جمعرات , 15 اپریل 2021

امریکی سینیٹ نے شٹ ڈاؤن ختم کرنے کا بل مسترد کردیا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈیموکریٹک اور ریپبلکنز کی جانب سے امریکا کی تاریخ کے سب سے طویل شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کا بل سینیٹ نے مسترد کردیا جس کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ اور کانگریس کے پاس وفاقی ایجنسیز کی بندش کو ختم کرنے اور اس سے معیشت کو ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کا مزید کوئی طریقہ نہیں رہا۔

خیال رہے کہ کانگریس نے امریکی صدر کے مطالبے پر دیوار کی تعمیر کے لیے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر فنڈز کے اجرا کی منظوری دینے سے انکار کردیا تھا جس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی اداروں کے لیے پیش کیے جانے والے بجٹ پر دستخط کرنے سے انکارکردیا تھا اور اس کی وجہ سے امریکا میں شٹ ڈاؤن کا آغاز ہوگیا تھا، اس صورتحال سے امریکی حکومت کے 8 لاکھ ملازمین متاثر ہورہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے امیرترین رکن، کامرس سیکریٹری ولبر روس نے کہا کہ وفاقی ملازمین کو شٹ ڈاؤن میں گزارہ کرنے کے لیے قرضوں کا سہارا لینا چاہیے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولرز، فلائیٹ اٹینڈنٹس اور پائلٹس کی نمائندگی کرنے والی یونین کا کہنا تھا کہ ایئر پورٹ پر عملے کی کمی کی وجہ سے لمبی قطاریں مسافروں کو دور بھگانے کا ذریعہ بنیں گی جو معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ کابینہ کی سطح کے 15 میں سے 9 محمکموں کو فنڈ نہیں دیا جارہا۔ان میں، زراعت، ہوم لینڈ سیکیورٹی، اسٹیٹ، ٹرانسپورٹیشن، داخلہ اور انصاف شامل ہیں جبکہ چند نیشنل پارکس کی سہولتیں بھی بند ہیں اور ناسا کے بھی تقریباً تمام ملازمین کو گھر پر رہنے کا کہا گیا ہے۔

امریکی شٹ ڈاؤن کی تاریخ
اگر ہم امریکی شٹ ڈاؤن کی بات کریں تو اس کا آغاز 1976 میں ہوا تھا اور اب تک 21 مرتبہ امریکا کو اس شٹ ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔امریکی ویب سائٹ واکس کے مطابق 1976 میں امریکی صدر جیرالڈ فورڈ کے دور میں پہلا شٹ ڈاؤن 30 ستمبر سے 11 اکتوبر تک جاری رہا۔امریکی تاریخ کا دوسرا شٹ ڈاؤن 1977 میں صدر جمی کارٹر کے دور میں ہوا اور یہ 30 ستمبر سے 13 اکتوبر تک رہا تھا۔

تاہم اس شٹ ڈاؤن کے اختتام کے کچھ روز بعد ہی 31 دسمبر 1977 کو امریکا میں تیسرا شٹ ڈاؤن ہوا جو 9 نومبر تک جاری رہا۔ امریکی کا چوتھا شٹ ڈاؤن بھی 1977 میں ہی ہوا، جس کا دورانیہ 30 نومبر سے 9 دسمبر تک تھا۔

اس کے بعد 1978 میں صدر جمی کارٹن کے دور میں ہیں امریکا میں ایک اور شٹ ڈاؤن ہوا، جو 30 ستمبر سے 18 اکتوبر تک جاری رہا۔ امریکی صدر جمی کارٹن کی ہی تاریخ کا پانچواں شٹ ڈاؤن 30 ستمبر سے 12 اکتوبر 1979 تک ہوا۔

بعد ازاں امریکی میں 1981 میں 20 سے 23 نومبر کے درمیان شٹ ڈاؤن ہوا، اس دوران امریکا کے صدر رونلڈ ریگین تھے۔امریکی تاریخ میں آٹھواں شٹ ڈاؤن 1982 میں 30 ستمبر سے 2 اکتوبر کے درمیان ہوا، اسی سال کا دوسرا شٹ ڈاؤن 17 دسمبر کو شروع ہوا جو 21 دسمبر کو ختم کیا گیا۔

اگلے ہی سال 1983 میں 10 سے 14 نومبر تک امریکی تاریخ کا 10واں شٹ ڈاؤن کیا گیا جبکہ 30 ستمبر سے 3 اکتوبر 1984 میں بھی امریکا میں شٹ ڈاؤن ہوا، تاہم یہ شٹ ڈاؤن ختم ہوتے ہی دوبارہ شروع ہوا اور 5 اکتوبر تک جاری رہا۔

رونلڈ ریگین کے دور کا ایک او شٹ ڈاؤن 1986 میں 16 سے 18 اکتوبر تک ہوا جبکہ 1987 میں 18 سے 20 دسمبر تک بھی امریکا میں شٹ ڈاؤن کیا گیا۔اس کے بعد امریکی تاریخ کا 15واں شٹ ڈاؤن 1990 میں 5 اکتوبر سے 9 اکتوبر تک ہوا، اس دوران امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش تھے۔

بعدازاں 1995 میں صدر بل کلنٹن کے دور میں 13 سے 19 نومبر تک شٹ ڈاؤن کیا گیا، جس کے بعد انہیں کے دور میں دسمبر 1995 سے جنوری 1995 تک ایک مرتبہ پھر شٹ ڈاؤن ہوا۔امریکا میں 18واں شٹ ڈاؤن 2013 میں صدر باراک اوباما کے دور میں ہوا اور یہ یکم سے 17 اکتوبر تک جاری رہا تھا۔

اس کے بعد گزشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 3 شٹ ڈاؤن ہوئے، جن کا آغاز 20 جنوری 2018 سے ہوا اور وہ 3 دن بعد 23 جنوری کو ختم ہوگیا۔سال 2018 کا دوسرا شٹ ڈاؤن 9 فروی کو ہوا جو صرف ایک ہی روز میں ختم کردیا گیا۔تاہم گزشتہ برس 22 دسمبر سے شروع ہونے والا امریکی تاریخ کا 21واں شٹ ڈان تاحال جاری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …