منگل , 13 اپریل 2021

افغانستان : 2014 سے آج تک 45 ہزار سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، اشرف غنی

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ان کے دور صدارت میں ستمبر 2014 سے اب تک 45 ہزار افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہا کہ جب سے انہوں نے صدر کا منصب سنبھالا ہے اس وقت سے سیکیورٹی فورسز کے 45 ہزار اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جب سے میں صدر بن گیا ہوں تب سے 45 ہزار اہلکاروں نے قربانی دی ہے اور اس دوران بیرونی نقصان کی تعداد 72 سے کم ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے برسر پیکار کون ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی ضرورت ہے جہاں ایک طرف امریکی، یورپی اور دیگر اقوام کا تحفظ کرنا ہے وہی اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور اپنے ادارے مستحکم ہوں’۔

افغان صدر کے بیان کے مطابق افغانستان میں جاری کشیدگی میں روزانہ کی بنیار پر 28 سے زائد افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو مارا جاتا ہے جو ایک ہول ناک صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔گزشتہ برس نومبر میں اشرف غنی نے کہا تھا کہ 2015 کے آغاز سے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد 28 ہزار 529 ہے یا روزانہ 20 سے زائد اہلکار ہلاک ہوتے ہیں۔

اشرف غنی کے بیان اور افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد سے امریکی حکام کے ان دعووں کی نفی ہوتی ہے جس کے مطابق افغان فورسز مختلف گروپوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے قابل ہوچکی ہیں۔افغان طالبان کی جانب سے 5 جنوری کو ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ 2018 میں ہونے والے خون ریز 90 فیصد واقعات کی ذمہ داری امریکا اور افغان فورسز پر عائد ہوتی ہے۔

طالبان کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ برس مجموعی طور پر 4 ہزار 170 شہری متاثر ہوئے جن میں سے 2 ہزار 294 افراد جاں بحق اور 1876 افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب افغان طالبان نے تحریک کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر کو قطر میں قائم طالبان کے سیاسی مرکز کے سربراہ کے طور پر نامزد کرلیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ملا عبدالغنی برادر افغانستان میں 17 سال سے جاری خون ریز جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔

طالبان ذرائع کے مطابق ملا عبدالغنی برادر کو گزشتہ برس اکتوبر میں پاکستان کی جیل سے رہا کیا گیا تھا اور اب انہیں افغان طالبان کی سیاسی ٹیم کی قیادت کرنے اور فیصلہ سازی کے اختیارات دیے گئے ہیں۔

طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان میں ملا عبدالغنی برادر کی تعیناتی اور امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کی رفتار تیز کرنے کے لیے سینیئر رہنما کو اہم ذمہ داری سونپنے اور مذاکراتی ٹیم میں ردو بدل کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار مظاہرین کے جلوس جنازہ پر فوج کی فائرنگ

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں اور مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کا سلسلہ …