جمعہ , 23 اپریل 2021

سانحہ ساہیوال: متاثرہ خاندان کے ساتھ اسلام آباد میں کیا ہوا؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ ساہیوال سی ٹی ڈی اہلکاروں کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کے لواحقین اسلام آباد تو پہنچ گئے مگر سوا خواری کے کچھ نہ ملا۔تفصیلات کے مطابق سانحہ ساہیوال کے لواحقین گزشتہ روز اسلام آباد پہنچے، جہاں ان کی ملاقات صدر پاکستان عارف علوی سے کرائی جانی تھی جس کی وضاحت مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے بھی کی، بھائی کا کہناتھاکہ ہمیں اسلام آباد صدر مملکت عارف علوی اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کے لیے اسلام آباد بلا کر خوار کیا، اگر وہ نہیں ملنا چاہتے تھے تو بلایا کیوں تھا؟

مقتول خلیل کے بھائی جلیل کا مزید کہنا تھا کہ ‘ان کا تماشا بنایا جا رہا ہے، ہمیں فون کرکے ملاقات کے لیے بلوایا گیا تھا، اگر نہیں ملنا تھا تو ہمیں بلایا کیوں تھا، ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا’۔انہوں نے مزید بتایا کہ ‘ساری رات ہم سے بیان لکھواتے رہے، پھر سارا دن سڑکوں پر گھماتے رہے، پھر معلوم ہوا کہ صدر مملکت تو کراچی اور چیئرمین سینیٹ بلوچستان چلے گئے ہیں’۔

دوسری جانب ترجمان چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اس بات کی تردید کرتے ہو ئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے متاثرہ خاندان کو ملاقات کے لئے اسلام آباد نہیں بلایاتھا،نہ ہی متاثرہ خاندان کی جانب سے چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کے لئے کوئی پیغام ملا،پولیس کا ایک ڈی ایس پی متاثرہ خاندان کے افراد کو اس مقصد کے لئے اسلام آباد لے کر آیا تھا۔

ترجمان چیئرمین سینیٹ کا مزید کہناتھاکہ معاملے پر حکومت پنجاب سے وضاحت لی جائے گی، اگر متاثرہ خاندان کو اس سلسلے میں کوئی تکلیف ہوئی ہے تو ان سے معذرت کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ 19 جنوری کی سہہ پہر سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں میاں بیوی اور ان کی ایک بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ کارروائی میں تین بچے بھی زخمی ہوئے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …