منگل , 13 اپریل 2021

اسرائیل بمقابلہ ایران

تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر اخبار رای الیوم)

اسرائیل گذشتہ ایک عرصے سے شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتا آیا ہے۔ البتہ حالیہ دنوں میں اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کی شدت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم فرق بھی دیکھا گیا ہے۔ یہ اہم فرق اسرائیلی حکام کی جانب سے شام پر فضائی جارحیت کی سرکاری طور پر ذمہ داری قبول کرنا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اس ہفتے اتوار اور پیر کے دن اسرائیل نے ایک بار پھر دمشق کے بعض علاقوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حکام نے سرکاری سطح پر ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کا مقصد شام میں ایران کے مبینہ فوجی مراکز کو نشانہ بنانا بیان کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کے یہ میزائل حملے ایران کی مرکزیت میں اسلامی مزاحمتی بلاک کیلئے بعض مثبت نتائج کا باعث بنے ہیں۔ اگر ہم گذشتہ چند دنوں میں اسرائیل کے ان حملوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا بغور جائزہ لیں تو دیکھیں گے کہ اسلامی مزاحمتی بلاک کے حق میں درج ذیل نتائج ظاہر ہوئے ہیں:

1۔ شام پر اسرائیلی جارحیت اور اس کے بارے میں اسرائیلی حکام کے اعلان کردہ موقف کا سب سے پہلا اور اہم ترین نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایران اسرائیل کا نمبر ون دشمن بن کر سامنے آیا ہے۔ ایران علاقائی اور عالمی سطح پر ایک ایسی فوجی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جس سے اسرائیلی سیاستدان اور فوجی کمانڈرز شدید خوفزدہ ہیں اور اسے اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں۔ اس کی اہمیت اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب ہم اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان گذشتہ ایک صدی سے شروع ہونے والے تنازعے کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں۔ اس تنازعے کی تاریخ میں جو ملک بھی اسرائیل کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر سامنے آیا ہے عرب اور اسلامی دنیا میں اسے ایک ہیرو کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ تاریخ میں یہ کردار کئی عرب ممالک کو حاصل رہا ہے لیکن آج ایران اس کردار کے روپ میں ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔

وہ حقیقت جس سے بعض عرب حکمران غافل ہیں یہ ہے کہ ایران ایک ایسے ملک میں تبدیل ہو چکا ہے جس نے اسرائیل سے ٹکر لے رکھی ہے اور اسرائیل کا مدمقابل تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ امر اسرائیل کے خلاف جدوجہد میں عرب ممالک کی عدم موجودگی کے باعث پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کا باعث بنا ہے۔ آج ایران پورے عرب خطے کا لیڈر بن چکا ہے جس کے نتیجے میں ماضی میں عرب حکمرانوں اور میڈیا کی جانب سے ایران پر جتنے بھی توہین آمیز عناوین جیسے مجوسی وغیرہ لگائے جاتے تھے ان سے مبرا ہوتا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن، عراق، شام، فلسطین اور لبنان میں ایران کا اثرورسوخ بڑھتا جائے گا اور بہت جلد سوڈان میں بھی ایران واپس آ جائے گا۔ وہ عرب حکمران جنہوں نے اسرائیل سے سازباز کا راستہ اختیار کر رکھا ہے ان پر یہ محاورہ سجتا ہے کہ "دوسروں کی آنکھوں تو بال بھی دیکھ لیتے ہیں لیکن اپنی آنکھ میں تیر بھی نظر نہیں آتا۔”

2۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ شام پر اسرائیل کے ہوائی حملوں کے بارے میں روس کا موقف موجودہ سال میں گذشتہ برس سے مختلف ہو۔ اس کی ایک وجہ شام پر مسلسل اسرائیلی جارحیت پر خاموشی اختیار کرنے پر روس پر ہونے والے اعتراضات ہیں۔ یہ امر خطے میں شام کا ایک بااعتماد اتحادی ہونے کی حیثیت سے روس کی پوزیشن خراب ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا یہ محض اتفاق نہیں کہ روسی حکام نے اخبار کامرسینٹ کو فراہم کردہ ایک رپورٹ میں جو منگل کے روز شائع ہوئی ہے اس بات پر زور دیا ہے کہ روس کی جانب سے شام کو مہیا کیا گیا جدید میزائل ڈیفنس سسٹم ایس 300 مارچ کے مہینے سے آپریٹو ہو جائے گا۔ اس رپورٹ سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ اب تک اسرائیلی فضائی جارحیت کے مقابلے میں روسی میزائل ڈیفنس سسٹم نے کیوں کوئی سرگرمی ظاہر نہیں کی ہے۔ اب تک شام کا فضائی دفاع قدیم میزائل ڈیفنس سسٹمز جیسے پانتسیر اور بوک کے ذریعے ہوتا آیا ہے۔ ایس 300 میزائل ڈیفنس سسٹم کے ایکٹو ہو جانے کے بعد شام کے فضائی دفاع میں انقلابی تبدیلی رونما ہو گی۔

3۔ ایسے شواہد موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس اور اسرائیل کے درمیان ایران کی حمایت یافتہ فورسز کا اسرائیل کی سرحد سے 80 کلومیٹر دور رہنے پر مبنی معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ روس اور اسرائیل کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی اور ایران کی حمایت یافتہ فورسز گولان ہائٹس اور دیگر علاقوں میں اسرائیل کی سرحد سے 80 کلومیٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں گی۔ لیکن اب ایسی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی فورسز گولان ہائٹس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دیکھی گئی ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ روس اور اسرائیل کے درمیان مذکورہ بالا معاہدے کی میعاد پوری ہو چکی ہے۔ یہ اسلامی مزاحمتی بلاک کیلئے ایک اچھی خبر ہے۔ اسرائیل نے حالیہ جارحیت کے بعد بڑے زور و شور سے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اس نے دمشق میں ایران کے فوجی مراکز کو نشانہ بنایا ہے جبکہ خود اسرائیلی فوجی ماہرین بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ایک بے بنیاد دعوی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ایسے دعووں کے ذریعے ایک تلخ حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ بہت جلد گولان ہائٹس پر ایک نیا اسرائیل مخالف محاذ کھلنے جا رہا ہے جس نے اسرائیل کو شدید خوف اور وحشت کا شکار کر دیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …