھانے اور سونے کے اوقات متاثر ہونے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔

صدماتی کیفیت کے شکار بچوں کے علاج کے لیے ان کی شخصیت کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور ان سے 10 سے بارہ اور کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ سیشنز کیے جاتے ہیں۔ اس کے عمومی طریقہ کار میں پہلے سیشن میں بچے سے ملاقات کی جاتی ہے اور دوسرے سیشن میں اس سے باضابطہ بات چیت کا آغاز کیا جاتا ہے اگر وہ بات کرنا پسند نہ کرے تو پلے تھراپی )یعنی کھیل کے ذریعے) یا ڈرائینگ تھراپی کے ذریعے اس کی ذہنی صورتحال کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ کس بچے کو کتنا وقت دینا ہے اور کتنے دن بعد دوسرے سیشن کے لیے بلوانا ہے یہ فیصلہ ہر بچے کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

ان کے چہروں کو آپ دیکھیں وہاں معصومیت، خوف آور آنسو ہیں۔ ان بچوں کو ہم اسی طرح تکلیف سے نکال سکتے ہیں کہ ہم انھیں پہلے تھوڑا وقت دیں۔

اس وقت ہر چیز ساتھ ساتھ کیے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو بچوں کو سوائے اذیت کے اور کچھ نہیں دے رہا۔

اس میں ہمارے سماجی رویے بھی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بچوں کے رشتہ دار اور اردگرد کے لوگ بھی بار بار ان سے پوچھتے ہیں کہ ہاں بیٹا بتاؤ کیا ہوا ہے جو کہ بہت منفی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نیب نے اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کو طلب کر لیا

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) نیب خیبر پختونخوا نے اسپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی کو 26 فروری کو ...