اتوار , 11 اپریل 2021

جہاں دیدہ صہیونی دانشور نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اسرائیل کے ایک سیاسی تجزیہ نگار نے خبردار کیا ہے کہ ایک المناک سانحہ اور المیہ صہیونی ریاست کا منتظرہے اور اس سانحے کی اسرائیل کو بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ صہیونی تجزیہ نگار شمعون شاباس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریاست کی قیادت کو غرور اور گھمنڈ ختم کرکے فلسطینیوں کے لیے تمام امکانات بند کرنے سے باز آنا ہوگا۔ اگر تکبر اور غرور کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے لیے تمام دروازےبند کردیے گئے تو اس کے نتیجے میں اسرائیل کو ایک بڑی تباہی کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

شمعون شاباس اسحا رابین کی حکومت نے ان کے وزیراعظم ہائوس کے چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں۔ حال ہی میں انہوں‌ نے اخبار’یدیعوت احرونوت’ میں ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے لکھا کہ اسرائیل سنہ 1973ء کی جنگ سے بڑے المیے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اب کی بار یہ شکست عرب ممالک سے نہیں بلکہ فلسطینیوں سے ہوسکتی ہے۔

صہیونی تجزیہ نگار نے لکھا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ داخلی صورت حال دگر گوں ہے۔ سیاسی قیادت تکبر اور غرور کا شکار ہے۔ سنہ 1973ء کی جنگ سے قبل بھی ایسے ہی حالات تھے جس کے نتیجے میں ہزاروں اسرائیلیوں کو اپنی جانیں قربان کرنا پڑی تھیں۔

صہیونی تجزیہ نگار کے مطابق 50 سال کے بعد ہم ایک بار پھر ایک ایسی ہی متکبر سیاسی قیادت کے سائے میں جی رہے ہیں۔ موجودہ اسرائیلی سیاسی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ وہ طاقت کے ذریعے غزہ اور غرب اردن کو اپنے تسلط میں لے لے گی اور ساتھ ہی ساتھ وہ فلسطینیوں کے ساتھ کوئی سمجھوتا بھی کرلے گی مگر یہ اس کی غلط فہمی اور خام خیال ہے۔

شاباس نے لکھا کہ سابق اسرائیلی وزیر دفاع موشے ڈایان نے بھی کہا تھا کہ وہ مصر کے ساتھ امن معاہدے کے بغیر شرم الشیخ پہنچ سکتے ہیں مگر اسرائیل کو بالآخر مصر کے ساتھ پسپائی اختیار کرتے ہوئے معاہدہ کرنا پڑا۔ اسرائیل کو جزیرہ نما سیناء سے فوج واپس بلانا پڑی اور مصر کے ساتھ عالمی سرحدوں کو قبول کرنا پڑا۔

صہیونی دانشور کے مطابق سنہ 1967ء کی جنگ سے لے کر 1973ء کی جنگ تک اسرائیلیوں کی زندگی مسلسل حالت جنگ میں رہی۔ اس دوران 2700 اسرائیلی ہلاک اور 2700 زخمی ہوگئے۔

آج کی اسرائیلی قیادت بھی اسی پرانے ڈگر پرچل رہی ہے۔ موجودہ قیادت بھی غرور اور گھمنڈ کا شکار ہے۔ آج اسرائیلی قیادت کا گھمنڈ اور تکبر شامیوں اور مصریوں کے خلاف نہیں بلکہ فلسطینیوں کے خلاف ہے۔

صہیونی دانشور نے نیتن یاھو حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اپنا سر ریت میں چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت غلطیوں کے ساتھ مسلسل تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے اور بم آتش فشاں پھٹنے کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …