ہفتہ , 17 اپریل 2021

شام پر اسرائیلی جارحیت اور خطے کے بدلتے حالات

(تحریر: سید اسد عباس)

گذشتہ دو تین روز سے شام اسرائیلی جارحیت کا شکار ہے، جس میں اسرائیل نے شام پر دسیوں کروز میزائل داغے ہیں۔ اسرائیلی اداروں کے مطابق یہ میزائل ایرانی قدس فورس کے ٹھکانوں پر داغے گئے، جس کا مقصد قدس فورس کو شام سے نکالنا ہے جبکہ قدس فورس کے عہدیداروں نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے۔ میزائل باری کا یہ سلسلہ گذشتہ کچھ برسوں سے جاری ہے۔ اس سے قبل بھی شام پر اسرائیل کی جانب سے میزائل داغے گئے، جن میں سے اکثر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ شام کی فضائی حدود کے نگہبانوں کے مطابق اس مرتبہ بھی اسرائیلی میزائلوں کی ایک بڑی تعداد کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔ نیتن یاہو میزائل باری کے ساتھ ساتھ دھونس اور دھمکی سے بھی استفادہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایرانی افواج کو شام سے نہ نکالا گیا یا شام سے اسرائیل پر حملہ کیا گیا تو اسرائیل بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دے گا۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ میزائل باری کا یہ سلسلہ شام کے علاقوں سے مقبوضہ جولان پر داغے گئے میزائلوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔ مگ نیتن یاہو کو کوئی یہ کہنے والا نہیں کہ حضرت یہ بات تو وہ کرے، جس کا ماضی جارحیت کے حوالے سے پاک و پاکیزہ ہو۔ جولان کی پہاڑیاں ایک مقبوضہ علاقہ ہیں، فلسطین ایک مقبوضہ سرزمین ہے، جس پر جارحیت کرکے اسرائیل نے اس پر قبضہ کیا۔ ریاستی سرحدوں کی پاسداری اور علاقائی سالمیت کی بات تو وہ کرے، جس کو خود ان چیزوں کا پاس و لحاظ ہو۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل اس وقت شیر کی دم سے کھیل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمہیں اس روز سے ڈرنا چاہیئے، جب ہمارے ہدف کو نہایت باریکی سے تباہ کرنے والے میزائل تمہاری فضاؤں پر دھاڑیں گے اور تمہارے سروں پر گریں گے۔ محمد علی جعفری نے کہا کہ اگر ہم تمہاری جارحیت پر صبر کر رہے ہیں تو اس کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں۔ میجر جنرل محمد علی جعفری کا کہنا تھا کہ شام میں موجود ایرانی مشیر شامی حکومت کی استدعا پر وہاں تعینات ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے تمام تر فوجی مشیروں اور اسلحہ کو شام میں بدستور رکھے گا۔ روس نے بھی اسرائیل کے ان حملوں پر برہمی کا اظہار کیا ہے، برطانیہ سے شائع ہونے والے اخبار قدس العربی کے مطابق ماسکو نے اسرائیل پر واضح کیا ہے کہ آئندہ اسرائیل کی جانب سے دمشق ایئرپورٹ کے گرد و نواح میں کئے جانے والے کسی حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ روسی ادارے دمشق ایئرپورٹ کے اردگرد علاقوں کو از سر نو تعمیر کر رہے ہیں۔ اسرائیل اس سے قبل ستمبر 2018ء میں ایک روسی جہاز کو گرا چکا ہے۔ روس نے اس حملے کا ذمہ دار بھی اسرائیل کو قرار دیا تھا۔ روس کا موقف تھا کہ اسرائیلی جہازوں نے جان بوجھ کر روسی جہاز کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جس کے نتیجے میں روسی جہاز نشانہ بنا۔ اس واقعہ کے بعد ہی روس نے شام میں فضائی تحفظ کے نظام کو مزید موثر بنایا تھا۔

دوسری جانب اسرائیل عراق کے ساتھ بھی آگ بھڑکانے کے درپے ہے۔ حال ہی میں اسرائیل نے حشد الشعبی پر حملے کے حوالے ایک رپورٹ شائع کی ہے، تاکہ عراقی حکومت کے ردعمل کا اندازہ لگایا جاسکے، جس کے جواب میں آج عراق کی رضاکار فورس حشد الشعبی کے سربراہ معین الکاظمی نے کرد ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں اسرائیل کو سخت جواب دیا جائے گا۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیئو نے بھی عراقی حکومت پر واضح کیا تھا کہ اسرائیل کے حشد الشعبی پر حملے کی صورت میں امریکہ اسرائیل کے خلاف کوئی ردعمل نہیں کرے گا۔ اسرائیل کے شام پر تازہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے عراقی وزارت خارجہ نے کہا کہ شام اور عراق میں داعش کے خلاف لڑنے والی افواج پر فضائی حملے بنیادی طور پر داعش کو تقویت دینے کے مترادف ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے حشد الشعبی شامی افواج کے ساتھ سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے تعاون کر رہی ہے۔

اسرائیل کی گذشتہ اور موجودہ کارروائی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل شام میں ایک مضبوط حکومت، وہاں کی رضاکار فورس، عراق میں مستحکم حکومت اور وہاں کی رضاکار فورس کو اپنے لئے خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ وہ اسرائیل جسے اپنی سالمیت کے لئے پہلے فلسطینیوں اور لبنانیوں سے جنگ لڑنی پڑ رہی تھی، اس کے سامنے اب مزید دو اقوام اور ان کی فعال افواج آچکی ہیں۔ اسرائیل کے یہ حملے اسی خوف کو بھگانے کے لئے ہیں، تاہم اس مرتبہ اسرائیل کا سامنا ایک مختلف طاقت سے ہوا ہے، جس کا تجربہ اسے حزب اللہ کے ساتھ لڑی جانے والی جنگوں میں بخوبی ہوچکا ہے۔ اپنے سرپرستوں کے تعاون سے حتی الوسع کوشش کر رہا ہے کہ ان رضاکار فورسز کا خاتمہ کیا جائے اور شام نیز عراق سے ایرانی اثر و رسوخ کا خاتمہ کیا جائے، جبکہ اسرائیلی ادارے بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ القدس فورس کو اسرائیلی سرحدوں پر آنے کی دعوت خود اسرائیلی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ وہ کھیل جو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لئے شام میں شروع کیا گیا، اب اسرائیلیوں کے کانوں میں فنا کا سور پھونک رہا ہے۔

میری نظر میں جنگ کسی کے مابین ہو، بہرحال ایک ناپسندیدہ عمل ہے، تاہم جب جنگ کا مقصد کسی جارح کو لگام ڈالنا ہو تو اسلام میں یہ جنگ جہاد کہلاتی ہے۔ اقوام عالم اور عالمی ضمیر اسرائیل کو ایک جارح ریاست سمجھتا ہے، جس کی واضح دلیل اقوام متحدہ کی وہ قراردادیں ہیں، جو اسرائیل کو فلسطینیوں کے حقوق غصب کرنے سے روکنے کے لئے منظور کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود اسرائیل کبھی بھی اپنی جارحیت سے باز نہیں آیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ گذشتہ ستر سے زائد برسوں سے اسرائیل ایک ہی حکمت عملی پر گامزن رہا ہے، جس کے لئے اس نے عربوں سے جنگیں لڑیں، سفارتی میدان میں بڑے بڑے معرکے سجائے اور عربوں کے ساتھ معاہدے کئے۔ جنگ کرنے والوں کو صلح پر مجبور کیا اور ان سے اپنے وجود کو تسلیم کروایا، تاہم موجودہ صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل کی اپنی بقاء کے لئے کی جانے والی گذشتہ ستر برسوں کی دوڑ دھوپ اور کاوشیں سب اکارت ہوچکی ہیں۔ ستر سال کی جنگوں اور سفارت کاری کے بعد آج اسرائیل کو عالم اسلام کی ایک ایسی طاقت سے سامنا ہے، جن کا تعلق اور نسبت فاتح خیبر کے قبیلے سے ہے۔ یہ خیال ہی اسرائیلیوں کی نیندیں اڑانے کے لئے کافی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …