بدھ , 23 جون 2021

امریکہ کی نہ ختم ہونے والی جنگیں اور صدر ٹرمپ

(جانتن مارکس)

‘ہم جانتے ہیں کہ جب کہیں سے امریکی فوجی نکلتی ہے تو وہاں افراتفری پھیلتی ہے’۔ یہ استدلال امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے قاہرہ میں اپنی تقریر کے دوران اختیار کیا۔لیکن مائیک پومپیو کے ان کلمات سے خطے میں موجود واشنگٹن کے اتحادیوں میں پائی جانے والی تشویش میں کمی نہیں ہو سکی۔ کیا شام سے امریکی فوج نکل رہی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کب تک؟ اور اگر نکل رہی ہے تو کب؟

امریکی وزیر خارجہ کی یہ تقریر خطے میں امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ تھی اور اس ضمن میں دیے جانے والے بیانات سے پیدا ہونے والے ابہام کو بڑی حد تک ختم کرنا تھا۔لیکن وائٹ ہاؤس میں موجود اپنے باس کی تقلید کرتے ہوئے پومپیو نے بھی اپنا زیادہ تر وقت خطے میں اوباما کی پالیسی پر تنقید کرنے میں صرف کیا اور موجودہ صدر کے دور میں ہونے والی پیش رفت سے اس کا موازنہ کرتے رہے۔

لیکن پومپیو کے کلمات میں کچھ اہم چیزیں شامل نہیں تھیں۔ سعودی عرب اور مصر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر کوئی بات نہیں کہی گئی۔ سعودی عرب کا محض ذکر کیا گیا جبکہ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو امریکی خارجہ پالیسی کا ایک بہت اہم عنصر ہے۔ یمن کے بحران کا بھی صرف ضمناً تذکرہ کیا گیا، خلیج ممالک کے درمیان اختلافات سے کترا کر آگے نکل لیے اور صدر ٹرمپ کے مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے امن منصوبے کا بالکل ذکر ہی نہیں کیا۔

ٹرمپ کے وعدے
زور صرف اس بات پر رہا کہ خطے میں واشنگٹن کے دوستوں اور اتحادی ملکوں کو ‘ڈو مور’ کی ضرورت ہے۔ امریکہ بظاہر پس پردہ رہتے ہوئے، بقول پومپیو کے شام میں موجود ایرانیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے سفارت کاری کا استعمال کرے گا اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعاون کرتا رہے گا۔ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا امریکی پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے لیکن اقتصادی پابندیوں کے علاوہ اس بارے میں ان کے پاس مزید کرنے کو کچھ نہیں ہے۔

مسئلہ شام میں دو ہزار امریکی فوجیوں کی موجودگی یا ان کے انخلا کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکی فوجیوں کی موجودگی یا ان کا انخلا کس طرح وسیع تر مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

شام سے امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کی پوری کہانی صدر ٹرمپ کی خطے میں پالیسی اور ان کے خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس پوری داستان سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کا طرز حکومت کیا ہے۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کی بعد از خرابی بسیار یہ کوشش کے انخلا کے اس اعلان کو مشروط کیا جائے،اعلان ہونے سے پہلے کی جانی چاہیے تھی بلکہ حتمی اعلان کرنے سے پہلے اس مشورے پر غور کیا جانا چاہیے تھا۔واشنگٹن میں موجودہ بین الاقوامی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کی طرف سے سامنے آنے والا سخت رد عمل غیر متوقع نہیں تھا۔

اس بارے میں جو رائے دی گئی یا بلاگ لکھے گئے ان میں اسے واشنگٹن کی طرف سے کرد اتحادیوں کو دھوکہ دینے کے مترادف قرار دیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ خطے میں روس کا اثر بڑھے گا اور ایک خلا پیدا ہو گا جس کا فائدہ براہ راست ایران کو ہو گا۔

یہ سب کچھ کسی حد تک درست ہے۔ لیکن یہاں ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے اور اس کا تعلق صدر ٹرمپ کے خیلات اور ان کی سمندر پار فوجی کارروائیوں کی طرف مخالفانہ ذہینیت سے ہے۔

کوئی واضح حکمت عملی نہیں
کچھ مبصرین نے صدر ٹرمپ کے اہم پالیسی معاملات میں رویے اور سٹریٹجک سوچ کی مذمت کی لیکن اس سب کے باوجود اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ان کے استدلال کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ دو ہزار فوجی شام میں آخر کیا حاصل کر سکتے تھے۔

صدر گو اپنے بہت سے مشیروں کے رویے سے انتہائی بیزار ہیں لیکن وہ اسلامی شدت پسندوں کے خلاف لامتناہی جنگ کو اگر ختم نہیں کر رہے تو کم از کم اس کو کم ضرور کر رہے ہیں۔

یہ جنگ نیو یارک پر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کی دہشت گردی کے بعد افغانستان پر حملے سے شروع ہوئی تھی۔ افغانستان سے شروع ہو کر یہ عراق پہنچ گئی۔

جس طرح جنگ کا دائر کار وسیع ہوتا چلا گیا امریکہ کو اپنے ماضی کے پالیسی فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر عراق میں صدام حسین کو ہٹائے جانے کا براہ راست نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کا خطے میں اثر بڑھنے لگا۔ گو کہ شام سے امریکی فوج کے انخلا کے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر سب کی توجہ ہے لیکن صدر ٹرمپ نے افغانستان سے بھی فوجیوں کو نکالنے کی بات کی ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ افغانستان سے سات ہزار یعنی آدھے امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔

یہاں بھی مبصرین اور تھنک ٹینک کے درمیان ان ہی خطوط پر اختلافات ہیں کچھ امریکی افواج کی تعیناتی پر سول اٹھا رہے ہیں اور یہ پوچھ رہے ہیں کہ ایسی جنگ میں شامل رہنا جس میں کسی کی جیت ممکن نہیں کا کیا مطلب ہے۔ ‘

صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ امریکی کبھی ختم نہ ہونے والی جنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کا یہ خیال کسی حد تک درست بھی ہے۔ صدر ٹرمپ بین الاقوامی تعلقات کو سودے بازی کی نظر سے دیکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ ہ وہ نیٹو میں اپنے اتحادی ناقدین کے بجائے آمرانہ حکمرانوں سے تعلقات رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اب روس اور چین کی بڑھتی طاقت۔ روس اور چین طاقتور ہو رہے ہیں عالمی معاہدے الٹ دیے گئے اور صدر ‘پہلے امریکہ’ کے اپنے نعرے کو سچ ثابت نہیں کر سکے۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

غلیل سے میزائل تک، فلسطین بدل رہا ہے

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس پچھلے گیارہ دن سے جاری جنگ کے خاتمے کا اعلان کر …