جمعہ , 23 اپریل 2021

پولیس گردی ۔ آخر کب تک؟؟

(محمد عارف میمن) 

گزشتہ روز میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔ ویڈیو میں تین ننھے پھول اسپتال میں روتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے امی ابو کو پولیس والوں نے مار دیا۔ مکمل ویڈیو دیکھنا کسی بھی انسان کے بس میں نہیں۔ تاہم جتنی ویڈیو دیکھ سکا اس کے بعد سے اب تک دل کو سکون میسر نہیں۔ ہر وقت ان ننھے پھولوں کی رونے اورشدت تکلیف سے کراہنے کی آوازیں کانوں میں گونجتی ہیں۔

وطن عزیز میں پولیس گردی کوئی نئی بات نہیں،کراچی ہو یا لاہور،فیصل آباد ہو یا حیدرآباد ہر جگہ پولیس گردی کے شکار لوگ نظرآتے ہیں۔ قانون کے نام پر وردی پہن کر لوگوں کی حفاظت کا حلف اٹھانے کے بعد جب عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو ان کا بھیانک چہرہ دیکھ کر ہی انسان خوف زدہ ہوجاتا ہے۔ ساہیوال،قادرآباد کے قریب پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی فائرنگ سے ماں بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور 3 بچے زخمی ہوگئے۔ یہ محض اداروں کے لیے ایک خبر اورسننے والوں کے لیے صرف ایک لمحہ کے لیے صدمے کا باعث ہوگا۔ لیکن جس گھرپریہ قیامت ٹوٹی ہے اس کا حال تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے،جو قیامت ان بچوں پر آئے روز اب گزرے گی یہ وہ ہی جانتے ہیں ۔

پنجاب پولیس کی تاریخ میں اس قسم کے واقعات بھرے پڑے ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن آج بھی تازہ لگتا ہے۔ اس میں بھی پولیس نے اپنی کالی وردی کی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے 17نہتے لوگوں کو شہید کردیا تھا۔جس طرح ہر سانحے کے بعد انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں ،جے آئی ٹی بنتی ہے اس واقعے پر بھی پہلی فرصت میں روایتی جے آئی ٹی اور انکوائری کمیٹیاں بنا دی گئیں ہیں ۔ ہمارے منتخب کردہ عوامی نمائندوں کی طرف سے بھی روایتی بیان داغ دیا گیا ہے کہ جوگنا ہ گارہوگا اسے سزا ملے گی۔ لیکن اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے کبھی کسی نے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ، قانون کی بالادستی کی بات ضرور ہوتی ہے مگر عملدرآمد کبھی کسی نے نہیں کروایا اورنہ ہی کمزور قانون کے باعث اب تک کسی بھی مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکا ہے۔ زینب قتل کیس بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ہی عوام الناس تک پہنچا اور عوام الناس نے ہی اس پر آواز اٹھائی جس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اورچند دنوں بعد مجرم عمران قانون کے ہتھے چڑھنے میں کامیاب رہا۔ عمران کی گرفتاری میں پولیس سے زیادہ عوام کا کردار رہا جنہوں نے دن رات ایک کرکے عمران کا سراغ لگانے میں خفیہ اداروں کے ساتھ تعاون کیا۔ لیکن ایسے کئی کیس اب بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جن کے ملزمان آج بھی قانون کا مذاق اڑاتے ہوئے قانون کی چھتری تلے کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں اور دوسرے معصوموں کی زندگی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی پلاننگ میں مصروف ہیں۔

میڈیا پرآنے والی اس ویڈیو میں یہ ننھے پھول جو ابھی نہ توکچھ کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچاؤ کے لیے کچھ سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی ان میں بدلہ لینے کی طاقت ہے وہ بلک بلک کر ہم سے سوال کررہے ہیں کہ ہمارا کیا قصور؟ ہمیں کیوں اس قیامت کے لیے چنا گیا؟کیوں ہمارے ماں باپ کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کردیا گیا؟ کیا دنیا میں ہم اپنی مرضی سے آئے جس کا خمیازہ اب ہمیں بھگتنا ہوگا یا پھر ہمیں اس لیے ہی دنیا میں لایا گیا کہ ہم پراس طرح کا ظلم کیا جائے۔ ابھی تو ہم نے ٹھیک سے بولنا بھی نہیں سیکھا‘ابھی تو ہم نے چلنا بھی نہیں سیکھا‘ابھی تو ہم نے ممتا کا چہرہ بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا‘ابھی تو ہم نے چڑیا کو چہچاتے ہوئے ہی دیکھا ہے ‘ ابھی تو ہم نے پھول کھلتے ہوئے ہی دیکھے‘ابھی تو ہم نے خدا کی خلق کو ٹھیک سے جانا بھی نہیں ‘ابھی تو ہم نے مذہب کوبھی نہیں سمجھا۔ہمیں تو یہ بھی علم نہیں کہ مارنے والا کون ہے نہ ہم یہ جانتے ہیں ہمیں اس درد بھری زندگی سے آشنا کیوں کرایا جارہا ہے ۔ نہ ہم اس کی فریاد کسی سے کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچاؤ کے لیے کچھ کرسکتے ہیں۔ ابھی ہم اس قابل نہیں کہ بدلہ بھی لے سکیں۔ بے شک ہم پر ہونے والایہ ظلم اس ریاست پر قرض ہے۔ اس ریاست کے امیر قاضی پر قرض ہے اور اس ریاست کے سپہ سالا ر پر قرض ہے۔

یہ حاکم وقت کی ذمے داری ہے کہ وہ اس پر فوری ایکشن لے کیوں کہ ان ننھے پھولوں کے ساتھ ہونے والا ظلم قیامت صغریٰ سے کم نہیں ،یہ صرف ریاست نہیں بلکہ ریاست کے سپہ سالار اور امیر قاضی پر واقعی ایک بہت بڑا قرض ہے۔ اس قرض کو اتارنا اب ریاست اور ریاستی اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ ان ننھے پھولوں کوانصاف فراہم کریں اوران کے والدین کو ناحق قتل کرنے والے جانوروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں ۔ ریاست اگر اس میں کوتاہی برتتی ہے تو یہ ان معصوم فرشتوں پر مزید ظلم ہوگا۔جس کا جواب امیر ریاست کو اللہ کے سامنے ضروردینا ہوگا۔

یہ ننھے فرشتے اگر کسی مقبول ومعروف شخصیات کے ہوتے تو شاید اب تک پولیس وردی میں ملبوس کالی بھیڑیں قانون کی پکڑمیں آچکی ہوتیں۔ لیکن شاید یہ کسی غریب کے آنگن کے پھول ہیں اس لیے وزیراعلیٰ پنجاب نے اس پر بات تک کرنے سے گریز کیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف کے حصول کے لیے ہمیں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرناہوتا ہے، کیوں کہ ایک غریب کی پہنچ نہ تو حاکم وقت تک ہے اور نہ ہی ریاست کے امیر قاضی تک۔ ایسے میں انصاف کے متلاشی کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے اور وہ ہے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرے۔

ہمارے محافظ بھی بلاشبہ اب ہمارے نہیں رہے۔ ان کی ذمے داری میں عوام الناس شامل نہیں بلکہ اب وہ لوگ شامل ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت یا جن کی جیب میں مال ہو‘ہمارے محافظوں کا جھکاؤ ان کی طرف زیادہ رہتا ہے۔ کبھی پولیس کے نام سے لوگوں کے دلوں میں اطمینان آتا تھا مگر آج ایک عام آدمی پولیس کا نام سن کر ہی خوف زدہ ہوجاتا ہے۔ تھانہ کلچر کا جس طرح فروغ کیا گیا اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ہمارے محافظ روڈ پر کھڑے ہوں تو ہمیں اپنے لٹنے کاڈر لگا رہتا ہے۔ پروٹوکول میں چل رہے ہوں توسڑک پر کچلے جانے کا ڈر لگا رہتا ہے‘تھانے میں ہوں تو خود کو ہی مجرم سمجھنے لگتے ہیں ۔یہ کمزوریاں صرف قانون میں نہیں بلکہ ناقص سسٹم کی بھی واضح مثال ہے جسے اب بدلنا ہوگا ورنہ آج جس طرح قانون کے نام پر لوگوں کو قتل عام کیاجارہا ہے کل یہ ہاتھ امیروں کے گریباں پر بھی ہوں گے۔بشکریہ دنیا نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …