منگل , 13 اپریل 2021

ریاض اور ابوظہبی علاقائی جرائم کے ستون ہیں:ترک صدر کے مشیر یاسین آکتائے

ترک صدر کے مشیر اور حکمران جماعت ـ جماعت انصاف و ترقی ـ کے نائب سربراہ برائے انسانی حقوق یاسین آکتائے (Yasin Aktay) نے کہا ہے کہ ایک بدعنوان اور فاسد نظام جمال خاشقجی کے قتل اور مصر، یمن اور شام میں دوسرے جرائم کا ذمہ دار ہے اور ریاض اور ابوظہبی اس نظام کے دو ستون ہیں۔

ترک صدر کے مشیر یاسین آکتائے کا ایک مضمون بعنوان "جرم کے 100 دن، خاشقجی کے فاش کردہ جرائم کا تسلسل” سوموار (14 جنوری 2019ع‍) کو روزنامہ "ینی شفق” (Yeni Şafak) میں چھپا ہے۔ آکتائے نے اس مضمون میں لکھا ہے:

مورخہ دو اکتوبر سنہ 2018ع‍ وہ دن تھا جب جمال خاشقجی کو استنبول میں اپنے ملک کے قونصلیٹ جنرل کے اندر قتل کیا گیا، اور مقتول صحافی نے قتل ہو کر لوگوں کو آل سعود کے فاسد اور بدعنوان نظام سے نمٹنے کے لئے ہوشیار کر دیا اور انسانی آگہی کی علامت بن گئے۔ اس تکلیف دہ نظام پر تعفن کی بدبو چھائی ہوئی ہے اور سعودی صحافی کے قتل سبب بنا کہ ہم اس بدبو کو زیادہ شدہ سے محسوس کریں۔

یہ فاسد نظام مصر سے یمن تک، شام سے عراق تک اور افغانستان سے لیبیا تک بہائے گئے ناحق خون کا ذمہ دار ہے؛ جو پیٹرو ڈالروں پر استوار ہوا ہے اور اقوام کی شرافت و آبرو کا سب سے بڑا دشمن اور جمہوری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

دہشت گردی اور انتہاپسندی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسی ریاستوں کے ہاتھوں کا سادہ ترین اوزار ہے اور یہ اس اوزار سے اقوام کے سادہ ترین مطالبات کو کچل دیتے ہیں۔

خاشقجی کے قاتل اسی روش کو مصر کے ہزاروں بےگناہوں کے قتل کے لئے بروئے کار لاتے ہیں؛ انھوں نے لیبیا میں قومی ارادے کے خلاف ایک انقلاب ترتیب دیا جس کی وجہ سے لیبیا چار سال تک خانہ جنگی کا شکار ہوا اور دسوں ہزار بے گناہ شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ یمن میں بھوک کے مارے جان کی بازی ہارنے والے بچوں کو گننا مزید ممکن نہیں رہا ہے۔

یمن میں بھوک کے مسئلے کو سعودی عرب اور امارات کے شاہی محلات میں روزانہ کوڑے دانوں میں پھینکی جانے والی اضافی غذاؤں سے حل کیا جاسکتا ہے لیکن جن لوگوں نے یمن پر جارحیت کی ہے انہیں شرم ہی نہیں آتی حالانکہ دنیا کے ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والی زیادہ تر تصاویر ان یمنی بچوں سے تعلق رکھتی ہیں جو بھوکوں مر جاتے ہیں۔

ابھی ایک مہینہ قبل یہودی ریاست کی خفیہ ایجنسی "موساد” نے مصر، سعودی عرب اور امارات کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کیا اور مڈل ایسٹ آئی (Middle East Eye) اس اجلاس کو طشت از بام کیا۔ اس نشست میں خاشقجی کے قتل کے لئے بنائے گئے اتحاد کا راز افشا ہوا اور ایران کو دشمن قرار دیا گیا اور خاشقجی کے قتل سے چشم پوشی کرکے ترکی کو [ایران سے] بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔

اب سوال یہ ہے کہ ترکی کیوں خطرہ سمجھا گیا ہے حالانکہ خاشقجی قتل کے جرم نے اس شیطانی اتحاد کا چہرہ بےنقاب کردیا ہے اور ان کے جرائم کی روشوں اور درندگیوں پر سے پردہ کھینچ لیا ہے اور اگر ہم اس شیطانی اتحاد کے اقدامات پر غور کریں تو دیکھ لیں گے کہ ترکی ان حالات میں کہاں کھڑا ہے۔ بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

عید نوروز کی مناسبت سے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا پیغام

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ گذرا ہوا سال ایران پر امریکا کے شدید ترین دباؤ …