جمعہ , 23 اپریل 2021

سانحہ ساہیوال کے بعد

(تحریر: نذر حافی)

چند سال پہلے، تونس میں کسی سرکاری اہلکار نے طارق طیب محمد بن بوعزیزی نامی ایک شخص کی توہین کی، توہین کے بعد طارق طیب محمد بن بوعزیزی نے احتجاجاً اپنے آپ کو آگ لگا لی، جس کے بعد عوام سڑکوں پر نکل آئے اور یوں زین العابدین بن علی کی تئیس سالہ آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ ظالموں سے چھٹکارے کے لئے کسی نہ کسی کو قربانی دینی ہی پڑتی ہے، تیونس میں جس سرکاری شخص نے طارق طیب محمد بن بوعزیزی کی توہین کی تھی، وہ فقط ایک شخص تھا، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک شخص نے توہین کی ہے تو صرف اسے سزا دی جائے اور باقی آمریت کو ویسے ہی چلنے دیا جائے۔ چونکہ حکومت میں اچھے اور برے سب لوگ ہوتے ہیں، لہٰذا ایک شخص کی وجہ سے ساری آمریت کا تختہ نہ الٹا جائے۔ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے حالیہ ظلم کے بعد بعض احباب سی ٹی ڈی اور پولیس کے حق میں ایسی ہی دلیلیں گھڑ رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سب پولیس والے تو برے نہیں ہوتے، لہٰذا سیاست و وردی کے گٹھ جوڑ کی مخالفت نہیں ہونی چاہیئے اور موجودہ آمریت کو یونہی برقرار رہنا چاہیئے۔ ایسی باتیں کرنے والے دو طرح کے لوگ ہیں، ایک تو وہ ہیں جو سیاست اور وردی کے گٹھ جوڑ کو سمجھتے ہی نہیں اور دوسرے وہ ہیں، جو ان دونوں کے آلہ کار ہیں۔

اب تک جے آئی ٹی ٹیم نے 5 عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کئے ہیں، لائق صد ستائش ہیں وہ عینی شاہدین، جنہوں نے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر بیانات ریکارڈ کروائے ہیں۔ عینی شاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے پہلے فائرنگ کی گئی تھی اور حادثے میں جاں بحق افراد کی جانب سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔ ایک عینی شاہد کے مطابق پولیس نے گاڑی سے فائرنگ شروع کی تھی، جس کے نتیجے میں بچوں کی والدہ کو گولی لگی اور وہ اپنے بچوں پر گرگئی۔ بعد ازاں پولیس نے بچوں کو گاڑی سے باہر نکال کر دوبارہ فائرنگ شروع کر دی۔ خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل اعجاز حسین کی سربراہی میں حادثے کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ گذشتہ روز جے آئی ٹی کی ٹیم نے جائے وقوع کا معائنہ کیا اور لوگوں سے پوچھ گچھ کی تھی، اس موقع پر ٹیم میں لاہور اور ساہیوال پولیس کے اراکین شامل تھے۔ ایسی تحقیقات کے بعد زیادہ سے زیادہ ایک دو پولیس والوں کو برطرف کر دیا جائے گا یا برطرفی کے ہمراہ کچھ مزید سزا سنا دی جائے گی، جبکہ وردی کی آمریت جوں کی توں برقرار رہے گی۔ اس واقعے کے اصلی محرکات کو منظر عام پر نہیں لایا جائے گا اور یہ کیس اپنے مقتولین کے ہمراہ یونہی دفن ہو جائے گا۔

بعض تجزیہ کار اس واقعے کے اہم محرک کے طور پر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کو بھی دیکھتے ہیں۔ بہرحال بطورِ عوام ہمیں اپنے دفاع اور بچاو کے لئے سانحہ ساہیوال کے بعد کچھ اہم نکات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، جن میں سے چند ایک مندرجہ زیل ہیں:

1۔ مساجد کو محور بنایا جائے
ان مسائل کا پہلا حل یہ ہے کہ عوام تنگ نظر اور ان پڑھ مولویوں سے مساجد کو پاک کریں اور دینی مدارس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ علمائے کرام کو مساجد کی زینت بنائیں نیز اپنے روز مرہ مسائل کو استعمار کے بنائے ہوئے تھانے اور کچہریوں کے بجائے علمائے کرام کے پاس لے جائیں اور ان سے اپنے مقدمات کے فیصلے کروائیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ فیصلہ کرتے وقت علمائے کرام سے بھی غلطی ہوسکتی ہے، لیکن اس غلطی پر صبر کیجئے اور عنداللہ روز قیامت اجر کی امید پیدا کیجئے، چونکہ رشوت خور اور بھتہ خور لوگوں کو رقم کھلانے سے بہتر ہے کہ آپ وہ رقم معاشرے کے یتیم، مساکین و فقرا پر خرچ کریں اور اپنے رب سے فضل و کرم کی امید رکھیں۔ اسی طرح اپنے دیرینہ مقدمات اور جھگڑوں پر نظرثانی کریں، علمائے دین سے مشورہ کریں، اگر آپ نے اپنی انا اور ہٹ دھرمی کے باعث کسی پر ناحق مقدمہ قائم کیا تھا تو رضائے پروردگار کی خاطر اپنا مقدمہ واپس لے لیجئے۔ اس سے معاشرے میں اخوت و رواداری جنم لے گی اور اگر کسی نے ناحق آپ کے اوپر مقدمہ قائم کر رکھا ہے تو مفت خور وکلا کے بجائے متقی، متبحر اور تجربہ کار علمائے کرام کے ذریعے اپنے مخالفین سے رابطہ کیجئے اور مقدمے کے خاتمے کے لئے کوشش کیجئے۔ اپنے تمام تر جھگڑوں کو تھانوں اور کچہریوں کے بجائے مساجد میں علمائے کرام کے سامنے پیش کریں اور فقہی و اسلامی قوانین کی روشنی میں اپنے حق میں فیصلہ کروائیں، خواہ وہ فیصلہ آپ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

2۔ رزق حلال کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے
اپنے خاندان میں رزقِ حلال کو اہمیت دیں، اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے پیسے کی جمع آوری کے بجائے رزقِ حلال کو فوقیت دیں، اس شعور کو فروغ دیں کہ آمدنی بے شک کم ہو لیکن حلال ہو۔ ایسے شعبوں میں خود بھی بھرتی نہ ہوں اور اپنے عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی بھرتی ہونے سے منع کریں، جہاں حرام کی آمدن اور دنیا و آخرت کی لعنت کا امکان ہو۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو رزقِ حلال پر قانع کر دیں تو حرام خوروں کے اقتدار اور شر سے جان چھوٹ جائے گی۔ ہمیں ایسے دستر خوان پر نہیں بیٹھنا چاہیئے، جس پر لقمہ حرام کی موجودگی کا شائبہ ہو اور ایسے لوگوں سے رشتے ناتے نہیں کرنے چاہیئں، جو حرام کی کمائی کھاتے ہوں۔

3۔ تعلیم و تربیت پر توجہ
اگرچہ ہمارے ہاں یکساں نظامِ تعلیم نافذ نہیں، تاہم ہمیں اپنے بچوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں داخل کروانا چاہیئے کہ جہاں تعلیم کے ہمراہ دینی تربیت کا بھی اہتمام ہو، تاکہ ہمارا بچہ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ مہذب، بااخلاق، مودب اور بااصول انسان بھی ہو۔ وہ لوگوں کی جیبوں پر نظر رکھنے کے بجائے ان کے مسائل کے حل کے لئے بے قرار رہتا ہو۔ اس کے دل کو پیسے دیکھ کر سکون ملنے کے بجائے یاد خدا سے سکون ملتا ہو۔ ایسا ایک جامع نظامِ تعلیم کے ساتھ ہی ممکن ہے۔

4۔ گھریلو ماحول میں دینداری
ہمیں اپنے گھریلو ماحول کو بھی مسجد محور بنانا چاہیئے، پیسے کی پرستش کے بجائے، خدائے واحد کی عبادت و پرستش ہمارا معمول ہونی چاہیئے اور احکامات الٰہی کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہونا چاہیئے۔ تلاوت قرآن مجید، باقاعدہ نماز جماعت، روزے اور حج کو ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہیئے اور گھر میں بھی ہم سب پر واضح ہونا چاہیئے کہ حرام کمائی والے شخص کی کوئی عبادت قابل قبول نہیں۔

5۔ دینی تعلیم کا رجحان
جب معاشرے میں ظلم و جور، وحشت و بربریت اور لوٹ مار و حرام خوری کا دور دورہ ہے تو اس کی ایک اہم وجہ لوگوں کی دینی تعلیم سے نا آشنائی بھی ہے۔ ہمیں دینی مدارس سے مربوط ہونا چاہیئے اور اپنے ذہین و فتین بچوں کو دینی تعلیم کے لئے وقف کرنا چاہیئے۔ اسی طرح دینی مدارس کے سربراہوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسی ایجنسیوں اور اداروں کی چالوں میں نہ آئیں، جو بچوں کو مصلحین کے بجائے دہشت گرد بناتے ہیں۔

6۔ معاشرتی تبدیلیوں سے لاتعلق نہ ہوں
ہم اس ملک کے باسی ہیں اور اس قوم کا حصہ ہیں، ہمیں کسی بھی صورت میں معاشرتی تبدیلیوں سے الگ تھلگ نہیں ہونا چاہیئے، ہمیں ان لوگوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھانی چاہیئے، جو قوم کے نونہالوں کو دہشت گردی کی تربیت دیتے ہیں اور یا پھر سرکاری وردی پہن کر بے گناہ سول لوگوں کو قتل کرکے لوگوں کو باغی بننے پر مجبور کرتے ہیں۔

7۔ ظلم کو برداشت نہ کریں
جس طرح ظلم کرنا برا فعل ہے، اسی طرح ظلم کو برداشت کرنا، ظالم کی مدد کرنا، ظالم کی حمایت کرنا، ظالم کے ظلم پر پردہ ڈالنا اور ظلم کو ہوتے دیکھ کر اس کے لئے بہانے اور جواز ڈھونڈنا، یہ بھی گناہ اور قبیح فعل ہے۔ لہٰذا اگر کہیں پر ظلم کو ہوتا دیکھیں، کسی کو رشوت مانگتے یا کھاتے دیکھیں، یا آپ کے ساتھ کوئی زیادتی ہو جائے تو اس پر خاموش ہونے کے بجائے واویلا کریں اور کم از کم علمائے کرام اور کسی پریس کلب تک اپنی آواز پہنچائیں۔

8۔ 5 فروری یوم یکجہتی مظلومین
5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے بجائے یوم یکجہتی مظلومین کے نام سے منایا جائے، دنیا میں جہاں بھی ظلم ہو رہا ہے، اسے منظر عام پر لایا جائے اور مظلومین کی حمایت کی جائے۔ خصوصاً بین الاقوامی برادری سے یہ اپیل کی جائے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف پاکستان میں سی ٹی ڈی کے جرائم کی باقاعدہ تحقیق کرے اور لاپتہ لوگوں کو بازیاب کروائے۔

ہمیں سابقہ تاریخ (لیاقت علی خان، محترمہ فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو، علامہ عارف حسینی، آغا ضیاء الدین رضوی۔۔۔) کی روشنی میں ابھی سے یہ معلوم ہے کہ سانحہ ساہیوال کے بعد کچھ بھی نہیں ہونے والا، سوائے اس کے کہ زیادہ سے زیادہ چند پولیس والوں کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا، جبکہ سی ٹی ڈی کی آمریت جوں کی توں باقی رہے گی، سول لوگ حسبِ سابق لاپتہ ہوتے رہیں گے اور مختلف عنوانات سے ان کی کھال کھینچی جاتی رہے گی۔ لہٰذا ہمیں اس سامراجی و آمرانہ نظام سے چھٹکارے کے لئے بیک زباں ہوکر 5 فروری کو احتجاج کرنا چاہیئے اور مکمل طور پر دینِ اسلام کی آغوش میں پناہ لینی چاہیئے۔ بے شک دینِ اسلام ہی ہمارا اصلی محافظ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …