منگل , 13 اپریل 2021

سانحہ ساہیوال اور پولیس کی دہشتگردی!

(تحریر: محمد حسن جمالی)

پاکستان کی سرزمین پر انسان کے خون کی اہمیت آئے روز کم ہوتی جارہی ہے ، انسان نما درندے مختلف بہانوں سے انسانیت پر حملہ آور ہورہے ہیں ، جنہوں نے اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی ہوئی مملکت میں سب سے ذیادہ مذہبی تعصب کی جنونیت میں بے شمار مظلوم مسلمانوں کی جان مال اور آبرو سے کھیل کھیلا ہے، طالبان داعش سمیت سلفی تکفیری ٹولوں نے پاکستان کی سرزمین کو لاتعداد بے گناہوں کے خون سے رنگین کردیا ہےـ جب ملک کے طول و عرض میں دہشتگردی وسیع پیمانے پر پھیلنا شروع ہوگئی، تو پاکستان کا حقیقی محافظ فوج کا ادارہ متحرک ہوگیا، وزیرستان سمیت دہشتگردوں کے مرکزی مقامات پر افواج پاکستان نے آپریشن کرکے دہشتگردی کی آگ پر قابو پانے کی کوشش کی گئیں، جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نقصان ضرور پہنچا مگر مختلف وجوہات کی بناء پر ہماری فوج وطن عزیز پاکستان کو دہشتگردوں کے نجس وجود سے مکمل طور پر پاک کرنے سے ناتواں رہی، اگر ہم ان وجوہات میں سرفہرست ریاست کا دہشتگردوں کو سپورٹ کرنا شمار کریں تو نہ بےجا ہوگا اور نہ ہی مبالغہ۔ جب دہشتگردوں کے مراکز کی کمر ردالفساد اور ضرب عصب آپریشن کی وجہ سے ٹوٹنے لگی تو بہت سارے دہتشگرد پراکندہ ہوکر ملک کے مختلف مقامات پر ریاست کی چھتری تلے محفوظ ہوگئے اور اپنے ناپاک عزائم میں سرگرم رہےـ

سیاسی لٹیروں کی سفارشات سے وہ پاکستان کے مختلف اداروں میں گھس گئے، جن میں سے بعض نے سیاستدانوں کی صف میں شمولیت اختیار کی تو کچھ پولیس کی وردی پہن کر اپنے اہداف کی طرف بڑھتے رہے، چنانچہ پنجاب حکومت نے سی ٹی ڈی جیسا ادارہ بنا کر انہی کالی بھیڑوں کے حوالے کردیا۔ جس میں شدت پسند، سنگدل بےرحم افراد کو چن چن کر جمع کیا گیا، جو پولیس کے نام سے پاکستان کے غریب شہریوں کے لئے غضب کا فرشتہ ثابت ہوئے، جن کے ہاتھوں پاکستان کے بےشمار غریب و لاچار افراد لاپتہ ہو چکے ہیں، تو بہت سارے موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں، جس کی حالیہ مثال ساہیوال کا دلخراش سانحہ ہےـ مختلف ذرائع کی اطلاع کے مطابق ساہیوال میں ایک ہی خاندان کے افراد کار میں سوار ہوکر اپنے کسی عزیز کی شادی میں شرکت کی غرض سے جارہے تھے، تو سی ڈی پنجاب کے اہلکاروں نے ان پرفائرنگ کی اور کار میں موجود ماں، باپ سمیت تیرہ سالہ بہن اور ڈرائیور کو گولیوں سے بھون ڈالے، انہوں نے اس قدر بےرحمی سے گولی چلا کر بہیمت کا مظاھرہ کیا گیا کہ ایک گولی نہیں فقط تیرہ سالہ بچی اریبہ کو چھ گولیاں ماریں، اُس کی والدہ نبیلہ بی بی کو چار، والد خلیل کو تیرہ گولیاں اور ڈرائیور ذیشان کو دس گولیاں ماریں۔ اس المناک اور سفاکانہ سانحے سے تمام پاکستانیوں کے دل غمزدہ اور آنکھیں اشکبار ہیں۔ جب اس دلخراش سانحے کی خبر ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تو حسب سابق ظالموں قاتلوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں نے طرح طرح کے جھوٹے بیانات میڈیا پر پھیلاکر اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی سعی لاحاصل کی گئی، انہوں نے شروع میں کہا کہ سی ٹی ڈی نے داعش سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کو گولی کا نشانہ بنایا ہے۔ پھر کہا ایجنسیوں نے ہمیں ان کے دہشتگرد ہونے کی اطلاع دی تھی جس کی وجہ سے ہم نے ان کا پیچھا کیا اور فائرنگ کرکے انہیں ہلاک کردیا گیا۔

اس کے بعد ان کا ایک اور بیان میڈیا پر آیا، جس میں یہ کہا گیا کہ درحقیقت اس کار کے پیچھے ایک موٹر سائیکل جارہی تھی جس پر دو خطرناک دہشتگرد سوار تھے جنہوں نے ہم پر فائرنگ کی تو ہم نے بھی جوابی کاروئی کرتے ہوئے گولی چلائی جو موٹر سے پہلے جانے والی کار کو جالگی اور اس میں موجود افراد کی ہلاکت کا سبب بنی اور بہت سارے بکواسات …مگر سوشل میڈیا کی بدولت ان کی غلط بیانات سے پردہ ہٹا، اس حوالے سے باقاعدہ ویڈیوز منظر عام پر وائرل ہو چکی ہیں، جن سے یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ کار میں موجود افراد کو بلاجرم و خطا سی ٹی ڈی کے درندوں نے قانون کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے قتل کردیا ہے، اس سفاک ٹولے کے ہاتھوں پہلی بار یہ درندگی کا مظاہرہ نہیں ہوا ہے بلکہ انہوں نے اسی طرح بہت سارے غریب لوگوں کے چراغ زندگی گل کردیئے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے ہم اپنی اس تحریر کے ذریعے گزارش کرتے ہیں کہ سانحہ ساہیوال کے بےگناہ مقتولین کے قاتلوں کو پکڑوا کر پھانسی دلوا دیں۔ خصوصا پنجاب پولیس کے آئی جی کو فارغ کرکے گھر بھیج دیا جائے اور سی ٹی ڈی میں موجود پولیس نما دہشتگردوں کو نکال کر ان کی جگہ فرض شناس اور قانون کا احترام کرنے والے انسانیت دوست افراد کو بھرتی کردئیے جائیں۔ البتہ پاکستان کی سرزمین پر پائیدار امنیت کو یقینی بنانے کے لئے تمام اداروں سے دہشتگردوں کو نکال باہر کرنا ضروری ہے، اسی طرح مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگانے والے افراد کی تربیت کرنے والے مدارس جو درحقیقت دہشتگردوں کی تربیت گاہ ہیں، کو فی الفور بند کروا دیئے جائیں۔

امید افزا بات یہ ہے کہ سانحہ ساہیوال پر ملک کے چیدہ قلم کاروں نے تجزیہ و تحلیل کرکے حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے، جو انتہائی خوش آئند حرکت ہے۔ اسی طرح ریاستی اداروں میں چھپے اور گھسے ہوئے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے نیز پاکستان کے اندر جو بھی لوگ مظلوم واقع ہوتے ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب قوم یا علاقے سے تعلق رکھتے ہوں، خالص انسانیت کی بنیاد پر ملک کے باشعور افراد کو مل کر ظالموں کے خلاف مہم چلانے کے لئے متحرک ہونے کی ضرورت ہے تب جاکر پاکستان جائیگاہ امن قرار پائے گا اور اس کے باسیوں کو اپنی سرزمین پر ایک دوسرے سے شیر و شکر ہوکر زندگی گزارنے کا موقع ملے گاـ یہاں اس نکتے کی جانب بھی اپنے قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ یوم یکجہتی کشمیر قریب ہے، ۵ فروری کو ہر سال پاکستان کے لوگ بڑے جوش و خروش سے یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں، مختلف جگہوں پر جلسے جلوس ہوتے ہیں جن میں مقررین کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والی بربریت کا تذکرہ کرتے ہیں، کشمیری مجاہدوں کی یاد تازہ کرتے ہیں، یوں وہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی اور اظہار ہمدلی کرتے ہیں، لیکن جن لوگوں کا ضمیر زندہ ہے وہ ہرگز اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے کہ ہمیں سارا سال خاموش رہ کر فقط ۵ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانا چاہیئے اس لئے کہ کشمیر میں انسانیت جل رہی ہےـ آئے روز ہندو سرکار کے دسترخوان پر پلنے والے سفاک درندے انہی کے اشارے سے کشمیر کے مسلمانوں کو طرح طرح کے مظالم کا شکار کرکے انہیں صفحہ کشمیر سے غائب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے میں ملک کے چیدہ افراد بالخصوص مفکرین، معلمین، تجزیہ نگار اور میڈیا کے مبصرین کا فرض بنتا ہے کہ وہ کشمیری مسلمانوں کو مظلومیت سے نجات دلانے کی راہ کاروں پر سال بھر سوچیں اور آواز بلند کرتے رہیں۔

اسی طرح ہمارے چیدہ افراد کا وظیفہ بنتا ہے کہ جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہو، ان کے دفاع میں سوچیں، بولیں، لکھیں اور بحث و مباحثہ کریں، فرق نہیں مظالم ڈھانے والے اپنے حکمران ہوں یا اغیارـ جیسے یمن فلسطین وغیرہ کے مسلمان اغیار کے ہاتھوں مظالم کے شکار ہیں اور گلگت بلتستان کے باسی خود اپنے حکمرانوں کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اپنے حقوق مانگتے مانگتے جی بی کی ایک نسل محرومی کی حالت میں ہی گزرگئی اور موجودہ نسل بھی اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد تو کررہی ہے، مگر اب تک خاطر خواہ نتیجہ پانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ جب سے سپریم کورٹ کا تازہ فیصلہ سنا ہے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت پر بےچینی اور مایوسی کی کیفیت طاری دکھائی دیتی ہے، جس کی بنیادی وجہ کچھ لکھاریوں کی اپنی تخیلات پر مبنی بے بنیاد تحریریں ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر بعض افراد کچھ زیادہ جذباتی ہوکر فعال نظر آتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ دونوں اشتباہ کا مصداق اور غیر منطقی ہیں۔ درست راہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے پڑھے لکھے افراد کو ناامید ہرگز نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ان کے لئے خلوص نیت کے ساتھ پرامید ہوکر جذباتیت کا مظاھرہ کرنے کی بجائے معقول اور قانونی راستوں سے اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد کا سفر جاری رکھنا ضروری ہےـ وہ انسان قیمتی ہے جو مذہبی قومی لسانی اور علاقائی تعصبات سے ماوراء ہوکر خالص انسانیت کی بنیاد پر مظلوم کی حمایت اور ظالم سے نفرت کرتا ہے۔ بلاشبہ ساہیوال میں ایک خاندان پر بڑا ظلم ہوا، جسے تاریخ اس عنوان سے اپنے سینے میں محفوظ رکھے گی کہ سانحہ ساہیوال اور پولیس کی دہشتگردی!

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …