اتوار , 11 اپریل 2021

سال 2018ء میں صہیونی زندانوں میں شہید ہونے والے فلسطینی!

فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق 2018ء کے دوران اسرائیلی زندانوں میں‌پابند سلاسل 5 فلسطینی شہید ہوگئے جس کے بعد صہیونی زندانوں میں شہید ہونے والے فلسطینیں کی تعداد 217 تک جا پہنچی ہے۔فلسطینی اسیران و فالوپ مرکز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عقوبت خانوں میں صہیونی جلادوں کے انسانیت سوز تشدد کے باعث زندگی کی باز ہارجانے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے اور مزید پانچ فلسطینی گذشتہ برس جیلوں میں زندگی کی بازی ہارگئے۔

عمر السرادیح
صہیونی عقوبت خانوں میں دوران حراست شہید ہونے والوں میں اریحا شہر کے 33 سالہ یاسین عمر السرادیح پہلے فلسطینی اسیر ہیں جو گذشتہ برس دشمن کی جیل میں جام شہادت نوش کرگئے۔ ان کی شہادت کا واقعہ 22 فروری کو پیش آیا۔ صہیونی فوجیوں‌نے السرادیح کو انتہائی قریب سے گولیاں مار کر زخمی کرنے کے بعد حراست میں لیا اوران پر ہولناک تشدد کیا گیا۔ گرفتاری کے صرف چار گھنٹے کے بعد السرادیح دم توڑ گئے تھے۔

محمد صبحی عنبر
گذشتہ برس صہونی عقوبت خانوں میں شہید ہونے والے دوسرے فلسطینی 46 سالہ محمد صبحی عنبر ہیں۔ ان کا تعلق غرب اردن کے شمالی شہر طولکرم کے ایک پناہ گزین کیمپ سے تھا۔ انہیں دوران حراست انسانیت سوز اذیتوں کا نشانہ بنایا۔ صبحی عنبر کو بھی فائرنگ کرکے زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا اور اسے چھ روز تک مسلسل حراست میں رکھا گیا۔ تشدد کے نتیجے میں حالت بگڑنے پر عنبرکو "مائیر” نامی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ چند روز زیرعلاج رہنے کے بعد دم توڑ گئے۔

عبدالکریم مرشود
غرب اردن کے شمالی شہر طولکرم کے بلاطہ پناہ گزین کیمپ کے رہائشی 30 سالہ محمد عبدالکریم مرشود 9 اپریل کو صہیونی عقوبت خانے میں جام شہادت نوش کرگئے۔ عبدالکریم مرشود کو اسرائیلی فوج نے بیت المقدس میں الخان الاحمر میں احتجاج کے دوران گولیاں مار کر شدید زخمی کرنے کے بعد حراست میں لے لیا تھا۔ صہیونی فوج نے اس پر یہودی آباد کاروں پر چاقو سےحملے کا الزام عاید کیا گیا۔ دوران حراست انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنا کر اسے شہید کردیا۔

عزیز عویسات
بیس مئی 2018ء کو عزیز موسیٰ عویسات کو اسرائیلی فوج نے وحشیانہ تشدد کرکے شہید کیا۔ 53 سالہ عزیز عویسات کو ‘ایچل’ نامی زندان میں ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ انہیں کئی روز تک کئی کئی صہیونی جلاد تشدد کا نشانہ بناتے۔ عویسات پہلے ہی گردوں سمیت کئی دوسرے خطرناک امراض کا بھی شکار تھے۔ وحشیانہ تشدد کے باعث دل کا دورہ پڑنے کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جاں برنہ ہوسکے اور جام شہادت نوش کرگئے۔ عویسات کو 30 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں سے وہ 4 سال قید کاٹ چکے تھے۔

محمد زغلول الریماوی
چویس سالہ محمد زغلول الریمای پانچویں فلسطینی ہیں جنہیں گذشتہ برس صہیونی زندانوں میں انسانیت سوز تشدد کرکے شہید کردیا گیا۔ زغلول الریماوی کو اسرائیلی فوج نے "حلمیش” یہودی کالونی کے قریب سے حراست میں لیا اور اس کے بعد موقع پر ہی وحشیانہ تشدد کرکے ایک خفیہ مقام پر منتقل کردیاگیا۔ دوران حراست اس پر مزید تشدد کیا گیا اور وہ 18 ستمبر 2018ء کو گرفتاری کے محض دو گھنٹے کے بعد جام شہادت نوش کرگئے۔انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق سال 2018ء کے دوران 5700 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا جن میں 980 بچے اور 175 خواتین بھی شامل ہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …