منگل , 20 اپریل 2021

لبنان، امریکی حکومت کے تازہ احکامات

(تحریر: عرفان علی)

لبنان کے حوالے سے ایک اور اپ ڈیٹ پیش خدمت ہے۔ یوں تو لبنان کی داخلی تقسیم اور اس پر غیر ملکی دباؤ، دو ایسی حقیقت ہیں جو مستقل ہیں، اس لئے ممکن نہیں کہ لبنان کی تازہ ترین صورتحال ان دو مستقل حقیقتوں سے ہٹ کر بیان کی جاسکے۔ سوچا تھا کہ لبنان کے نئے سنی بلاک پر لکھوں گا، لیکن وہاں تو مارونی مسیحیوں کے مختلف سیاسی رہنماء ایک دوسرے پر الزام تراشی پر اتر آئے۔ شیعہ رہنما نبیہ بری اور انکے ہم جماعت بھی بیروت میں عرب لیگ کے بڑے اجتماع برائے اقتصادی امور میں لیبیا کو مدعو کرنے پر اس حد تک مخالف تھے کہ لیبیا کے سفارتخانے پر اپنی جماعت (حرکت امل) کا جھنڈا لہرا دیا۔ چونکہ بری صاحب لبنان کی سیاست کی بہت اہم اور قد آور شخصیت ہیں، طویل عرصے سے لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب ہو رہے ہیں، اس لئے انکی مخالفت کی وجہ سے لیبیا نے خود ہی اس کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اس ایشو پر دیگر سیاسی جماعتیں حتیٰ کہ نگراں وزیراعظم سعد حریری اور نگراں وزیر خارجہ جبران باسیل بھی ان سے ناراض ہوئے، لیکن بری صاحب کا کہنا تھا کہ انکے موقف کو مذاق نہ سمجھا جائے، کیونکہ مخالفت کا سبب چالیس سال پہلے امام موسیٰ صدر کو لیبیا میں اغوا کیا جانا تھا۔

یاد رہے کہ عرب لیگ کے رکن کئی ممالک اس خطے میں امریکہ کے اہم اتحادی ہیں اور ان میں سے مصر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کے سربراہان مملکت نے اس کانفرنس کو شرف شرکت نہیں بخشا، اس لئے ذرایع ابلاغ اس کانفرنس کو ناکام قرار دے رہے ہیں، کیونکہ نام سے یہ سربراہی کانفرنس ہے، لیکن اس میں اعلیٰ ترین سطح پر شرکت محض ماریطانیہ اور صومالیہ کی طرف سے تھی جبکہ آخری دن قطر کے امیر کی آمد ہوئی، ورنہ سارے عرب ممالک نے دوسرے یا تیسرے درجے کے وفود بھیجے تھے۔ اس کانفرنس سے پہلے امریکی وزارت خارجہ کے تیسرے بڑے عہدیدار ڈیوڈ ہیل نے بیروت کا دورہ کیا تھا۔ آج کل وہ انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے سیاسی امور ہیں، جبکہ ماضی میں لبنان و پاکستان میں سفیر تعینات رہ چکے ہیں۔ نو تا پندرہ جنوری 2019ء انہوں نے تین ملکی دورہ کیا۔ وہ رومانیہ اور جرمنی بھی گئے۔ اس طرح انکا یہ دورہ بنیادی طور پر امریکی سامراجی اہداف کی راہ میں حائل بعض رکاوٹوں کو دور کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جانا چاہیئے۔ رومانیہ میں وہ اس ملک کے اہم حکومتی عہدیداروں سے ملنے کے علاوہ یورپی یونین کے سیاسی ڈائریکٹرز سے ملے، جبکہ دورہ جرمنی میں اس ملک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات سمیت یورپ و امریکی تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی۔ وہاں روس اور ایران کا کردار بھی زیر بحث آیا۔

لبنان کے حوالے سے انکے دورے کا اعلانیہ ہدف یہ تھا کہ امریکہ لبنانی ریاست اور اسکے آئینی سکیورٹی اداروں کی حمایت کرتا ہے، لبنان کے سارے ایکٹرز کو خطے کے تنازعات سے لاتعلقی کی ضرورت پر تاکید کرتا ہے اور ساتھ ہی ان پر زور دیتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بلیو لائن سرحد پر کشیدگی میں شدت سے گریز کریں۔ یوں اس پورے تین ملکی دورے کا بنیادی ہدف بھی ایک ہی تھا، یعنی فلسطین پر قابض جعلی ریاست اسرائیل کا دفاع، کیونکہ ایران اور ایران کی حمایت یافتہ مزاحمتی تحریکیں اور سیاسی جماعتیں اسرائیل کو قانونی ریاست تسلیم نہیں کرتے اور لبنان کے بعض حصوں پر بھی اسرائیل کا ناجائز قبضہ ہے، اسرائیل نے متعدد مرتبہ لبنان میں جنگیں یا گھس کر کارروائیاں کی ہیں، جس کی وجہ سے لبنان کی ریاست اسرائیل کو دشمن قرار دیتی ہے اور اس کے ساتھ تعلقات نہیں رکھتی۔ مغربی بلاک روس سے یوکرین کے ایشو پر ناراض ہے۔ البتہ روس بھی شام کی وجہ سے ایران کا اتحادی ہے، لہٰذا روس کے کردار پر بھی ڈیوڈ ہیل کا بات چیت کرنا ایران ہی کی وجہ سے ہے۔ لبنان میں وہ صدر مملکت میشال عون، اسپیکر نبیہ بری، نگراں وزیراعظم سعد حریری، فوج کے سربراہ جنرل جوزف عون، نگراں وزیر خارجہ جبران باسیل اور دروز سیاستدان ولید جنبلاط سے علیحدہ علیحدہ ملے۔

بیروت میں امریکی سفارتخانے نے بیان جاری کیا تھا کہ ڈیوڈ ہیل کے دورے کا ایک مقصد لبنان اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی حزب اللہ اور ایران کی کارروائیوں پر بات چیت بھی تھا۔ انکا ایک اور ہدف جس کا اعلان نہیں کیا گیا، لبنان کو پولینڈ میں ہونے والی ایران مخالف کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینا بھی تھا، جو 13 اور 14 فروری 2019ء کو ہو رہی ہے، جس میں امریکہ دنیا بھر سے اپنے دوست اور اتحادی ممالک کو جمع کرے گا۔ سعد حریری سے ملاقات میں بھی ہیل نے حزب اللہ کے خلاف باتیں کیں، خاص طور پر انکا کہنا تھا کہ کسی ملیشیاء کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیئے کہ وہ دوسرے ممالک میں سرنگیں کھودے، کیونکہ انکے مطابق یہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل کی قرارداد نمبر 1701 کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ لبنان کے عوام اور ریاست کے علاوہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیئے کہ وہ جنگ یا امن کا فیصلہ کرے۔ انکا پورا موقف ہی غیر منطقی اور قابل گرفت ہے۔ ایک طرف وہ سارے لبنانی ایکٹرز، ریاست اور عوام کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ لبنانی ریاست، عوام اور ایکٹرز، حزب اللہ لبنان ان تینوں کا جزو لاینفک ہے۔ وہ لبنان کی آئینی و قانونی جماعت اور تحریک ہے، نمائندہ پارلیمانی جماعت، ناقابل نظر انداز سیاسی حقیقت ہے۔ لبنان کے عوام نے ہی اسکو منتخب کیا ہے۔

جہاں تک بات ہے قرارداد نمبر 1701 کی تو لبنان کی حدود کے اندر اسرائیل کا قبضہ اور لبنان کی جغرافیائی حدود کی مستقل بنیادوں پر مسلسل خلاف ورزیاں بھی مذکورہ قرارداد سمیت انٹرنیشنل لاء کی دیگر شقوں اور قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ سرنگوں کی باتیں کرنے والے امریکہ اور اسکے عربی و مغربی اتحاد میں شامل حکومتیں لبنان کے علاقوں میں اسرائیلی فوجی تعمیرات پر کیوں خاموش ہیں؟ اسرائیل نے سمندر میں لبنان کے تیل و گیس کے ذخائر پر بھی اپنا جھوٹا دعویٰ کر دیا ہے، اس پر امریکہ اور اسکے اتحادی حکمران کیوں کچھ نہیں بولتے؟ اور بولنے سے بھی کیا ہو جانا ہے، لبنانی ریاست اور عوام انکے کردار سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ان کی خانہ جنگی کی جڑیں بھی سب سے پہلے فرانسیسی و برطانوی سامراج کی سازشوں سے پھوٹیں تھیں اور اسکے بعد امریکی سامراج نے انکی جگہ لے لی۔ خاص طور جنوبی لبنان نے تو اسرائیل کی نیابت میں لڑنے والے مسلح گروہوں کے انسانیت سوز مظالم کو سب سے بڑھ کر جھیلا ہے۔ آج شام کے خلاف ماحول بنانے والے وہی ملک ہیں، جنہوں نے ماضی میں شام کی عرب فوج کو لبنان کی مسیحی آبادی کی حفاظت کے لئے ویلکم کہا تھا۔ حتیٰ کہ سعودی عرب کو بھی شام کی افواج کی لبنان میں تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ شام لبنان میں شیعہ یا سنی عربوں کی حفاظت کے لئے تو نہیں آیا تھا۔ حقیقت تو تاریخ نے محفوظ کرلی ہے، اسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔

کیا لبنان کے عوام امریکہ کی تازہ ترین دھمکی کو بھی فراموش کر دیں کہ عرب اقتصادی سربراہی کانفرنس میں اگر شام کو مدعو کیا گیا یا شام کی تعمیر نو میں حصہ لیا گیا تو امریکہ لبنان پر بھی پابندیاں لگا دے گا اور ڈیوڈ ہیل کی لبنانی شخصیات کو یہ دھمکی کہ امریکہ ایران اور حزب اللہ پر نئی پابندیاں لگانے جا رہا ہے، یعنی اگر امریکہ سے تعلقات رکھنا ہیں تو اس کی قیمت یہ ہے کہ لبنان ایران، شام اور حزب اللہ سے تعلقات ختم کرلے۔ ایران اور شام تو دو ملک ہیں، مگر حزب اللہ تو لبنان کے غیرت مند فرزندان زمین کی اپنی جماعت اور تحریک ہے بلکہ اسرائیلی قبضے سے آزادی کی تحریک ہے۔ امریکی حکومت کا پیغام واضح ہے کہ اس سے تعلقات کا مطلب خطے کے تنازعات سے لاتعلقی نہیں بلکہ خطے کے تنازعات میں وہ موقف رکھنا ہے، جو اسرائیل کو قبول ہو اور اس خطے میں اسرائیل کا مفاد ہی امریکی و سعودی و اماارتی مفاد قرار دیا جاچکا ہے۔ لبنان نے تو شام کے مخالف قطر کے امیر کو مدعو کرکے بھی اپنی غیر جانبداری ثابت کر دی ہے، لیکن امریکہ کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ امریکہ پہلے اپنی اداؤں پر غور کرے کہ مقبوضہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے والا امریکہ خطے کے تنازعات میں لاتعلق نہیں بلکہ براہ راست تعلق رکھتا ہے اور وہ اسرائیل کی مدد و حمایت کرنے کی وجہ سے کسی بھی غیرت مند عرب یا مسلمان کی نظر میں پسندیدہ ملک نہیں بن سکتا، چہ جائیکہ لبنانی عرب کہ جو اسرائیل کے مظالم کا براہ راست شکار ہیں!

محسوس ہو رہا ہے کہ لبنان پر غیر ملکی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکی حکومت اپنے اتحادی عرب ممالک سے بہت کچھ چاہتی ہے اور وزیر خارجہ مائیک پومپیئو نے اس خطے کا دورہ کرکے ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے بات چیت کی ہے۔ امریکہ قطر اور دیگر امریکی اتحادی عرب ممالک کے مابین اختلافات کو ختم کرنے کے لئے بھی کام کر رہا ہے۔ پومپیئو نے قطر کا دورہ بھی کیا تھا اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر بھی دونوں ملکوں نے اتفاق کیا۔ لبنان پر امریکی بلاک کا دباؤ بڑھ رہا ہے، خواہ وہ براہ راست ہو یا دیگر اتحادی ممالک کی جانب سے ہو۔ عرب لیگ کے ابوالغیط ہوں یا مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری یا دیگر اہم شخصیات جو بیروت آئیں، سبھی نے آف دی ریکارڈ جو بات چیت کی ہے، وہ لبنان کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ پر مزید خطرات کی نشاندہی پر مبنی ہی ہوگی۔ لبنان کے حوالے سے غیر ملکی حکومتی شخصیات کی آمد و رفت کا تازہ ترین مرحلہ اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ امریکی اہم حکومتی عہدیداروں کے دورے کے دوران ہی اسرائیل کے روزنامہ اسرائیل ھایوم نے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کی بیماری سے متعلق ایک جھوٹی خبر نشر کی تھی، تاکہ دنیا اس خبر کی طرف متوجہ رہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …