منگل , 13 اپریل 2021

بھارتی حکمرانوں کا ذہنی افلاس

(ظہیر اختر بیدری)

کائنات میں ہماری دنیا یعنی کرہ ارض جیسے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں سیارے ہیں ، کائنات میں ہمارے نظام شمسی جیسے کروڑوں نظام شمسی ہیں جن کی عمرکا اندازہ کرہ ارض کی عمرکے تناظر میں کیا جاسکتا ہے۔

میں اپنے کالموں میں وقتاً فوقتاً کرہ ارض نظام شمسی اور کائنات کا ذکر کرتا رہتا ہوں پاکستان کی بائیس کروڑ اور دنیا کی 7 ارب آبادی میں مشکل سے 4-3 فیصد آبادی ایسی ہوگی جو کائنات دنیا نظام شمسی وغیرہ کے بارے میں جانتی ہو باقی 90 فیصد سے زیادہ آبادی اس حوالے سے ناخواندہ ہے۔ پسماندہ ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے اس حوالے سے کس قدر نالج رکھتا ہے اس کا اندازہ اس ناگوار حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ لاکھوں پاکستانیوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ پاکستان کی آبادی کیا ہے؟ بڑے شہروں کے نام کیا ہیں اور بڑے شہر کتنے ہیں۔

کائنات کے علم کے ساتھ ہماری ذہنی پسماندگی جڑی ہوئی ہے، ہماری بہت ساری روایات رسم و رواج حتیٰ کہ بعض عقائد بھی کائنات کے علم سے لاعلمی کی وجہ ہماری زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں، مثلاً زمین گول ہے یا چپٹی ۔ چاند کے دھبے کیا ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ آج اصل میں ہمارے کالم کا موضوع بھارتی حکمرانوں کا ذہنی افلاس ہے، اس موضوع کے انتخاب میں عقائد و نظریات کا براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بات نظریات کی آتی ہے تو پھر سیکولرزم ہمارے سامنے آتا ہے جو بھارت کا فکری مرکز ہے۔
سیکولرزم کا عمومی مطلب حکومت کی مذاہب اور عقائد سے غیر جانبداری لیا جاتا ہے۔ لیکن یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ بھارت ہر آنے والے دن زیادہ مذہبی ہو رہا ہے۔ بھارت کی ابتدائی حکومتوں میں روشن خیال رہنما تھے لیکن آہستہ آہستہ ان کی جگہ لینے والے مذہبی اور مذہبی انتہا پسند ہوتے چلے گئے اور اب بھگوان کی کرپا سے کٹر مذہبی ہوتے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بھارت ایک کٹر مذہبی ملک بنتا جا رہا ہے۔

بھارت کی اسی مذہبیت اور سامراجی ذہنیت کی وجہ 70 ہزار کشمیری جان سے گئے۔ یہ کشمیری اس لیے جان سے گئے کہ وہ مسلمان تھے۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو مذہبی تفریق کی وجہ سے قتل کر رہا ہے مذہبی تفریق کی وجہ سے نفرت کرتا ہے۔ اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی حکمران کشمیر کو سیکولرزم کے لیے بھارت کے زیر تسلط رکھنا ضروری سمجھتے ہیں اور کشمیری مسلمانوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک نے 8 لاکھ فوج کشمیر میں لگا رکھی ہے۔

بعض حوالوں مثالوں کو ان کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر بار بار دہرانا پڑتا ہے۔ بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور پاکستان ایک مذہبی ملک ہے لیکن بھارتی عوام کا کردار مذہبی اور پاکستان کے عوام کا کردار سیکولر ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ پاکستان کے ہر انتخابات میں پاکستانی عوام لبرل جماعتوں کو لبرل رہنماؤں کو منتخب کرتے ہیں اور بھارتی عوام عموماً مذہبی جماعتوں کو منتخب کرتے ہیں اور بی جے پی بھارت کی کٹر مذہبی جماعت آج بھی بھارت کی حکمران پارٹی ہے اور بھارت میں ہندوتوا کی دعویدار ہے جس سے بھارت اور بھارتی عوام کے کٹر پن کا اندازہ ہوسکتا ہے۔

متحدہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی صرف 12 فیصد تھی اور ہندو 88 فیصد تھے، کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ 12 فیصد آبادی ایک ہزار سال تک 88 فیصد پر حکومت کرتی رہی۔ بادشاہت کو ایک بدتر اور غیر منطقی نظام کہا جاتا ہے لیکن اس بدتر اور غیر منطقی نظام میں کون سا جادو تھا کہ اس نے 12 فیصد کو ایک ہزار سال تک 88 فیصد پر حکومت کرنے کا موقعہ عطا کیا۔ اس ایک ہزار سالہ نظام میں مذہبی منافرت مذہبی حوالوں سے قتل و غارت کا کلچر مضبوط نہ تھا۔ اب ہم 71 سالہ جمہوریت گزار رہے ہیں اور اس جمہوریت کا حال یہ ہے کہ مذہبی تفریق مذہبی منافرت انتہا پر ہے اس ایک ہزار سال تک متحد رہنے والے ملک کی ابتدا 22 لاکھ انسانوں کے وحشیانہ قتل سے ہوئی۔

نفرتوں کا عالم یہ تھا کہ ایک مذہب کے ماننے والے دوسرے مذہب کے ماننے والوں سے اس قدر شدید نفرت کرتے تھے کہ حاملہ ماؤں کے پیٹوں سے بچوں کو نکال کر مار دیتے تھے۔ شاہی دور میں لوگ پڑھے لکھے نہیں تھے جاہل تھے کہا جاتا ہے کہ جہالت سو بیماریوں کی ماں ہوتی ہے لیکن دور حاضر کی تعلیم اور تعلیم یافتہ آبادی سو بیماریوں کی ماں بن گئی ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تعلیم کوئی خراب چیز ہے جس سے دور رہنا چاہیے لیکن اس حقیقت کو کیا کہیں کہ تعلیم خصوصاً جدید علم نے انسانی زندگی میں انقلاب پیدا کردیا ہے اور دنیا کو ایسی ایسی ناقابل یقین کامیابیاں دلائی ہیں جن پر یقین کرنا مشکل ہے لیکن اس کے جلو میں جو تباہیاں آئی ہیں وہ اس قدر شرمناک ہیں کہ ترقی کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔

بھارت کی انتہا پسندی کے فلسفے نے بھارت کا سیکولر چہرہ بگاڑ دیا ہے۔ بھارت کا سیکولرزم جنوبی ایشیا کے لیے حوصلہ افزا ہوسکتا تھا اور ہونا چاہیے تھا لیکن بی جے پی کی مذہبی انتہا پسندی اور مسئلہ کشمیر کی وجہ سے نہ صرف سیکولرزم کو سخت نقصان پہنچا بلکہ مذہبی انتہا پسند طاقتیں مضبوط ہوتیں پاکستان کا موقف چونکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے منطقی ہے لہٰذا خط میں مذہبی انتہا پسندی کے فروغ کا الزام کم ازکم اس حوالے سے پاکستان پر عائد نہیں ہوتا۔

میں نے باضابطہ ایک مدلل مثال کے حوالے سے وضاحت کی تھی کہ عام انتخابات میں ہندوستان میں عام آدمی کا ووٹ مذہبی انتہا پسند طاقتوں کو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں بی جے پی جیسی انتہا پسند حکومتیں اقتدار میں آجاتی ہیں جب کہ پاکستان میں 71 سال کے دوران ایک بار بھی مذہبی انتہا پسند طاقتیں اقتدار میں نہ آسکیں حالانکہ مذہبی جماعتوں نے انتخابات جیتنے کے لیے بار بار اتحاد کیے لیکن عوام نے ان اتحادوں کو مسترد کردیا۔

ہم نے دونوں ملکوں کی مذہبی سیاست کے حوالے سے کچھ حقائق پیش کیے جس کا مقصد دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان مذہبی منافرت پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنانا تھا۔ اس حوالے سے اصل مسئلہ اب بھی کشمیر ہے اگر بھارتی حکمران طبقہ چاہتا ہے اور اسے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستی اور بھائی چارہ منظور ہے اور وہ اس کی اہمیت سمجھتا ہے اور خطے پر اس کے منفی اثرات کو روکنا چاہتا ہے تو اسے کشمیر کا مسئلہ بہرحال حل کرنا چاہیے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …