ہفتہ , 23 فروری 2019

محمد حنیف کا کالم: بزدار صاحب، بچہ سو رہا ہے

کسی رپورٹر نے، کسی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ آخر بچہ سویا کیسے۔ رو رو کر ہلکان ہو کر سویا یا کیمروں کے سامنے اپنے ماں باپ کی ہلاکت کا واقعہ دہرا کر تھک گیا اور آنکھ لگ گئی۔

ہو سکتا ہے کہ ساہیوال کے کسی مہربان ڈاکٹر نے نیند کی ہلکی سی گولی یا انجکشن دیا ہو کہ بچہ کچھ دیر کے لیے بھول جائے کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ بچوں والے جانتے ہیں کہ سویا ہوا بچہ، تھک کے سویا ہوا بچہ سب سے اچھا بچہ ہوتا ہے۔

اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو کبھی شک ہوتا ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے، یا نالائق ریاست ہے تو وہ اس سوتے ہوئے بچے کو دیکھ لے، اس سوتے ہوئے بچے کے اوپر پھولوں کا گلدستہ لے کر تصویر کھنچواتے وزیراعلی کو دیکھ لے تو یقین آ جائے گا کہ یہ ایک فعال اور ان تھک ریاست ہے۔

اس میں ساہیوال کے چوک میں مبینہ دہشت گردوں کے بچوں کو گاڑی سے نکال کر ان کو مارنے والے، اس کے بعد جے آئی ٹی بنانے والے اور پھول بیچنے والے اور گلدستہ پکڑ کر سوتے ہوئے بچے کے سر پر کھڑے ہو کر تصویر بنوانے والے، سب کے سب ایک پیج پر ہیں۔

میں نے دہشتگردوں کو ہلاک کی جانے والی ویڈیو نہیں دیکھی۔ مجھ سے بچے کے بیانات کی ویڈیو نہیں دیکھی گئی۔

لیکن میں سوتے ہوئے بچے، اور اس کے اوپر پھولوں کا گلدستہ لے کر کھڑے پنجاب کے حکمران کی تصویر سے نظریں نہیں ہٹا سکتا۔ مجھے سوتے ہوئے بچے اچھے لگتے ہیں، پھول بھی اچھے لگتے ہیں، پاکستان بھی پیارا لگتا ہے اور اس تصویر میں سب کچھ موجود ہے۔

بھول جائیں پولیس والوں کو، ان کی بندوقوں کو جو ہمارے بچوں کی حفاظت کے لیے ہمارے پیسوں سے انھیں لے کر دی گئی ہیں۔

جے آئی ٹی بنانے والوں کے بارے میں نہ سوچیں، اُن وزیروں کی بے بسی کو بھی چھوڑیں جو ساتھ آئی ایس آئی کا نام لے کر اپنی جان بخشوانے کے چکر میں ہیں۔ صرف یہ سوچیں کی ہماری ریاست کتنی فعال ہے۔

شہر ساہیوال میں وقوعہ ہوتا ہے۔ اِسلام آباد سے ہمارے وزیراعظم عمران خان فون اٹھا کر لاہور میں اپنے وزیراعلیٰ کو فون کرتے ہیں کہ فوراً پہنچو۔ بزدار صاحب اپنے انتہائی اہم کام چھوڑ کر ساہیوال کو روانہ ہوتے ہیں، رستے میں سارے اضلاح کی پولیس الرٹ پر ہے کہ وزیرِ اعلی کا قافلہ طوفان کی رفتار سے ساہیوال کی طرف بڑھ رہا ہے، پروٹوکول کی سائرن بجاتی گاڑیوں کے ساتھ لاہور سے ساہیوال پہنچنے میں دو گھنٹے تو لگ ہی جاتے ہیں۔

عمران خان صاحب نے جب بزدار صاحب کو فون کیا ہوگا تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ نہیں کہا ہوگا کہ ساتھ ایک گلدستہ بھی لیتے جائیے گا۔ نہ ہی میرا خیال ہے کہ بزدار صاحب نے اپنے سٹاف کو کہا ہو گا کہ رستے میں کہیں رک کر کچھ پھول خرید لیتے ہیں۔

ایک حکمران ایک معصوم بچے کو انصاف دلوانے کے لیے اپنے قافلے کے ساتھ طوفانی رفتار سے ساہیوال کی جانب رواں دواں ہے اور ریاست کی کرشمہ سازی یہ ہے کہ کوئی اہلکار اتنا دوراندیش ہے کہ گلدستے کا بندوبست کر لیتا ہے۔

کیونکہ اسے پتہ ہے کہ جب حکمران اور مظلوم فریادی، ایک مبینہ دہشتگرد کا معصوم بچہ (ابھی تک بچے پر کوئی الزام نہیں لگا تو میرا خیال ہے کہ معصوم کہنے کی اجازت ہے) آمنے سامنے آئیں گے کو تصویر بنے گی اور تصویر میں اگر کچھ پھول ہوں تو بہتر لگے گا۔

سوتے ہوئے بچے کے اوپر گلدستہ لے کر کھڑے تصویر بنواتے حکمر ان کو دیکھ کروہ تصویریں بھی یاد آتی ہیں جو پرانے شکاریوں کے گھروں میں لگی ہوتی ہیں۔ شکاری عام طور پر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ انہیں جانوروں سے پیار ہے اس لیے تصویروں میں وہ کسی شیر یا مارخور کا شکار کرنے کے بعد اسکے اوپر ایک پیر رکھ کر تصویر کھنچواتے ہیں۔

لیکن شکر ہے کہ بچہ زندہ ہے، صرف سو گیا ہے۔

سوتے ہوئے بچے سب سےاچھے ہوتے ہیں۔ یہ بچہ بھی خوابوں میں فٹ بال کھیل رہا ہوگا، یا کرکٹ کے میچ میں کوئی بہت مشکل کیچ پکڑ رہا ہوگا۔ جب ایسے خوابوں سے آنکھ کھلتی ہے تو کچھ لمحوں کے لیے بچوں کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ ابھی نیند میں ہیں یا جاگ گئے ہیں، وہ کہاں ہیں اور کیوں ہیں۔

پاکستان کی فعال ریاست سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ بزدار صاحب کے جانے کے بعد بچے کو سونے دیا گیا ہوگا اور اس کے کمرے سے پھول ہٹا دیے گئے ہونگے کیونکہ نیند سے اٹھنے کے بعد کچھ لمحوں کے لیے بچے کو لگے گا کہ اس کے ماں باپ کہیں آس پاس ہیں اگر وہ پھول دیکھے گا تو اسے فوراً پتہ چل جائے گا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

پتہ نہیں بچے کو نیند کیسے آئی، لیکن اب سو رہا ہے تو تھوڑی دیر اور سونے دو۔

یہ بھی دیکھیں

نیب نے اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کو طلب کر لیا

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) نیب خیبر پختونخوا نے اسپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی کو 26 فروری کو ...