منگل , 13 اپریل 2021

وینزویلا، امریکی شیطنت کا نیا محاذ

(تحریر: سید رحیم لاری)

جنوبی امریکہ کا ملک وینزویلا گذشتہ چند دنوں سے سیاسی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ ابھی اس بحران کو چند دن ہی گزرے ہیں اور یہ ملک مغرب اور مشرق کے درمیان نئے محاذ جنگ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے شخص تھے جنہوں نے خود کو عبوری حکومت کا سربراہ کہنے والے وینزویلا پارلیمنٹ کے اسپیکر خوان گوایدو کی حمایت کا اعلان کیا۔ دوسری طرف وینزویلا کے قانونی صدر نکولاس مادورو ہیں۔ امریکہ کے بعد اس کے مغربی اتحادی ممالک نے بھی باغی سربراہ گوایدو کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس طرح امریکہ اور مغربی ممالک وینزویلا میں شروع ہونے والی بغاوت کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے وینزویلا میں سیاسی بحران شروع ہونے کے ابتدائی چند گھنٹوں میں خاموشی اختیار کر رکھی تھی اور جرمنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس مسئلے پر یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک سے مشورہ کرے گا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے اصرار نے انہیں بھی امریکہ کا ساتھ دینے پر مجبور کر دیا۔ دوسری طرف چین اور روس نے گوایدو کی تحریک کو بغاوت قرار دیتے ہوئے موجودہ صدر نیکولاس مادورو کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

وینزویلا میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران میں بنیادی کردار ادا کرنے والا چہرہ زیادہ معروف نہیں اور گذشتہ چند روز میں ہی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ 35 سالہ خوان گوایدو دو ماسٹر ڈگریز کے حامل ہیں جن میں سے ایک انہوں نے امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے حاصل کی ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ایک طلبہ تنظیم سے کیا اور 2009ء میں ارادہ پارٹی کی رکنیت اختیار کی۔ اگرچہ وہ 2010ء میں وینزویلا کا رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد سے ہی حکومت مخالف موقف کے حامل تھے لیکن زیادہ سامنے نہیں آتے تھے اور ان کا چہرہ جانا پہچانا نہیں تھا۔ گذشتہ سال دسمبر میں وہ پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر چنے گئے اور 5 جنوری کو ان کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی۔ 10 جنوری کو نیکولاس مادورو کی صدارت کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ خوان گوایدو نے ابتدا سے ہی مادورو کو صدر ماننے سے انکار کر دیا۔ گوایدو نے پہلے 13 جنوری کو اپنے عبوری صدر ہونے کا اعلان کیا جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے گذشتہ ہفتے بدھ 23 جنوری کو دوبارہ اعلان کیا کہ وہ وینزویلا کے عبوری صدر ہیں اور بہت جلد نئے صدارتی انتخابات منعقد کروائیں گے۔

خوان گوایدو کا دعوی ہے کہ گذشتہ برس منعقد ہونے والے صدارتی الیکشن غیرقانونی تھے اور پارلیمنٹ کا اسپیکر ہونے کے ناطے انہیں ملک میں عبوری حکومت قائم کرنے کا حق حاصل ہے لہذا وہ نئے صدارتی انتخابات کے انعقاد تک ملک کے عبوری صدر ہیں۔ اگرچہ وینزویلا کی سپریم کورٹ انہیں پارلیمنٹ کے اسپیکر کے عہدے سے معزول کر چکی ہے لیکن انہوں نے عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے اور اپنے حامیوں کو سڑکوں پر نکل آنے اور حکومت کی سرنگونی کیلئے تحریک چلانے کا حکم دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خوان گوایدو جو اقدامات بھی انجام دے رہے ہیں وہ امریکہ سے ہم آہنگی کرنے کے بعد طے شدہ منصوبے کے تحت ہیں۔ گوایدو کی تقریر کے کچھ ہی منٹ بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ گوایدو کو وینزویلا کا قانونی صدر مانتے ہیں۔ اس کے بعد ارجنٹائن، برازیل اور کولمبیا کے دائیں بازو کے رہنماوں نے بھی گوایدو کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ یورپی ممالک کی جانب سے خوان گوایدو کی حمایت کا اعلان کرنے میں ایک دن کی تاخیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر کے اصرار پر انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے۔ دوسری طرف لاطینی امریکہ کے ممالک بولیویا، کیوبا اور حتی میکسیکو نے باغیوں کے مقابلے میں وینزویلا کے صدر نیکولاس مادورو کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ عالمی سطح پر بھی چین، روس، ایران اور ترکی نے نیکولاس مادورو کو وینزویلا کا قانونی صدر قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

درحقیقت یہ محاذ آرائی اس وقت تشکیل پائی ہے جب دنیا کے مختلف ممالک نے محسوس کیا ہے کہ امریکہ خوان گوایدو کے ذریعے وینزویلا کی قانونی حکومت کو سرنگون کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔ بولیویا کے صدر مورالیس نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "استعمار ایک بار پھر اپنے ظالمانہ پنجوں سے جنوبی امریکہ کی جمہوریت اور قومی ارادے کو زخمی کرنا چاہتا ہے۔” امریکہ نے وینزویلا کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کرتے ہوئے نیکولاس مادورو کی حکومت کے خلاف پابندیوں کی شدت میں اضافہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مالی لین دین خوان گوایدو سے انجام دے گا۔ وینزویلا کے فوجی سربراہان نے بھی قانونی صدر نیکولاس مادورو کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ وینزویلا کے وزیر دفاع اور چیف آف آرمی اسٹاف ولادیمیر پادرینو نے جمعرات کو فوجی کے دیگر اعلی سطحی کمانڈرز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خوان گوایدو کو باغی قرار دیتے ہوئے نکولاس مادورو کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ وینزویلا قدرتی ذخائر خاص طور پر خام تیل کے ذخائر سے مالامال ہونے کے ناطے امریکی شیطنت کا شکار ہو چکا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بحران میں روس اور چین کس حد تک امریکہ سے ٹکر لینے کو تیار ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …