جمعرات , 15 اپریل 2021

شام پر نئے اسرائیلی حملوں کا پس منظر

(ثاقب اکبر)

ہفتہ 19 جنوری 2018ء سے اسرائیل نے شام پر نئے حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ حملے ابتداء میں شام کے جنوبی شہر سویدا میں کئے گئے، جبکہ 21 جنوری کو دمشق کے نواح میں ہوائی اڈے پر کئے گئے۔ اس روز اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو چاڈ کے دارالحکومت انجامنا میں موجود تھے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد شام میں موجود ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کے حوالے سے طرفین کی طرف سے مختلف دعوے کئے گئے ہیں۔ شام کا یہ کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے فائر کئے گئے بیشتر میزائلوں کو نشانے پر پہنچنے سے پہلے فضا ہی میں ضائع کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ شام پر یہ حملے جاری رہیں گے۔ اسرائیلی فوج کے ایک جنرل گارڈی آئزن کورٹ نے حال ہی میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیل نے اب تک غیر اعلانیہ طور پر شام پر ہزاروں حملے کئے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی عہدیدار بہت کم اسرائیل سے باہر اپنے حملوں کو تسلیم کرتے رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ جو ہمیں نقصان پہنچائے گا، ہم اسے نقصان پہنچائیں گے۔ اسرائیل نے سینکڑوں مرتبہ شام میں حزب اللہ اور ایران کو حامیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

حملوں کے تازہ سلسلوں میں یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ اسرائیل اس سے پہلے رات کی تاریکی میں حملے کرتا رہا ہے، لیکن 20 جنوری کو اس نے دن کے وقت حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کسی نئی مہم جوئی کی فکر میں ہے۔ اس ضمن میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا یہ بیان بھی قابل توجہ ہے کہ اگر اسرائیل کو ایران سے حقیقی خطرہ لاحق ہوا تو وہ ایران پر ڈائریکٹ حملہ بھی کرسکتا ہے۔ دوسری طرف سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے اسرائیلی وزیراعظم کے جواب میں کہا ہے کہ ہم شام میں اپنے فوجی مشیروں اور تربیت و تقویت کے لئے مہیا کئے گئے وسائل کی حفاظت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ملک شام اور اس کے مظلوم عوام کی حمایت جاری رہے گی۔ روس نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ وہ شام پر حملوں کا سلسلہ بند کرے۔ تاہم دیگر اہم ممالک اور ادارے ابھی تک بظاہر اسرائیل کے شام پر اچانک بڑھتے ہوئے حملوں پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ ابھی تک اقوام متحدہ، یورپی یونین اور چین کی طرف سے ان حملوں کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

ان حملوں کی وجوہات پر مختلف قیاس آرائیاں اور تجزیات جاری ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ اس کی وجہ اسرائیل میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں لیکویڈ پارٹی اور اس کے قائد نیتن یاہو کی ساکھ کو بہتر بنانا ہے، جو پہلے ہی خاصی خراب ہوچکی ہے۔ اول تو نیتن یاہو پر کرپشن کے ہوشربا الزامات ہیں اور دوسری طرف ان کی حکومت کے دوران میں غزہ پر حملوں میں اسرائیل کو حیرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب وہ اپنے تیئں ایران مخالف کارروائیوں کے ذریعے اپنی ساکھ بہتر بنانے کے درپے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح سے ہے، جیسے بھارت میں پیش آمدہ انتخابات میں بی جے پی کے قائد مودی اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کا سلسلہ تیز کئے ہوئے ہیں۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ نریندر مودی کو بھی کرپشن کے شدید الزامات کا سامنا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے شام پر ڈائریکٹ حملوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جا رہی ہے کہ شام میں سات سالہ دہشتگردی کے بعد دہشتگرد گروہ بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کار یہ کہتے رہے ہیں کہ ان دہشتگرد گروہوں کا مقصد شام میں برسراقتدار اس حکومت کو کمزور کرنا ہے، جو اسرائیل کے سامنے سر جھکانے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔ شام میں موجود دہشتگرد گروہوں کو اسرائیل کی نیابت میں نبرد آزما گروہ ہی سمجھا جاتا رہا ہے۔ امریکہ کی شام میں فوجی موجودگی بھی انہی گروہوں کی تقویت کے لئے رہی ہے، لیکن اب شام کا بیشتر حصہ شام کی سرکاری فوجوں کے قبضے میں آچکا ہے۔ امریکہ جو ہمیشہ دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی میں سرگرم ہوتا ہے، اب شام میں رہنا اس کے لئے مشکل ہوچکا ہے۔ اسی لئے گذشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے شام سے اپنی تمام افواج کو نکالنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اسرائیل اور سعودی عرب کی مخالفت کی وجہ سے اس حوالے سے کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کرسکا۔ البتہ حالات اسے اجازت نہیں دیتے کہ وہ زیادہ دیر شام میں موجود رہے۔

ادھر ترکی کا بھی شام میں رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے، چونکہ وہ جس کرد گروہ کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتا تھا، اس نے اپنے زیر قبضہ کئی علاقے شام کی سرکاری فوجوں کے حوالے کر دیئے ہیں اور ترک فوج نہیں چاہتی کہ اس کا بلاواسطہ معرکہ شام کی سرکاری فوج سے ہو۔ ان حالات میں اسرائیل کو ایک نفسیاتی شکست کا سامنا ہے، جبکہ ایران جو بشار الاسد کی حکومت کا حامی رہا ہے، اسے نفسیاتی طور پر ایک بالادستی حاصل ہے۔ اسرائیل کی قیادت کے لئے ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ اپنی فوج اور عوام کا مورال بلند کرے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے کبھی کوئی کارروائی داعش یا النصرہ جیسے دہشتگرد گروہوں کے خلاف نہیں کی، جبکہ وہ حزب اللہ کے خلاف حملوں کا اعلان کرتا رہا ہے۔ اب جبکہ النصرہ اور داعش جیسے دہشتگرد گروہوں کا زور ٹوٹ چکا ہے اور شام کا بہت کم علاقہ دہشتگرد گروہوں کے پاس باقی رہ گیا ہے، جن کے خلاف سرکاری فوج گھیرا تنگ کر رہی ہے اور امریکہ بھی انہیں بیچ منجدھار میں چھوڑ کر واپسی کا ارادہ کئے بیٹھا ہے، ایسے میں اسرائیل ان حملوں سے کیا نتائج حاصل کرسکتا ہے۔

کیا واقعی یہ معرکہ اسرائیل اور ایران کے مابین ایک کھلی جنگ کی شکل اختیار کرسکتا ہے؟ اس وقت یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اگر خدا نخواستہ ایسا ہوگیا تو اس کا انجام کیا ہوگا؟ وہ اسرائیل جو حزب اللہ اور حماس سے شکست کھا چکا ہے، کیا وہ اپنے آپ کو اس جنگ کے لئے ذہنی طور پر تیار پاتا ہے؟ ایسے میں ایک نئی خبر یہ آئی ہے کہ اسرائیلی خفیہ تنصیبات کے اوپر بعض ڈرون طیاروں کی پرواز کو دیکھا گیا ہے، جن کی شناخت ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔ اس خبر سے اسرائیل کے اندر ایک خوف اور سراسیمگی کی فضا پیدا ہوچکی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں مسائل جس طرف بڑھ رہے ہیں، اگر اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو اسرائیل کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہوتا چلا جائے گا اور شاید وہ پیش گوئی پوری ہو جائے، جس کے مطابق چند سال پہلے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ اسرائیل 25 برس سے زیادہ باقی نہیں رہ سکتا۔ البتہ مستضعفین سے کامیابی کا وعدہ کرنے والا پروردگار بہتر جانتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …