منگل , 13 اپریل 2021

قطر کا دورہ، منی بجٹ اور مسائل میں گھری تحریک انصاف

(سید مجاہد علی)

وزیر اعظم عمران خان قطر کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے آج رات تک وطن واپس آجائیں گے۔ کل وزیر خزانہ اسد عمر قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرنے والے ہیں جس میں حکومت کی آمدنی میں اضافہ کے علاوہ صنعتوں اور تاجروں کو سہولت دینے کے لئے اقدامات کا اعلان متوقع ہے۔ تاہم اس منی بجٹ کے ذریعے حکومت کی پہلی ترجیح آمدنی میں اضافہ ہے۔ یہ اضافہ خواہ کسی بھی نام سے کیا جائے، اس کا بوجھ عوام کو ہی اٹھانا ہے۔ تاہم منی بجٹ کی صورت میں وزیر خزانہ کی تقریر سے پہلے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یہ اپنا فرض سمجھا کہ وہ اس معاملہ کو اپنی حکومت اور پارٹی کا ’کارنامہ‘ بنا کر پیش کریں۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں فواد چوہدری نے منی بجٹ کو تحریک انصاف اور حکومت کا ’معاشی ویژن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پہلے پانچ ماہ سابقہ حکومتوں کے پیداکیے ہوئے معاشی بحران کو ختم کرنے میں صرفکیے ہیں لیکن اب وزیر خزانہ تحریک انصاف کے پروگرام کے مطابق منی بجٹ کے ذریعے ایک نئے معاشی راستے کا تعین کریں گے۔

عوام کے علاوہ اقتصادی ماہرین بھی وزیر اطلاعات کے اس دعویٰ سے متفق نہیں ہوں گے۔ عوام کی معاشی مشکلات میں بڑھتے ہوئے افراط زر اور صنعتی و تجارتی شعبہ میں پائی جانے والی بے یقینی کی وجہ سے اضافہ ہؤا ہے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی بجائے منفی معاشی اشاریوں کی وجہ سے متعدد شعبے دباؤ کا شکار ہیں اور لوگوں کے بے روزگار ہونے کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پالیسی کے طور پر ترقیاتی منصوبوں کو روکا ہے اور ان کے لئے فراہمکیے گئے وسائل بند کردیے گئے ہیں یا ان میں کمی کی گئی ہے۔

ان منصوبوں کے رکنے یا ان کی رفتار کم ہونے کی وجہ کے دو اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع کم ہوں گے جو ان منصوبوں کی وجہ سے انہیں میسر آتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ترقیاتی کاموں میں تعطل کی وجہ سے متعدد بنیادی سہولتوں میں کمی واقع ہوگی جن میں شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کے علاوہ دوسری فلاحی ضرورتیں شامل ہیں۔ ان سے صحت اور تعلیم کے شعبے بھی متاثر ہوں گے حالانکہ تحریک انصاف ان شعبوں کو ترجیح دینے کی بات کرتی رہی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے ڈیڑھ سو دن، ادائیگیوں کا توازن قائم کرنے اور ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے پر صرف ہوئے ہیں۔ حکومت کی یہ کوششیں ابھی تک جاری ہیں کیوں کہ نامعلوم وجوہات یا حکومت کے مالی ماہرین کی بے یقینی کی وجہ سے ابھی تک آئی ایم ایف سے مالی پیکیج لینے کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ وزیر خزانہ نے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا لیکن آئی ایم ایف سے باقاعدہ مالی امداد کے معاہدہ کے لئے بھی پیش رفت نہیں کی گئی۔

اسے البتہ وزیر خزانہ اور حکومت کے بعض عقابی ترجمان سیاسی مقبولیت کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں جن میں یہ بنیادی نکتہ سامنے لانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ’حکومت کوئی ایسی شرائط قبول نہیں کرے گی جن سے عام لوگوں کے معاشی حالات متاثر ہوں‘ ۔ گویا یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آئی ایم ایف کوئی ایسا عوام دشمن ادارہ ہے جو کسی حکومت کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف پابندیاں لگانے پر مجبور کرکے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ موجودہ حکومت، سابقہ حکومتوں کے برعکس چونکہ ’دیانت دار اور عوام دوست‘ ہے، اس لئے وہ عوام کی ضرورتوں اور قومی مفاد کے خلاف کوئی معاہدہ نہیں کرے گی۔

اس قسم کی سیاسی بیان بازی کا آئی ایم ایف یا دیگر عالمی اداروں کی پالیسی پر تو کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا لیکن ملکی معیشت اور حکومت کی حکمت عملی کے بارے میں بے یقینی ضرور پیدا ہوتی ہے۔ یہ بے یقینی ملک کے معاشی احیا میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ عام طور سے مشکلات میں گھرے ہوئے ملکوں کو ہنگامی نوعیت کے مالی پیکیج فراہم کرتا ہے۔ کوئی بھی ملک آئی ایم ایف سے شدید مالی بحران کی صورت میں ہی رابطہ کرتا ہے۔

اس لئے یہ ادارہ متعلقہ ملک کی معیشت کو متحرک کرنے اور آمدنی کے ذرائع میں اضافہ کے لئے مختلف تجاویز پیش کرتا ہے۔ اسے عوام دشمن یا دوست کہنا درست رویہ نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ فوری نوعیت کے قرضے دیتے وقت آئی ایم ایف کے پیش نظر سب سے پہلے اپنے قرض کی واپسی کا مقصد ہو تا ہے۔ جب تک وہ اس بات کو یقینی نہ بنالے کہ کوئی حکومت معاشی اصلاح کے لئے ایسے بنیادی اقدامات کرنے پر تیار ہے جن کی روشنی میں آنے والے سالوں میں اس کا دیا ہؤا قرض واپس کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے، اس وقت تک وہ متعلقہ ملک کی درخواست قبول نہیں کرتا۔ پاکستان کے حوالے سے اس مشکل کے علاوہ معاملہ کا ایک سیاسی پہلو بھی درپیش ہے۔ امریکہ، پاک چین اقتصادی منصوبہ میں رخنہ ڈالنے کے لئے اب آئی ایم ایف کی امداد کو سی پیک کے بارے میں حدود کا تعین کرنے کے لئے بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔

یہ پیچیدہ اور گمبھیر معاملات ہیں۔ تاہم حکومت کی طرف سے ان پر ابھی تک قومی اسمبلی میں مناسب بحث کا آغاز نہیں کیا گیا۔ بلکہ سیاسی بیان بازی، دوست ملکوں سے قرض لینے اور ضمنی بجٹ کے بعد اب منی بجٹ پیش کرکے کام چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ نئے سال کے شروع میں منی بجٹ لانے کی بجائے حکومت کو نئے قومی بجٹ کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے تھی تاکہ وہ اپنی معاشی ترجیحات اور حکمت عملی واضح کرسکتی۔

منی بجٹ کے ذریعے محصولات کے حوالے سے چند تبدیلیاں کرنے کے علاوہ کوئی بڑا اقدام ممکن نہیں ہوسکتا۔ لیکن وزیر اطلاعات فواد چوہدری اسے حکومت اور پارٹی کا ویژن قرار دے کر کسی بنیاد کے بغیرعوام کی توقعات میں اضافہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہیں اور حکومت کے دیگر اراکین کو جلد ہی یہ اندازہ ہوجانا چاہیے کہ سابقہ حکومتوں پر لعن طعن کرنے اور بلند بانگ دعوے کرنے کی بجائے جب تک حکومت ایسی دوٹوک معاشی پالیسی سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہوگی جس کے براہ راست عام لوگوں کے گھریلو بجٹ پر اثرات مرتب ہوسکیں، اس وقت تک اس کی مشکلات میں کمی نہیں ہو سکتی۔ حکومت میں نصف برس پورا کرنے کے بعد اب عام لوگوں کے علاوہ ماہرین بھی سابقہ حکومتوں کی غلطیوں کا حساب جاننے کی بجائے نئی حکومت کے اقدامات کے نتائج کے بارے میں سوال کریں گے۔
وزیر اعظم عمران خان نے دیگر عرب ممالک اور چین کے دورہ کی طرح اب قطر کے دورہ کے دوران بھی پاکستان کے لئے مالی سہولت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے ایجنڈے میں سر فہرست قطر سے خریدی جانے والی ایل این جی کی ادائیگی میں رعایت اورتعطل کی بات شامل ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت شروع میں اس معاہدہ کو مسلم لیگ (ن) کی بد نیتی اور بدعنوانی قرار دیتے ہوئے نظر ثانی کی بات کرتی رہی ہے تاہم وزیر اعظم کے دورہ قطر سے پہلے وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے واضح کیا تھا کہ ان کی حکومت قطر کے ساتھ سابقہ دور میں ایل این جی کی خریداری کے پندرہ سالہ معاہدے کا احترام کرے گی۔

اس طرح قطری حکمرانوں کے ساتھ دو روزہ ملاقاتوں میں بنیادی نکتہ یہی رہا ہے کہ اس گیس کی ادائیگی کو کیسے اور کس حد تک مؤخر کروایا جاسکتا ہے۔ پاکستان اس سے پہلے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مالی پیکیج حاصل کرچکا ہے۔ اب وزیر اعظم کی کوشش ہوگی کہ وہ اسی قسم کا کوئی معاہدہ قطر کے ساتھ بھی کرلیں تاکہ گیس کی ادائیگی فوری طور پر نہ کرنا پڑے۔ عرب ملکوں سے ملنے والا وقتی مالی ریلیف البتہ پاکستان کے مالی مسائل کا حل نہیں ہے۔ کیوں کہ تیل یا گیس کی ادائیگی مؤخر ہونے کی صورت میں بھی جلد یا بدیر یہ قیمت تو ادا کرنا پڑے گی۔ اس کے لئے ملکی معیشت میں تحریک اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کی ضرورت ہوگی۔ حکومت اس مقصد سے کوئی لائحہ عمل سامنے لانے میں ناکام رہی ہے۔

ان مسائل سے قطع نظر چار روز قبل ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ایک ہی خاندان کے تین ارکان کی ہلاکت کا معاملہ بدستور پنجاب حکومت کے علاوہ تحریک انصاف کی اعلیٰ ترین قیادت کے لئے ٹیسٹ کیس بنا ہؤا ہے۔ اس حوالے سے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کے سربراہ نے ابتدائی طور پر آج رپورٹ پیش کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔ تاہم وزیر اعلیٰ کے دباؤ پر شام کے وقت ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون ایک روز پہلے یہ شواہد دیتے رہے تھے کہ سی ٹی ڈی نے ایک دہشت گرد کا پیچھا کرتے ہوئے اس گاڑی کو روکا تھا جس میں خلیل اور اس کا خاندان سوار تھا۔

تاہم جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد انہوں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں سی ٹی ڈی کو ’ذمہ دار‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے متعدد افسروں کو ہٹایا جائے گا۔ اس قسم کے اعلان البتہ عوام میں ابھرنے والے اشتعال اور مایوسی کو ختم کرنے کی کوشش کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی طرف سے رپورٹ آنے کے بعد ذمہ داروں کو مثالی سزائیں دینے کا اقدام اگر چند تبادلوں اور فورس کے ڈھانچہ میں تبدیلی کے اعلانات تک محدود رہتا ہے تو اس سے عوام کی بے چینی دور نہیں ہوگی اور یہ معاملہ بدستور تحریک انصاف کی مشکلوں میں اضافہ کرتا رہے گا۔

اس پس منظر میں کل کا منی بجٹ ہی تحریک انصاف کی حکومت کے لئے فیصلہ کن مرحلہ نہیں ہوگا بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آنے والے دنوں میں عمران خان سانحہ ساہیوال پر پیدا ہونے والی بے چینی کو دور کرنے کے لئے کون سے فوری اور انقلابی اقدامات کرتے ہیں۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …