بدھ , 23 جون 2021

پولیس اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ

(اکرام سہگل) 

پاکستان کو برطانوی راج سے پولیس کا سامراجی ڈھانچہ ورثے میں ملا، امن و امان کے فروغ، معاشرتی ہم آہنگی، سلامتی اور نفاذ قانون کے بجائے برطانوی حکمرانوں کی خدمت گزاری کے لیے جس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ 1861ء کے پولیس ایکٹ میں چھوٹی موٹی تبدیلیوں کے علاوہ کوئی بنیادی ترمیم نہیں کی گئی۔بلکہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے متعارف کروائے گئے قوانین میں بھی برطانوی دور کے قانون کی روح کو کم و بیش برقرار رکھا گیا ہے۔

ہمارے موجودہ کلچر میں کم زوروں کو با اثر سیاسی اشرافیہ کا غلام بننے پر مجبور کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ ہی پولیس بھی طاقت ور طبقات کی آلہ کار کا کردار ادا کرتی ہے۔ پولیس سے متعلق قوانین میں کبھی بھی اس سامراجی ورثے کو مؤثر انداز میں چیلنج کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہمارے جیسے جاگیردارانہ معاشرے میں غیرمعمولی تبدیلیوں کے بغیر ایسا کرنا ممکن بھی نہیں ہو گا۔

14جنوری 2019ء کو پولیس ریفارم کمیٹی رپورٹ کے اجرا کے موقعے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ’’ایک مؤثر فوج داری نظامِ انصاف کسی بھی معاشرے کے لیے ریڑھ کی حیثیت رکھتا ہے اور انصاف کی فراہمی عدلیہ کی اہم ترین ذمے داریوں میں شامل ہے۔

شفافیت کے ساتھ انصاف کے قیام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت جیسے عنصر اثر انداز ہوتے ہیں، جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 میں قانون کے ہر کس و ناکس کے ساتھ یکساں سلوک کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ جرائم کے انسداد اور تفتیش کے ساتھ ساتھ ، پولیس شفاف عدالتی کارروائی اور از روئے ضابطہ قانونی عمل کے بنیادی حق کے تحفظ میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جس کی ضمانت دستور کی شق 10 الف میں دی گئی ہے۔‘‘

افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ عام شہری قانون کے مطابق اپنی شکایات کے لیے پولیس سے رجوع کرنے کے بجائے اس سے گریز کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والوں کو حکمراں اشرافیہ کی خدمت گزاری سے محفوظ کرنے کے لیے، سپریم کورٹ نے ’’پولیس اصلاحات کمیٹی‘‘ تشکیل دی جس کا مقصد ٹھوس تجاویز ترتیب دینا تھا۔ اس کمیٹی نے اصلاحات کے لیے یہ نکات تجویز کیے۔ (الف) شکایت کے ازالے کا نظام (ب) شہری پولیسنگ(ج)انسداد دہشت گردی کے قوانین کو مؤثر بنانا (د) پولیس کا احتساب اور (د) فوجداری نظام انصاف کا ادغام۔ ان تجاویز میں فوج کی ملٹری سیکریٹری ( ایم ایس) برانچ کی طرز پر ’’تعیناتی/ ترقی کے نظام‘‘ جیسے اہم ترین پہلو سے صرف نظر کیا گیا ہے۔ میرٹ پر ترقی اور موزوں افراد کی تعیناتی کے لیے ایک جامع نظام کا نفاذ ہی اس کا واحد حل ہے۔

گزشتہ چھ دہائیوں میں پولیس اصلاحات پر دو درجن رپورٹس جاری ہو چکی ہیں۔ بدقسمتی سے ان میں کسی کی بھی تجاویز پر عمل درآمد نہیں ہوا اور نہ اس کی فکر کی گئی۔ ’’2002ء فوکس گروپ برائے پولیس اصلاحات‘‘ میں شامل ہونا جمیل یوسف کے اور میرے لیے پریشان کُن تجربہ رہا۔ نیم دلی سے کیے گئے اقدامات سے دیانت دار افسران کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے اور نہ ہی نفاذِ قانون کا ہدف حاصل ہوتا ہے۔

اس تصور کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس نے جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی زیر نگرانی ان سفارشات کا جائزہ لینے کے لیے پولیس آئی جیز پر مشتمل اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی۔ پریزینٹیشنز میں آئی جی رینک کے سابق سینیئر افسران کی اصلاحات و تجاویز شامل کی گئی، ایک موجودہ آئی جی نے رپورٹ میں ان تجاویز پر عمل درآمد کا نقشہ وضع کیا۔

کسی بھی ملک کے نظام انصاف میں پولیس کی ناگزیریت کے پیش نظر ضروری ہے کہ قانون کے نفاذ کے لیے اس محکمے کو مکمل طور پر آزادی اور اختیار کے ساتھ کام کرنے کے قابل بنایا جائے۔ پولیس یا تو طاقت وروں کے سامنے کھڑے ہونے والے جرأت مند افسران کے انجام سے خوف زدہ ہے یا سیاسی بنیادوں پر ہونے والی ان گنت بھرتیوں اور تقرری و معطلی کی وجہ سے پوری طرح سیاسی عناصر کے زیر دست ہے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ ناقص تربیت، ناکافی ہتھیار اور عادی بدعنوانوں کے بوجھ تلے دبی پولیس میں ایسے عناصر موجود ہیں جو دیمک کی طرح اس کی بنیادیں چاٹ رہے ہیں۔ پولیس کو جرائم میں استعمال کیا جاتا ہے، سندھ میں یہ حالات بدترین ہیں، کم سہی دیگر صوبوں میں بھی یہی صورت حال ہے۔ دوسری جانب عزت مآب چیف جسٹس نے عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے بہادر پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ پولیس نظام کی تباہ حالی کے باوجود، مقننہ اور حکومت ضروری اصلاحات کرنے میں ناکام رہے ہیں جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سندھ کے سابق آئی جی اے ڈی خواجہ کو جن حالات کا سامنا رہا وہ اس کی بڑی واضح مثال ہے، اپنی دیانت داری اور میرٹ کے باوجود ان کی ترقی نہ ہونا اس نظام کی تذلیل کے مترادف ہے۔

پولیس بہتری کارکردگی کی پوری صلاحیت رکھتی ہے اور اپنے فرائض کی بجا آوری کے لیے محکمے کو حکومت اور بڑی سیاسی جماعتوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ اس پر سے ہر طرح کے دباؤ کا خاتمہ ہونا چاہے۔ بدقسمتی سے پولیس حکام اکثر ایسے جرائم میں ملوث ہوتے ہیں جن کی روک تھام ان کا فرض ہے، دوسری جانب جرائم پیشہ افراد قانون کی گرفت سے بچ نکلے ہیں کیوں کہ انھیں پولیس کے اندر سے مدد حاصل ہوتی ہے۔ سابق چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے کہ اپنی ریٹائرمنٹ سے چند دن پہلے ہی انھوں نے پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے درکار سب سے ضروری تبدیلی میں پیش رفت کو ممکن بنایا۔

(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں۔ اس تحریر کے لیے 14جنوری 2019ء کو پولیس اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ کے اجرا کے موقعے پر کیے گئے چیف جسٹس کے اقتباسات سے مدد لی گئی۔)بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

غلیل سے میزائل تک، فلسطین بدل رہا ہے

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس پچھلے گیارہ دن سے جاری جنگ کے خاتمے کا اعلان کر …