جمعہ , 23 اپریل 2021

کشمیر کا انسانی المیہ ۔ عالمی توجّہ کا طالب

(ریاض شاہ مشوانی)

بھارت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ کشمیریوں کو طاقت کے زور پر اپنا غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ بھارت کی فوجی قیادت نے بارہا اس حقیقت کا اعتراف بھی کیا ہے کہ طاقت کے استعمال سے مجاہدین کو شہید کرنے سے کشمیر میں جاری تحریک کو نہیں کچلا جاسکتا کیونکہ ہر کشمیری مجاہد کی شہادت کے بعد مزید کئی کشمیری نوجوان اس تحریک کا حصہ بن جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج نے "Operation All Out” شروع کررکھا ہے جس میں اب تک سیکڑوں کشمیری جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے‘شہید کیئے جاچکے ہیں۔ 2008میں کشمیری کی آزادی کی تحریک میں بڑی تعداد میں کشمیری نوجوانوں خصوصاً اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کے طلباء نے حصہ لینا شروع کیااور بھارت کی قابض افواج ان کا مقابلہ کرنے میں بالکل ناکام نظر آئیں۔ کشمیری نوجوانوں کی تحریکِ حریت میں شمولیت اور ان کیخلاف بھارتی قابض افواج کی بلا امتیاز فوجی کارروائیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2010کوکشمیری نوجوانوں کی شہادت کا سال قرار دیا گیا۔کشمیری نوجوانوں کی شہادتوں کے اس سلسلے نے جنت نظیر کشمیر کو موت اور قبرستانوں کی وادی میں تبدیل کردیا ہے۔ اسکے بعد سے تو کشمیری نوجوان اور بچے اس تحریک کا لازم و ملزوم اور فعال حصہ بن گئے ۔ کمسن بچّے اپنے ہاتھوں میں پتھر لئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے گلی کوچوں اور سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی قابض افواج اور اسکے انسانیت سوز مظالم پراپنی نفرت کے اظہار کیلئے ان پر پتھرأوکرنا ان کا معمول بن گیا۔کشمیری خواتین بھی اس سلسلے میں پیچھے نہیں رہیں۔

عالمی برادری کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر اختیار کی جانیوالی مجرمانہ خاموشی نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر بھارتی بے حسی کی راہیں ہموار کی ہیں اور اگر کسی عالمی فورم یا بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کشمیریوں کے حق میں یا ان کیخلاف جاری مظالم کے خاتمے کیلئے آواز بلند ہوتی ہے تو بھارت اسے بھی سنی ان سنی کردیتاہے۔ کئی ممالک کے سربراہان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے اس انسانی المیئے کے خاتمے کیلئے کشمیر کے مسئلے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی جسے بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے کبھی بھی درخورِ اعتناء نہیں سمجھا۔کشمیری نوجوان طلباء اپنی آزادی کیلئے جس طرح اپنی زندگیوں کی قربانیاں دے رہے ہیں اسکی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں پچھلے 71سال سے حاصل ہونیوالے تجربات کے بعد بھی یہ سمجھنے اور قبول کرنے پر آمادہ نہیں کہ کشمیری اپنے جمہوری اور پیدائشی حق کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں اور وہ کسی قیمت پر اپنے اس حق سے دستبردارنہیں ہوں گے۔ کشمیریوں کے اس جمہوری حق کو بھارت سمیت دنیا کی تمام قومیں تسلیم کرتی ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں اپنے اس تسلیم شدہ حق سے محروم نہیں کرسکتی۔ بھارت نے دراصل مقبوضہ جموں و کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر بھی کڑی پابندیاں عائد کررکھی ہیں تاکہ وہاں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ظلم و ستم کی خبریں ذرائع ابلاغ تک نہ پہنچ پائیں اسلیئے موبائل اور انٹر نیٹ سروس کی بندش معمول کی بات بن چکی ہے۔ پرنٹ میڈیا پر بھی کڑی پابندیاں لگادی جاتی ہیں، کسی انسانی حقوق کی مقامی یا بین الاقوامی تنظیم کو مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں ۔ کئی بار عالمی تنظیموں کی جانب سے سفارش کی گئی کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مقبوضہ کشمیر میں جانے اور حقیقتِ حال جاننے کی اجازت دی جائے لیکن بھارت نے اسے ہمیشہ رعونت سے ٹھکرادیا ۔

بھارت مقبوضہ وادی میں اپنی ریاستی قوت بلکہ ریاستی دہشتگردی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے نہتّے کشمیریوں پر جان لیوا اور مہلک ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے ا ور معصوم لوگوں کو موت کے گھاٹ اتاررہا ہے۔ بھارتی قابض افواج کی طرف سے طاقت اور دیگر فریبی ہتھکنڈوں کے ا ستعمال کا مقصد کشمیریوںکو خوفزدہ کرنا اور انکی آزادی کی تحریک کو دبانا ہے۔ بھارتی قابض افواج اپنے مظالم سے دنیا کو یہی پیغام دے رہی ہیں کہ انکے نزدیک نہ تو انسانی جان و مال اور حقوق کی کوئی قیمت اور حرمت ہے اور نہ ہی اسے کسی عالمی قانون اور انسانوں کے جمہوری اور بنیادی حقوق کا کوئی پاس ہے۔

یہ کہنا بجا ہو گا کہ بھارت نے احتجاج کے جمہوری حق کو بھی کشمیریوں کیلئے ایک سنگین جرم بنادیا ہے۔ ایسے واقعات کی بڑھتی شرح سے یہ جاننا مشکل نہیں کہ مودی حکومت باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے۔ بھارت کی انتہا پسند حکومت نے قابض افواج کو کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ وہ احتجاج کرنیوالوں کی آواز دبانے کیلئے جس حد تک چاہیں کشمیریوں کا خون بہاسکتے ہیں ان سے کبھی بازپرس نہیں کی جائیگی۔کشمیر کا انسانی المیہ دنیا کی توجہ کا طالب ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ اس کی جانب فوری توجہ دی جائے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالات پر عالمی برادری کی خاموشی نے بھارت کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ آزادی کیساتھ جتنے کشمیریوں کوچاہے قتل کرے۔بھارت یہ بات سمجھ نہیں پارہا کہ کشمیری بھارت اور اسکی قابض افواج کی غلامی سے آزادی اور نجات چاہتے ہیں۔ بھارتی قابض افواج کے مظالم کی وجہ سے کشمیر کا بچہ بچہ اور نوجوان بھارت اور اسکی قابض افواج سے نفرت کرنے پر مجبور ہو گیا ہے اور ہر گزرتے دن کیساتھ انکے غم و غصہ میںاضافہ ہورہا ہے۔کشمیری بھارتی قبضے سے تنگ آچکے ہیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ انکی خواہش ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اورصاف شفاف رائے شماری کے ذریعے اپنے راستے کا خود انتخاب کریں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیریوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ انہیں استصوابِ رائے کا پورا پورا موقع دیا جائیگا لیکن یہ وعدہ تاحال پورا نہیں کیا جاسکا۔بھارت کو مقبوضہ کشمیرکی نوجوان نسل کی جانب سے سخت مزاحمت کاسامنا کرنا پڑرہا ہے اور حالات یہ بتا رہے ہیں کہ جب تک کشمیری زندہ ہیں انکی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ بھارت کے ناجائز قبضے کیخلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔بھارت کشمیریوں کی خواہشات کا احترام نہ کرتے ہوئے اپنی بالا دستی اور حکمرانی کو اپنی سات لاکھ فوج، کالے قوانین اور پابندیوں کے ذریعے ان پر مسلط کرنا چاہتا ہے جو کشمیری اب زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے اورکشمیری نوجوانوں کا عزم اس امر کی گواہی دے رہا ہے کہ جلد ہی کشمیری اپنی آزادی کی منزل پالیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …