بدھ , 14 اپریل 2021

زندگی کی کشتی میں

(مظہر بر لاس)

ساہیوال میں پیش آنے والے دردناک واقعہ کے بعد میڈیا اور خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے بہت سے خیالات سننے کو ملے ہیں، خیالات کا اظہار کرنے والوں میں وہ لوگ بھی پیش پیش ہیں جو سانحۂ ماڈل ٹائون کے ذمہ دار ہیں، ایسے لوگ بھی بول رہے ہیں جو سانحۂ ماڈل ٹائون پر بالکل خاموش تھے۔

خواتین و حضرات! سانحہ کوئی بھی ہو، واقعہ کوئی بھی ہو، تکلیف ضرور ہوتی ہے خاص طور پر ایسا واقعہ جو بچوں کو یتیمی دے جائے اس پر آنسوئوں کو بھی رونا آتا ہے۔ ایسے واقعہ پر داستانیں روتی ہیں، ماحول روتا ہے، دل بھیگ جاتا ہے، آنکھوں سے برسات لگ جاتی ہے۔ میں نے پچھلے کالم میں بھی لکھا تھا کہ بیورو کریسی عمران خان کے لئے مسائل پیدا کر رہی ہے، بدقسمتی سے اس ملک کے ہمدرد بیورو کریٹس ایک مرتبہ پھر سے کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں اور جو بیورو کریٹس پچھلی حکومتوں میں ایسے واقعات کے خالق تھے، وہ ایک مرتبہ پھر سے اچھی پوسٹنگ لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس وقت بیورو کریسی انصاف پسند حکومت کو ناکام کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ اگر یحییٰ خان 303بیورو کریٹس کو نکال سکتے ہیں، اگر ذوالفقار علی بھٹو تیرہ سو بیورو کریٹس فارغ کر سکتے ہیں تو عمران خان کو کیا مسئلہ ہے، وہ کیوں ایسے بیورو کریٹس کو پال رہے ہیں جو معاشرے کے دشمن ہیں، جو کرپشن کے راستے کھولنا چاہتے ہیں، جنہیں ظلم کرتے وقت انسانیت کا کوئی پاس نہیں ہوتا، موجودہ حکومت جب تک ایسے افسران کو لگام نہیں دے گی، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ یہ افسران حکومت کو بدنام کرتے رہیں گے۔

یہ بات درست ہے کہ سانحۂ ساہیوال سے پہلے سانحۂ ماڈل ٹائون کی طرح وزیر اعلیٰ ہائوس میں کوئی میٹنگ نہیں ہوئی تھی، یہ بھی درست ہے کہ اس کی نگرانی وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری نہیں کر رہے تھے نہ ہی اس سانحہ کا آپریشنل انچارج صوبائی وزیر قانون تھا، یہ بھی مان لیتے ہیں کہ اس کا حکم وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے نہیں دیا تھا، ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ اس سانحہ سے پہلے وزیر اعظم سے منظوری بھی نہیں لی گئی مگر یہ واقعہ، یہ سانحہ ہمارے معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے، ہماری بے حسی کی مثال ہے، ہمارے منہ زور پولیس اہلکاروں کا بھیانک ’’چہرہ‘‘ ہے۔ ہماری انتظامیہ کی نااہلی کی جیتی جاگتی تصویر ہے، یہ سانحہ سفاکی کا عکاس ہے، ہمارے حکمرانوں کی ناکام حکمت عملی کا کھلا اعتراف ہے۔

اب بھی وقت ہے ہمارے حکمران ہوش کے ناخن لیں، سانحۂ ساہیوال میں ملوث اہلکاروں کو لٹکا دیں، صرف اہلکاروں کو لٹکانے پر اکتفا نہ کریں بلکہ ذمہ داروں کو بھی سخت سزائیں دیں، حکمرانوں کے پاس وقت ہے، انہیں چاہئے کہ وہ لگے ہاتھوں سانحۂ ماڈل ٹائون کے ذمہ داروں کو بھی سزائیں دیں، سانحۂ ماڈل ٹائون میں ملوث اہلکاروں کو لٹکا دیں تاکہ آئندہ کوئی اہلکار ایسا سوچ بھی نہ سکے، کسی اہلکار کی گولی اندھی نہ ہو، کوئی ذمہ دار ایسے واقعات کا خالق نہ بن سکے۔ موجودہ حکومت کو قانون بنانا پڑے تو بنائے مگر ان دونوں سانحات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے تاکہ یہ قاتل، یہ غنڈے جو سرکاری وردیاں پہن کر ظلم کی داستانیں رقم کرتے ہیں، خود عبرت کا نشان بن جائیں، انہیں عبرت کی مثال بنا کر معاشرے کو عمدہ بنایا جا سکتا ہے، یہاں سڑکوں پر آوارہ پھرتی موت کو روکا جا سکتا ہے، یہاں سفاکی کے راستے کو بند کیا جا سکتا ہے مگر یہ سب کچھ کرنے کے لئے ہمت چاہئے، انسانوں کو ہمت خدا دیتا ہے۔

وزراء کے متضاد بیانات کو چھوڑ دیں، عمران خان کے افسوس سے بھرے ہوئے ٹویٹس بھی چھوڑ دیں، عثمان بزدار کا ساہیوال پہنچنا بھی چھوڑ دیں، یہ سب اچھا ہے مگر یہ کہنا کہ بچوں کی کفالت ریاست کرے گی، یہ بھی درست ہے مگر میرے دیس کے حکمرانو! ریاست کفالت تو کر سکتی ہے بچوں کو ماں باپ نہیں دے سکتی۔ یہ بچے پل جائیں گے، پڑھ بھی جائیں گے، انہیں سہولتیں بھی مل جائیں گی لیکن انہیں ماں باپ کون دے گا، وہ اپنی پوری زندگی ماں باپ کے سائے سے محروم رہیں گے، ان پہ غم کا عالم ہمیشہ رہے گا، انہیں سڑکیں ماں باپ یاد کروایا کریں گی، وہ جب بھی بورے والا جائیں گے انہیں یہ ضرور یاد آئے گا کہ اسی راستے نے ان سے ماں چھینی تھی، اسی راستے نے ان سے باپ چھینا تھا، اسی راستے پر وہ بہن سے محروم ہوئے تھے۔ زندگی کی کشتی میں غم ان کے ساتھ رہے گا، خدارا! قاتلوں کو لٹکا دیجئے تاکہ انہیں سمجھ آسکے کہ زندگی کی کشتی میں موت کیسے سوار ہوتی ہے، زندگی کی کشتی میں یتیمی کا موسم کیسے آ جاتا ہے، سرور ارمان کے اشعار تلخیوں کی تصویر پیش کرتے رہیں گے کہ

تیرگی سے روشنی تعبیر کر دی جائے گی

رنگ سے محروم ہر تصویر کر دی جائے گی

عدل کے معیار میں آ جائیں گی تبدیلیاں

بے گناہی لائقِ تعزیر کر دی جائے گی

بانجھ ہو کر رہ گیا جس وقت دھرتی کا بدن

تب ہمارے نام یہ جاگیر کر دی جائے گی
(بشکریہ جنگ نیوز)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …