جمعرات , 15 اپریل 2021

اشرف غنی‘ طالبان اور امریکہ افغان عوام پر رحم کریں

افغانستان کے صوبہ میدان وردگ کے دارالحکومت میدان شہر میں خفیہ ادارے این ڈی ایس کے تربیتی مرکز پر طالبان کے خودکش حملے کے نتیجے میں 126فوجی مارے گئے۔ افغانستان میں بارود‘ آگ اور خون کا سیل بلا تھمنے میں نہیں آ رہا۔ پہلے روس نے افغانستان کو فتح کرنے کی خاطر کھنڈرات میں تبدیل کیا۔ لیکن افغان قوم نے اپنے بچوں کو قربان کر کے ‘ہجرت کر کے ‘ بھوک اور پیاس برداشت کر کے روسیوں کو شکست دی۔ اس کے بعد جنگجو گروہوں نے آپس میں لڑنا شروع کر دیا۔ بالآخر کچھ جنگجو گروپس نے اپنے عوام کی حالت زار پر رحم کرتے ہوئے‘ ایک پرچم تلے جمع ہو کر ملک میں امن و امان کی فضا قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اڑھائی سال میں ان نوآموز لوگوں نے افغانستان میں مثالی امن قائم کر دیا۔ اڑھائی سال کے بعد امریکہ نے پھراس امن کو غارت کر دیا۔

2001ء سے لے کر اب تک امریکہ افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امن قائم کر سکا نہ ہی اس کے زیر سایہ قائم کرزئی اور اب غنی حکومت نے وہاں کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنا سکی ہے۔ نہ جانے 18سال کے بعد امریکہ کے دل میںر حم کے جذبے نے انگڑائی لی یا پھر اپنے شہریوں کے بڑھتے دبائو کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ سے انخلا کا اعلان کیا ہے۔ اس وقت افغانستان میں امریکہ کے چودہ ہزار فوجی مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ 8000نیٹو اتحادی فوجی موجود ہیں، جن کا مرکزی کردار افغان فورسز کو تربیت دینا اور اپنے زیر سایہ حکومت کو معتبر مشورے فراہم کرنا ہے لیکن اس کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہیں ہو رہا۔ کابل حکومت کا دائرہ اختیار اور کنٹرول چند بڑے شہروں کی سرکاری عمارتوں اور فوجی اڈوں تک محدود ہو ہے۔ ان علاقوں کو بھی مضبوط آہنی دیواروں اور خار دار تاروں سے محفوظ بنایا گیا ہے۔

افغان عوام سے ان کا کوئی رابطہ ہے نہ ہی عوام کے نزدیک ان کے کسی حکم کی کوئی حیثیت ہے۔ غنی حکومت میں شامل تمام افراد زمینی سفر سے گریز کرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اپنے ہی زیر کنٹرول سکیورٹی اہلکاروں پر اعتماد نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ افغانستان کے مستقبل کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ سوموار کو این ڈی ایس کے تربیتی مرکز پر طالبان نے حملہ کر کے دراصل امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ وہ کسی وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل طالبان نے ریڈ زون علاقوں میں بھی کارروائیاں کی ہیں۔ لیکن امریکی بیساکھیوں پر کھڑی غنی حکومت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ اگر 18سال کی امریکی جنگ کا جائزہ لیا جائے تویہ نتیجہ بر آمدہوتا ہے کہ اربوں ڈالر ضائع کرنے کے باوجود امریکہ افغانستان میں اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ اب تک امریکہ کے 2313فوجی قتل ہو چکے ہیں جبکہ ایک ہزار 70ارب ڈالر کا مالی نقصان ہواہے۔ غنی حکومت امریکی سرپرستی کے بغیر ایک دن بھی نہیں چل سکتی۔ ابھی حال ہی میں طالبان اور امریکی حکام کے مابین ہونے والے مذاکرات کے بعد کابل حکومت کے فوجیوں اور سول شعبوں میں کام کرنے والے افراد میں عدم تحفظ کا رجحان عروج پکڑ چکا ہے، جس کے باعث 990فوجی اور سول اہلکار طالبان سے جا ملے ہیں۔ اگر امریکہ انخلا کی تاریخ کا اعلان کر دیتا ہے جس کی دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں امید قائم ہوئی ہے، تو پھر غنی حکومت کی فوج شاید اس طرح قائم نہ رہ سکے۔

اشرف غنی نے خود کو امریکی انخلاء پر اعتماد میں نہ لینے پر امراللہ صالح کو وزیر دفاع جبکہ سعداللہ خالد کو وزیر داخلہ مقرر کیا تھا۔ جس کا مقصد اپنی فورسز کے حوصلے بڑھا کر انہیں طالبان کے مقابلے میں صف آرا کرنا تھا۔ لیکن ایک روز قبل امر اللہ صالح نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے‘ اب دیکھیں غنی حکومت اور کون سے پتے شو کر کے امریکہ کو بلیک میل کرتی ہے۔ لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ امریکہ اب مزید افغان جنگ کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ جبکہ غنی حکومت بھی اپنے پائوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس کا کوئی بھی ذریعہ آمدن نہیں۔ اپنے زیر کنٹرول 40فیصد علاقے سے بھی ٹیکس اکٹھا کرنے کی پوزیشن نہیں رکھتی۔ دوسری جانب افغان طالبان اپنے زیر کنٹرول 60فیصد علاقے سے ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں اور اس کے بدلے عوام کو ریلیف بھی فراہم کرتے ہیں جس بنا پر عوام میں ان کی قدرو منزلت بڑھ رہی ہے۔ طالبان نے ہر جگہ اپنی رٹ قائم کر رکھی ہے۔

عسکری محاذ پر بھی وہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ جبکہ اپنے زیر انتظام علاقوں میں سکولز‘ کالجز اور مدارس کا نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔ طالبان کے علاقوں میں بچیوں کو بھی باپردہ ماحول میں تعلیم دی جا رہی ہے۔ اس لئے آپ انہیں یہ طعنہ نہیں دے سکتے کہ وہ دنیا کے ساتھ چل نہیں سکتے۔ اپنے مزاج کے مطابق وہ اپنے عوام کو بہترین ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔ اشرف غنی کی نسبت افغان طالبان سے لوگ زیادہ مطمئن ہیں۔ اس لئے اشرف غنی جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں اگر شامل نہ ہوں تو یہی ان کے لئے بہتر ہے کیونکہ طالبان کسی طور بھی ان کے ساتھ چلنے کے لئے راضی نہیںہوگا۔ اگر طالبان نے جنگ بندی نہ کی یا پھر حکومت کے ساتھ شریک اقتدار نہ ہوئے تو افغانستان میں امن کا قیام کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں۔ حکمت یار کے بارے میں طالبان کی صفوں میں نرم گوشہ رکھنے والے جنگجو موجود ہیں۔ اس لئے اگر امریکہ بھی بطور افغان صدر امیدوار کے اس کی حمایت کرے تو امید کی جا سکتی ہے کہ شاید کچھ امن قائم ہو جائے۔ طالبان کو بھی اپنے عوام کی خاطر اپنے موقف میں لچک دکھاکر ایک طویل جنگ کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ افغان جنگ میں کئی نسلیں قبروں میں اتر چکی ہیں جبکہ باقی ماندہ میں سے کچھ زندگی بھر کے لئے معذور ہو چکے ہیں، جو تندرست ہیں انہیں امن فراہم کریں تاکہ وہ بھی اپنے مستقبل کے سہانے خواب پورے کرسکیں۔ اس بارے اشرف غنی ، طالبان قیادت اور امریکہ کو سوچنا چاہیے۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …