بدھ , 14 اپریل 2021

‘معرکہ فرقان’ ۔ اسرائیلی بربریت کی المناک یادوں کے10 سال!

27دسمبر 2008ء کو صبح کا آغاز تو معمول کے سکون کے ساتھ ہوا مگر دن چڑھتے ہی غزہ کی پٹی پر صہیونی غاصب دشمن نے آتش وآہن کی بارش شروع کردی۔ اس وقت غزہ پرمسلط کردہ محاصرے کو 10 سال بیت چکے تھے۔ فلسطینیوں پر زمینی، فضائی اور بحری حملوں کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہوا جب غزہ کے عوام بدترین ناکہ بندی کا سامنا کر رہے تھے۔

مقامی وقت کے مطابق دن کے 11 بج کر 27منٹ پر غزہ کی پٹی کی فضاء صہیونی ریاست کے جنگی طیاروں سے گونج اٹھی۔ ایک ہی وقت میں اسرائیل کے 80 جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں دسیوں شہری اور سیکیورٹی اہداف پروحشیانہ بم باری شروع کردی۔ اس پہلے جارحانہ حملے میں کم سے کم دو سو فلسطینی شہری شہید اور ایک ہزار کےقریب زخمی ہوگئے۔

ناقابل بیان مشاھدات
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دشمن نے دھوکے میں ان پر وار کیا۔ جنگ کی فضاء ضرور تھی مگراچانک حملے کا امکان نہیں تھا۔ صہیونی دشمن نے جنگی طیاروں نے چند منٹ کےاندر غزہ کی پٹی میں قیامت ڈھا دی تھی۔ ایک ہی وقت میں سیکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ ہرطرف شہداء کے جسد خاکی اور تڑپتے زخمی، چیخ پکار، خوف اور دہشت کا ایسا ماحول کہ کسی کو کوئی سجھائی نہ دیتا تھا۔ ہرطرف خون ہی خون، اسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے۔اس وقت کے مناظرکو فلسطینی قوم کبھی نہیں بھلا پائے گی۔ فلسطینیوں کا اس قدر وحشیانہ قتل عام کہ خوفناک فلموں میں بھی ایسے مناظر نہیں دیکھے جاتے۔

صہیونی دشمن کی طرف سے یہ آخری وار نہیں تھا بلکہ اس کے بعد مسلسل 8دن تک غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجائی جاتی رہی۔ ہرآنے والےدن بمباری پہلے سے زیادہ کی جاتی اور زیادہ تباہ کن بم استعمال کیے جاتے۔ صہیونی ریاست کی دہشت گردی اور بربریت کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے بھی اپنی بساط کے مطابق غزہ کے اطراف کی یہودی کالونیوں پر راکٹ حملے کئے۔

صہیونی دشمن نےبمباری کے دوران بلا تفریق شہری املاک، مساجد، اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا اور زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانے کے لیے عالمی سطح پرممنوعہ ‘وائیٹ فاسفورس’ کا استعمال کیا گیا۔

اھداف اور بری حملے
اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر حملوں کے لیے متعدد اہداف مقرر کیا۔ اگرچہ دشمن کی طرف سے کسی مخصوص ہدف کو نشانہ بنانے کے بجائے بے دریغ اور اندھا دھند بمباری کی جاتی۔ تاہم صہیونی دشمن کے اہداف میں غزہ کی پٹی میں حماس کی قیادت کو ختم کرنا، حماس کی حکومت کا سقوط، غزہ میں مجاھدین کی راکٹوں کی صلاحیت کو تباہ کرنا اور غزہ میں جنگ قیدی بنائے گئے فوجی گیلاد شالیت کو چھڑانا تھا۔

جنگ شروع ہونےکے 8 روز بعد تین جنوری 2009ء کو صہیونی فوج نے فضائی حملوں کے بعد زمینی پیش قدمی شروع کردی۔ صہیونی فوج ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ غزہ کی پٹی میں داخل ہونا شروع ہوئی۔ اس کارروائی کامقصد غزہ کی پٹی کو تمام اطراف سے نہتا کرن تھا تاہم فلسطینیوں کی بھرپور جوابی کارروائی اور مزاحمت کی بدولت دشمن بری حملے میں‌ پسپا ہوگیا۔

اس کے بعد اسرائیل مسلسل 23 دن تک غزہ پرزمینی، فضائی اور بحری حملے کرتا رہا۔ طاقت کے اندھا دھند استعمال کے باوجود دشمن غزہ کے عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کرسکا۔ فلسطینی مجاھدین اور اسرائیل کے درمیان طاقت کے توازن میں بہت بڑا فرق تھا مگر اس کے باوجود اسرائیل اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکا۔

اسرائیلی شکست اور فلسطینیوں کی استقامت
اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جن اہداف کا اعلان کرکے چڑھائی کی تھی ان میں سے کوئی ایک ہدف بھی پورا نہ ہوسکا۔ غزہ میں سوائے نہتےشہریوں کا خون بہانے کے اسرائیل کچھ حاصل نہ ہوا۔

اسرائیلی دشمن کےدیگر اہداف میں‌ ایک ٹارگٹ غزہ میں جنگ قیدی بنائے گئےفوجی گیلاد شالیت کو رہا کرنا تھا مگر سنہ 2011ء کو اسرائیل کو گیلاد شالیت کو چھڑانے کے بدلے 1047 فلسطینیوں کی رہائی کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ سنہ 2012ءمیں اسرائیل نے ایک بار پھرغزہ پرحملے شروع کردیے۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کےکمانڈر احمد الجعبری کو ایک ایجنٹ کے ذریعے شہید کرانے کےبعد اسرائیل نے غزہ پرطاقت کا دوبارہ استعمال شروع کیا مگر دشمن اس کارروائی میں بی بری طرح ناکام رہا۔

دو سال بعد 2014ء کو صہیونی فوج نے غزہ پرایک بار پھر وسیع پیمانے پر جنگ مسلط کی۔ یہ جنگ فضائی، بری اور بحری اطراف سے شروع کی گئی۔ شکست خوردہ صہیونی دشمن کو ناحل عوز، ابو مطیبق، بیت حانون، الزنہ ، زیکیم اور دیگر مقامات پر شکست کے ساتھ تل ابیب اور القدس میں فلسطینیوں کے راکٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ فلسطینی راکٹ حملوں سے اسرائیل کے بن گوریون ہوائی اڈے پر فضائی آمد ورفت متاثر ہوگئی۔

فلسطینی مجاھدین نےغزہ کی پٹی میں گھسنے والے چار فوجیوں کو جنگی قیدی بنا لیا۔ ان قیدیوں کو صہیونی عقوبت خانوں میں قید 6500 فلسطینیوں کے بدلے چھڑانے کے لیے محفوظ کررکھا ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …