بدھ , 14 اپریل 2021

مغربی ایشیا کی صورتحال اور مزاحمتی بلاک

(قسط اول)

سن 2011میں جس وقت شام میں تخلیقی بحران کے نظریے کے تحت خلفشار پیدا کیا گیا تھاتو اس وقت اس تخلیقی بحران کے شام سے تعلق رکھنے والےحصے میں دو بڑے اہداف تھے ،انہی دو اہداف کا براہ راست نئے مشرق وسطیٰ یا مغربی ایشیا کی سوچ کے ساتھ گہرا تعلق بھی بنتا ہے

الف:اسرائیل کے لئے ممکنہ خطرات کا خاتمہ

ب:شام کو مزاحمتی بلاک کہلانے والے بلاک سے دور رکھنا

اس وقت جبکہ علمی طور پرایک طرف جہاں تخلیقی بحران کے مطلوبہ نتائج کےحصول میں ناکامی دیکھنی پڑرہی تو دوسری جانب اس ناکامی کا نتیجہ اس قدر بھیانک شکل میں نکل آیا ہے کہ امریکہ کو اس خطے سے آہستہ آہستہ نکلنے کا سوچنا پڑرہا ہے ۔

حال ہی میں امریکہ کی جانب سے اپنی افواج کو شام سے نکالنے کے اعلان کے بعد خطے میں اس کے اتحادیوں کے درمیان جس قسم کی سراسیمگی دکھائی دی ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ۔ایک جانب جہاں امریکی اتحادیوں میں خوف اور پریشانی واضح ہے تو دوسری جانب شام کے تخلیقی بحران میں ملوث ممالک کی یہ بھی کوشش دکھائی دیتی ہے کہ وہ امریکی خلا کو اپنے وجود سے پرکرلیں ۔

ترک صدراردگان جو کہ خود کو ماڈرن اخوانی اسلامی تشریحات کا لیڈر سمجھتا ہے اس خواہش میں شروع سے مبتلا دکھائی دیتا ہےظاہر ہے کہ جب ہم اردگان کی بات کررہے ہیں تو ان کے ساتھ اخوان المسلمون کی سوچ رکھنے والی تمام تحریکیں ،ان کے مدد گاراور حامی ممالک بھی شامل ہیں ۔اردگان یا اخوان المسلمون کی ماڈرن اسلامی سیاسی تشریح میں خطے کی موجودہ صورتحال کے بارے میں دو بنیادی عناصر دکھائی دیتے ہیں

الف:اسلام کی ایک ایسی تشریح جو سیکولرازم اور لبرل ازم کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکتی ہے ،جس کا عملی نمونہ خود ترکی میں دیکھا جاسکتا ہے ۔

ب:اسرائیل کو بعنوان ایک ریاست کے قبول کرنا اس شرط کے ساتھ کہ خطے میں اخوانی جدید تشریح اسلام کے قیادتی کردارleading role کو تسلیم کیا جائے ۔(البتہ یہاں یہ نکتہ واضح رہے کہ اس کے مقابلے میں سعودی عرب کی جانب سے بھی اتحادی ممالک کے ساتھ اسلام کی ایک ایسی ہی تشریح سامنے لائی جارہی ہے کہ جس پر ہم ماضی میں کھل کر بات کرچکے ہیں ۔)

مزاحمتی بلاک کے حمایتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اب تک شام میں ایک قسم کی پراکسی وار چلی آرہی تھی لیکن اب صورتحال ایسی ہے کہ اس سیاسی معرکے میں اس پراکسی وار کےپیچھے پوشیدہ اصلی کردار کھل کر سامنے آرہے ہیں اور براہ راست آمنے سامنے کھڑے ہونے جارہے ہیں۔

لبنان سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار انیس نقاش کاکہنا ہے کہ ’’ہم ماضی میں یہ پیشنگوئی کرتے رہے ہیں کہ شام میں پیدا کیا جانے والا بحران اور کٹھ پتلیوں کی جنگ آگے جاکر اصلی کرداروں کی جنگ میں بدل جائے گی ‘‘وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہمارا خیال تھا کہ براہ راست تصادم کی فضا سن 2019کے وسط تک ممکن ہوگی لیکن یوں لگتا ہے کہ ہماری توقعات سے کچھ ماہ پہلے ہی یہ تصادم شروع ہوچکا ہے ۔

دیکھیں کہ اب اسرائیلی لگی لپٹی رکھے بغیر کہنے لگے ہیں کہ وہ شام کیخلاف براہ راست جنگ میں ہیں ‘‘تو اس کی کیا وجوہات ہیں کہ آخر انہیں کھل کر کہنا پڑرہا ہے اور وہ بڑی جلد ی میں ہیں ؟

تجزیہ کار کہتا ہے ’’ٹرمپ کے سبب حالات نے اچانک تیزی کے ساتھ کروٹ لی ہے ،ٹرمپ نے جو انخلا کا اعلان کردیا اس نے نہ صرف اتحادیوں بلکہ خود اس کے اپنے اداروں کو بھی حیر ت زدہ کردیا ہے یہ بات واضح ہے کہ امریکہ کو انخلا کرنا پڑ رہا ہے لیکن بعض اتحادیوں کی کوششیں ہیں کہ یہ انخلا تاخیر کا شکار ہوجائے ۔جبکہ بعض کی یہ کوشش دکھائی دیتی ہے کہ امریکی انخلا کی خالی جگہ کو وہ اپنے وجود سے پُر کریں ‘‘اس حوالے سےجو موجود ہ صورتحال ہے اس میں تین اہم مسائل دکھائی دیتے ہیں ۔

الف:اسرائیل بعنوان مخالف و دشمن قوت کے

ب:امریکی انخلا یا عدم انخلاکا مسئلہ

ج:ترک افواج اور اردگان کی کوششیں

اس صورتحال میں وہ تمام گروہ اور تنظیمیں سیاسی منظر نامے سے غائب ہوچکی ہیں جو پہلے فعال دکھائی دیتی تھیں اور اپنے اپنے ایجنڈے رکھتی تھیں ۔نقاش کا کہنا ہے کہ ’’ ظاہرہے کہ بدلتے حالات کے مطابق ان حالات کا جواب دینا ہوگا، ماضی میں دہشتگرد گروہ جغرافیائی قبضہ چاہتے تھے کہ جن کے ساتھ مذاکرات یا طاقت کے زریعے سے مسائل کو ہینڈل کیا جاتا تھا لیکن اب صورتحال ایسی ہے کہ اصلی کردار بذات خود سامنے کھڑے ہیں لہٰذا ان میں سے ہرایک کے اہداف کو سمجھنا ہوگا تاکہ اس کا مقابلہ کیا جاسکے ‘‘

سوال کیا امریکی انخلا ایک حقیقت ہے یاپھر کوئی چال ؟
یہ بات واضح ہے کہ ٹرمپ خطے میں امریکی پلانز کی ناکامیوں کےبعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ انہیں یہاں سے فورا ًنکلنا چاہیے ۔نقاش کہتے ہیں کہ ’’اس نے اپنی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان تمام ناکام مہم جوئیوں سے باہر نکل آئیںگے جس میںا مریکہ ملوث ہے ۔

اس کی ٹیویٹ بتارہی ہیں کہ عراق میں سات ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی اسے چوروں کی طرح عراق میں آنا پڑتا ہے اور کھلے عام عراقی ذمہ داروں سے نہیں مل پاتا ۔لہٰذا سات ٹریلین خرچ کرنے کے باوجود بھی آج عراق میں وہ مقاصد حاصل نہیں ہوپائے جس کے لئے یہ سار ابوجھ امریکی عوام کو اٹھانا پڑا ہے ۔

لیکن دوسری جانب امریکی ادارے ،بیوروکریسی اور Deep state اس شکست کااعتراف کرنے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتے کہ جہاں ان کے بنائے گئے تمام میگا پروجیکٹس اور پلان مکمل طور پر فلاپ ہو چکے ہیں ۔وزیر دفاع کے استعفی سے لیکر اداروں میں موجود یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ امریکی صدر بعنوان ایک نئے صدر ماضی کی ان ناکام اور بے فائدہ پالیسیوں کو جاری رکھنا نہیں چاہتا ۔

امریکی صدر اعتراف کررہا ہے کہ ماضی کی تین دہائیوں کی پالیسیاں ناکام اور بے مقصد رہی ہیں، لہٰذا اس کا یہ اعتراف نہ صرف ان کے اتحادیوں میں بلکہ خود اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور Deep state میں بھی ہلچل مچاگیا ہے ۔خطے میں پمپیو کے دورے کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہم خلا نہیں چھوڑ ینگے بلکہ اپنے اتحادیوں پر مشتمل ایک قوت کو نعم البدل کے طور پر رکھا جائے گا جو ایران کا مقابلہ کرینگے

لیکن بات ایران کی نہیں بلکہ ایران ،عراق ،غزہ ،لبنان اور خطے کی تمام اقوام کیخلاف جاری اسی پلان پر عمل درآمد کو جاری رکھنے کی ہے ۔اسرائیل بالکل بھی نہیں چاہتا کہ شام اس معرکے سے ایک مضبوط خود مختار شام بن کر سامنے آئے جو خطے میں اس کی مقابل فورسز کی پناہ گاہ بنے اور ساتھ ساتھ اس کے لئے ایک نیا محاذ مقبوضہ جولان یا گولان ہائٹس کو کھل جائے ‘‘

ظاہر ہے کہ اب اس صورتحال میں بات یہ نہیں رہی کہ شام میں نظام بدلا جائے یا بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کیا جائے بات اب یہ ہے کہ مستقبل کے مضبوط آزاد خودمختار شام سے لاحق خطرات سے کیسے بچاجائے ۔ترکی بھی اسی کوشش میں ہے کہ بدلتی صورتحال میں اس کےمضبوط کردار کو مان لیا جائے اسی لئے وہ کبھی شام میں فری زون کی بات دہرارہا ہے تو کبھی کردفورسز کیخلاف اپنی افواج کو شام میں داخل کرنا چاہتا ہے ۔

اردگان جانتا ہے کہ شام میں ان کی ناکامی کے اثرات داخلی طور پر بھی پڑیں گے اور خود اس کا اور اس کی پارٹی کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔

نقاش کے بقول شام پر ہونے والی اسرائیلی حالیہ جارحیت بڑی سماٹ قسم کی جارحیت ہے لیکن شام بھی انتہائی زبردست انداز سے ایس 300کی کارکردگی کو ظاہر کئے بغیر اس جارحیت کا دفاع کررہا ہے ۔

ظاہر ہے کہ شام اپنی تمام تر عسکری قوت کو سامنے لانا نہیں چاہتا ،عسکری حکمت عملی اس بات کی متقاضی ہے کہ ایک بڑے اور فیصلہ کن معرکے کے بغیر اپنی پوری عسکری قوت کو دشمن کے سامنے ظاہر نہ کیا جائے۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔(بشکریہ فوکس آن ویسٹ اینڈساؤتھ ایشیاء)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …