اتوار , 11 اپریل 2021

سپریم کورٹ کا فیصلہ، گلگت بلتستان میں ہیجانی کیفیت کیوں ہے؟

(تحریر: لیاقت علی انجم)

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گلگت بلتستان میں ایک ہیجانی کیفیت ضرور ہے، لیکن دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اکثر ایسے لوگ بھی تبصرے اور تنقید کی بوچھاڑ کر رہے ہیں، جن کو فیصلے کا پتہ ہی نہیں یا انہوں نے فیصلہ پڑھا ہی نہیں، ابھی تک عوامی اور سیاسی سطح پر تبصروں میں عدالتی فیصلے کے صرف منفی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے، لیکن کچھ مثبت پہلو بھی ہیں، جس کی طرف ابھی تک کسی نے نشاندہی نہیں کی۔ مثال کے طور پر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کہ گلگت بلتستان عبوری صوبہ نہیں بن سکتا، بلکہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے ڈرافٹ کو عدالت نے اپنے فیصلے کا حصہ بنا دیا ہے، جس میں واضح طور پر گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کیلئے وفاق کی آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم ”اگر مگر” کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ وفاق میں تحریک انصاف کی واضح اکثریت نہیں ہے اور عبوری آئینی صوبہ بنانے کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے تو مطلوبہ اکثریت ملنے تک عبوری سیٹ اپ (ریفارمز 2019ء) دیا جا رہا ہے، وفاق کا یہ موقف گلگت بلتستان کے عوام کیلئے اپنی سیاسی جدوجہد میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ وفاق نے باقاعدہ طور پر عبوری صوبہ بنانے کی حامی بھر لی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاسی جماعتیں وفاق میں اپنی اپنی مرکزی قیادت کو آئینی ترمیم کیلئے پارلیمنٹ میں بل کی حمایت پر راضی کریں یا اپنی پارٹیوں کے ذریعے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قرارداد لائیں، جس کے بعد تحریک انصاف کے پاس صوبے کا بل لانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ سپریم کورٹ آئین کی تشریح کرتی ہے، انتظامی اور سیاسی اصلاحات پر براہ راست کوئی فیصلہ نہیں دیتی، کیونکہ یہ کام سیاسی جماعتوں کا ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں الجہاد ٹرسٹ کیس کا فیصلہ بھی برقرار رکھا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف گلگت بلتستان کے شہری پاکستانی شہری بھی ہیں، دوسری طرف الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کے مطابق وفاق گلگت بلتستان کو دوسرے صوبوں کے برابر تمام بنیادی حقوق دینے کا پابند ہے، اسی طرح عدالت کے فیصلے کا ایک اور مثبت پہلو گلگت بلتستان میں عدالتی اصلاحات کے حوالے سے ہے، جی بی کی سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں میں گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کے طریقہ کار پر شدید تشویش رہی ہے، کیونکہ جی بی کی تاریخ میں دیکھا جائے تو بقول منتخب ممبران اسمبلی کے یہاں پر اقرباء پروری، سیاسی، مسلکی اور قومیت کی بنیاد پر ججز تقرر کرنے کا ریکارڈ موجود ہے۔

گذشتہ سال وزیر تعمیرات ڈاکٹر اقبال نے اسمبلی سیشن میں ججز کی تقرری کے حوالے سے سارا کچھا چٹھا کھول کے رکھ دیا تھا، جب اس خطے میں اقرباء پروری کی بنیاد پر عدالتی نظام قائم ہو تو وہاں انصاف کی امید ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ فیصلے کا ایک اور اہم ترین پہلو یہ ہے کہ گلگت بلتستان کو بہتر سال بعد پہلی مرتبہ سپریم کورٹ تک رسائی مل گئی، اب جی بی کے شہری سپریم ایپلٹ کورٹ اور چیف کورٹ کے کسی بھی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرسکیں گے، اسی طرح تاریخ میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری بذریعہ جوڈیشل کمیشن ہوگی، اس کمیشن میں سرپم کورٹ کا ریٹائرڈ جج بھی ہوگا، سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی موجودگی میں صوبے میں ججز کی تقرری مزید شفاف ہونے کی امید پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے جج کے پاس قانون و آئین اور انصاف کی فراہمی کا وسیع تجربہ ہوتا ہے، یہ تجربہ پورے پاکستان میں ان کو ممتاز بناتا ہے۔ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ججز کی تقرری سے عدالتی نظام پر اٹھنے والے سوالات ختم ہونگے اور انصاف کی فراہمی ممکن ہوگی، اس سے پہلے گلگت بلتستان میں ججز کی تقرری فرد واحد کی منشا پر ہوتی رہی ہے۔

فیصلے کا ایک اور اہم پہلو قانون سازی کے حوالے سے ہے، نئے آرڈر کو چونکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کا حصہ بنا دیا ہے تو اس میں اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات کے حوالے سے کوئی حد معین نہیں، اس سے پہلے گورننس آرڈر 2009ء میں اسمبلی صرف 61 شعبوں میں قانون سازی کرسکتی تھی، جبکہ آرڈر 2018ء میں 67 سبجیکٹس پر قانون سازی کے اختیارات تفویض کئے گئے تھے، مطلب یہ کہ آرڈر 2018ء صرف 67 شعبوں میں ہی قانون سازی کرسکتی تھی، قانون سازی کا یہ اختیار اسمبلی کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کو بھی برابر حاصل تھا، لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں نافذ ہونے والے نئے آرڈر میں سوائے وفاقی سبجیکٹس کے باقی تمام معاملات میں قانون سازی کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ وفاقی سبجیکٹس کے علاوہ دیگر تمام معاملات میں اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہوگا، یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ نئی ریفارمز میں وفاقی قانون سازی کی لسٹ میں 63 امور ہیں، یہ امور دیگر صوبوں کے پاس بھی نہیں ہوتے کیونکہ ان امور پر صرف پارلیمنٹ کے ذریعے ہی قانون سازی ہوسکتی ہے، چونکہ پارلیمنٹ میں ہماری نمائندگی نہیں ہے، اس لئے وفاق کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ کی جگہ کونسل موجود ہے، جس میں مجموعی طور پر گلگت بلتستان کے 8 ممبران کی نمائندگی موجود ہوتی ہے، اب وفاقی سبجیکٹس پر قانون سازی کے دوران یہ مقامی نمائندوں پر منحصر ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کے مفاد میں کس حد تک قانون سازی کرتے ہیں، اگر کونسل کے مقامی ممبران چاہیں تو عوام کے مفاد کے خلاف کوئی بھی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔

ان تمام مثبت پہلوؤں کے باوجود عدالتی آرڈر عوام کی خواہشات کے عین مطابق بالکل نہیں ہے، تاہم مثبت پیشرفت ضرور ہے، ہمیں جذبات اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے ہٹ کر مکمل مطالعے اور زمینی حقائق کے مطابق جدوجہد کرنی ہوگی اور وفاق کے سامنے آئینی اور قانونی سوالات اٹھانے ہونگے، کمزوریوں کی نشاندہی اس وقت ہوسکتی ہے، جب ہم عدالت کے فیصلے کو مکمل طور پر پڑھیں اور سمجھیں گے، کیونکہ عوام کا مطالبہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر سو فیصد عملدرآمد ہے، یہ سفارشات مقتدر حلقوں نے دو سال کی محنت کے بعد تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی ہیں، جس پر عملدرآمد کیلئے سپریم کورٹ نے راستہ آسان بنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے آئینی ترمیم کا راستہ بھی کھلا چھوڑا ہے تو آگے رکاوٹ کس چیز کی ہے؟ دوسری جانب کل وزیراعلیٰ اور وزراء نے پریس کانفرنس میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ بعض ناسمجھ لوگ آئینی حیثیت کا معاملہ عدالت لے کر گئے، جس سے کیس خراب ہوا، لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ انتظامی اصلاحات کے معاملے کو عدالت میں گھسیٹنے کی ابتدا خود نون لیگ نے شروع کی۔

نون لیگ کی سابق وفاقی حکومت نے جب آرڈر 2018ء نافذ کیا تو لیگی رکن کونسل سید افضل نے سپریم ایپلٹ کورٹ میں چیلنج کرکے آرڈر پر عملدرآمد رکوا دیا اور سابق چیف جج کے ساتھ مل کر اسی ایپلٹ کورٹ سے آرڈر کو کالعدم بھی قرار دلوایا، جس کے بعد وفاق کے پاس سوائے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے اور کوئی راستہ نہیں بچا، نون لیگ کی صوبائی قیادت اگر اس فعل کو برا سمجھتی ہے تو اپنے رکن کونسل کے خلاف ابھی تک کوئی تادیبی کارروائی کیوں نہیں کی؟ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات مکمل ہوئی تھیں، اس کے باوجود ایک اور کمیٹی بنا کر آرڈر 2018ء جاری کرتے وقت نون لیگ کی صوبائی قیادت نے احتجاج اور پریس کانفرنس کیوں نہیں کی؟ آرڈر 2018ء کی بجائے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا مطالبہ کیوں نہیں کیا۔؟ یہ سوال بھی ابھی تک جواب طلب ہے کہ کیا سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کو مفلوج کرنے میں صوبائی حکومت کا کوئی کردار تھا۔؟

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …