بدھ , 14 اپریل 2021

سانحہ ساہیوال میں اہم انکشافات، فائرنگ کا حکم کس نے دیا تھا؟

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ ساہیوال میں بے گناہوں کو گولی کس نے ماری ، بغیر سوچے سمجھے فائرنگ کرنے کا حکم کس نے دیا ، حقائق سامنے آگئے،تفصیلات کے مطابق ساہیوال میں ذیشان اور خلیل کی گاڑی پر فائرنگ کا حکم ایس ایس پی جواد قمر نے دیا،سی ٹی ڈی ذیشان کو زندہ پکڑنا ہی نہیں چاہتی تھی، کار میں سوار افراد کو گولی مارنے کا حکم ایس ایس پی جواد قمر نے دیا، ایس ایس پی جواد قمر واقعہ کے 45منٹ بعد جائے وقوعہ پرپہنچے۔

ایس ایس پی جواد قمر جائے وقوعہ پرپہنچنےکےبعدکار سے سامان نکالتے رہے، جواد قمر کی موقع پر پہنچ کر سامان نکالنے کی موبائل فوٹیج سے بھی تصدیق ہوئی، جواد قمر کے احکامات پر ہی لاشوں کو پولیس کی گاڑی میں رکھتے دیکھا گیا، جواد قمر نےلاشوں کو ہسپتال کی بجائے پولیس لائنز بھجوانے کاحکم دیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ 6 گھنٹے بعد پولیس نے لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا، حکومت نےایس ایس پی سی ٹی ڈی کی شمولیت کا معاملہ ہی گول کر ڈالا، دوسری جانب پولیس افسران پیٹی بھائی کو بچانے کے لیے متحرک ہو گئی۔

علاوہ ازیں جے آئی ٹی ممبران نےآپریشن کے دوران کتنےفاصلے سےگولیاں ماری گئیں؟ آپریشن میں استعمال پولیس کی گاڑی،اسلحہ،خول کوفرانزک کیلئے بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں پولیس کی گاڑی پرلگنےوالے فائر کیلئے کونسااسلحہ استعمال ہواتعین کیاجائیگا، جےآئی ٹی نے13عینی شاہدین،7سی ٹی ڈی اہلکاروں کےبیانات قلمبندکروالیے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …