بدھ , 14 اپریل 2021

ایران کیخلاف 70 ملکی کانفرنس ۔۔؟

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مشرقی یورپ کے ملک پولینڈ کے دارالحکومت وارسوا میں ہونے والی امریکی ،عربی،اسرائیلی کانفرنس میں یورپ کی شرکت کے بارے میں بے یقینی ہے وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ یورپی سفارتی زرائع اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ یورپ کا وارسوا کانفرنس میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ انہیں اس کانفرنس کے اہداف کا پوری طرح علم ہی نہیں ۔

اسی طرح بہت سے عرب ممالک نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا ہے کہ جن میں سرفہرست قطر،عمان ،لبنان،عراق بھی شامل ہیں ۔تو سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت میں اس کانفرنس کے ایجنڈے اور اہداف واضح نہیں ہیں ؟

بظاہر مبصرین اور تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ کانفرنس سیاسی اور عسکری دونوں اہداف کو لئے ہوئے کہ جس میں مشرق وسطیٰ مسائل پر یکسوئی کی تلاش کے ساتھ ساتھ ایران کیخلاف ایک مشترکہ محاذ بنانے کی کوشش کی جائے گی ۔امریکی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ مشرق وسطیٰ میں آٹھ عرب ممالک کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی اور قاہرہ میں کھلے لفظوں کہا کہ وہ خطے میں ایران کے اثر ورسوخ کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ اس خطے کی بات کررہا ہے کہ جس کا باسی ایران بھی ہے ،یورپ کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک جانب جہاں امریکہ نیٹو چھوڑنا چاہتا ہے دوسری جانب یورپ پر تجارتی اضافی ٹیکسز لگارہاہے اور تیسری جانب ایک غیر واضح اور مبہم ایجنڈے کی کانفرنس میں شرکت کے لئے دعوت دی جارہی ہے ۔لہٰذا ایک غیرواضح ایجنڈے پر مشتمل کانفرنس کہ جس میں ستر 70ملکوں کو دعوت دی جارہی ہے کیسے یورپی ممالک شرکت کرسکتے ہیں ۔

ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ مشرقی یورپی ممالک کو یورپی ممالک پر فوقیت دینا چاہتا ہے خاص کر کہ پولینڈ جہاں امریکی ایٹمی اسلحے سے لیس میزائل کی تنصیبات بھی موجود ہیں ۔پولینڈ کو بھی شاید سکھ کا سانس ملے گا کہ جو خودکو ہمیشہ روسی خطرے میں پاتا ہے اور اپنی مخصوص پالیسیز کے سبب یورپی قوموں کےدرمیان قدرے تنہائی کا احساس بھی رکھتا ۔

اگر ذرا ماضی پر نظر کریں تو واضح ہوگا کہ پولینڈ چار بار تقسیم اور تباہی کا شکار ہوا ہے اور ہر بار کی تباہی میں کہیں نہ کہیں روس کا کردار رہا ہے ،پولینڈ نازی جرمن ہو یا فرانس یا برطانیہ سب کو نہیں بھولا ۔راقم نے پولینڈ کے ایک سفر میں پولینڈکی عوام میں موجود روس مخالف جذبات کو واضح طور پر محسوس کیاتھا اور یہ بات واضح تھی کہ پولینڈی یورپ میں ہونے کے باوجود خود کو امریکہ کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں ۔البتہ یہ صورتحال پورے مشرقی یورپ کے اندر کم وبیش موجود ہے ۔

اس پوری کانفرنس کا ابتک سامنے آنے والا واحد ایجنڈا ’’ایران کا مقابلہ ‘‘کرنا ہے ،یعنی ستر70 ممالک اکھٹے ہوکر ایک ایسے ایران کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں کہ جن کے بارے میں وہ خود صبح و شام یہ کہتے تھکتے نہیں کہ ایران تنہا ہوچکا ہے ،اس کی معیشت تباہ ہوچکی ہے ،ایرانی عوام اپنے نظام کیخلاف ہے وغیرہ وغیرہ .

اس کانفرنس کے ایجنڈے کو بہتر انداز سے سمجھنے کے لئے اس کانفرنس میں دعوت دیے جانے والے ممالک کو دیکھنا ہوگا کہ جس میں نوے فیصد وہ ممالک ہیں جو ایران کے بارے میں منفی ایجنڈے رکھتے ہیں اور بین الاقوامی سیاست میں ایران کو اپنا حریف سمجھتے ہیں ،جن کے بڑے بڑے منصوبے مشرق وسطی ٰمیں بری طرح ناکامی کا شکار ہوچکے ہیں ۔

ادھر دوسری جانب امریکہ میں موجودہ ٹرمپ انتظامیہ میں دو افراد ایسے ہیں کہ جن کے خیالات ایران کو لیکر انتہائی سخت اور حقیقت سے ہٹ کر ہیں ۔تجزیہ کار وں کا خیال ہے کہ امریکہ میں اس وقت جو ماحول بنا ہوا ہے وہ مکمل طور پر ایران مخالف ماحول ہے جو ایران پر دبا ؤاور پابندیوں میںزیادہ سے زیادہ اضافہ چاہتا ہے ۔

دوسری جانب یورپ اور امریکہ میں باوجود کچھ اختلافات کے اس بات پر اتفاق نظر آتا ہے کہ ایران سے تعلق رکھنے والی بعض بنیادی پالیسیوں پر متفق ہوں ۔

آخر کار یہ دونوں ایک قسم کا قدرتی اتحاد رکھتے ہیں خواہ بہت سے مسائل میں باہم اختلافات بھی رکھتے ہوں ۔لیکن اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ کیاایران ان سب کا مشترکہ ایسا دشمن ہوسکتا ہے کہ جس کے خلاف ایک ایسا محاذ کھڑا کیا جائے جیسا کہ سوویت یونین کیخلاف کیا گیا تھا ؟

یہ وہ سوال ہے کہ جہاں آکر مختلف رائے سامنے آتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی ترجیحات اور اہداف مختلف ہوجاتے ہیں ۔یورپ بھی چاہتا ہے کہ ایران میزائل پروگرام کو بند کرے اور خطے میں جاری بحرانوں میں اپنے کردار میں کچھ گنجائش بنائے لیکن ان اہداف کے حصول کے لئے یورپ اب بھی دباؤ اور مذاکرات کا راستہ چننا چاہتا ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی جارحانہ انداز اپنانا چاہتے ہیں ۔

تو اس کانفرنس کے عملی نتائج کیا نکل سکتے ہیں ؟
ایران پر مزید پابندیاں کیونکہ عسکری آپشن کی گنجائش موجود ہ حالات میں دکھائی نہیں دیتی ۔کیونکہ ۔۔۔

الف :عسکری آپشن کا مقصد اگر ایران میں حکومت اور نظام حکومت کو ختم کرنا ہے تو اس کے لئے زمینی افواج کو اتارنا ضروری ہوگا جو کہ کسی بھی طور ممکن نہیں ہے اور ا سکی کوئی عملی شکل دکھائی نہیں دیتی ۔

ب:ایران پر فضائی اور میزائل حملے لیکن ان حملوں سے نہ تو حکومت کا خاتمہ ممکن ہے اور نہ ہی نظام حکومت کا بلکہ یہ حملے ایران کی عوام میں مزید ہم آہنگی اور وحدت کا سبب ہونگے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں ایران کے ساتھ ہمدردی میں اضافہ ہوگا ۔

ج:ایک ہی صورت دکھائی دیتی ہے کہ ایران کے اندر ان گروہوں کو ہوادی جائے جو وقتاً فوقتاً سڑکوں پر نکلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن ایسے گروہ کی تعداد انتہائی کم ہےجو نظام کے مخالف ہوں کیونکہ اس قسم کے گروہوں کی ماضی میں جتنی کوششیں ہوئی ہیں اسے خود ایرانی عوام نے دبایا ہے ۔

مزید اقتصادی پابندیاں اور دباو ٔ
پابندیوں کا تجربہ گزشتہ چالیس سالوں سے آزمایا جارہا ہے لیکن اس کے نتائج برعکس نکل آئے ہیں اور ایران ان پابندیوں کے سائے میں جینے اور آگے بڑھنے کا ہنر جان چکا ہے ۔یہ پابندیاں وقتی طور پر تو مسائل پیدا کریں گی لیکن اس سے ایران میں ان کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہونگے۔(بشکریہ فوکس آن ویسٹ اینڈساؤتھ ایشیاء)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …