بدھ , 14 اپریل 2021

تعمیراتی سامان کی دکان کھولنے والی سعودی عرب کی پہلی خاتون

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)اگرچہ سعودی عرب میں گزشتہ 2 سال سے اصلاحات کے نام پر تبدیلیاں جاری ہیں اور وہاں کئی ایسے کام پہلی بار ہو رہے ہیں جن پر وہاں کئی سال تک پابندی تھی۔گزشتہ برس جہاں سعودی عرب نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی تھی، وہیں اس سے قبل پہلی بار خواتین کو مقامی انتخابات میں الیکشن لڑنے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔

یہی نہیں بلکہ گزشتہ برس ہی سعودی عرب میں کئی سال سے بند سینما گھر بھی کھولے گئے تھے اور پہلی بار ملک میں خواتین کے فیشن ویک کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔گزشتہ برس سعودی عرب میں پہلی بار خواتین کو حرمین شریفین کے عہدوں پر بھی تعینات کیا گیا تھا۔

اصلاحات پروگرام 2030 کے تحت جہاں سعودی عرب کی خواتین اب سائیکل چلاتی نظر آتی ہیں، وہیں اب ایک خاتون نے پلمبنگ، ہارڈ ویئر اور تعمیراتی سامان کی دکان بھی کھول لی۔تعمیراتی سامان کی خرید و فروخت کی دکان کھولنے والی خاتون کی خبر سامنے آتے ہیں ان کے چرچے ہوگئے اور خاتون دیکھتے ہی دیکھتے خلیجی ممالک میں مشہور ہوگئیں۔

تعمیراتی سامان کی دکان کھولنے والی سعودی خاتون کے چرچے

تعمیراتی سامان کی دکان کھولنے والی سعودی خاتون کے چرچے

Gepostet von Iblagh News am Samstag, 26. Januar 2019

عرب نشریاتی ادارے ’سیدیاتی‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رحمہ شباط نامی خاتون نے سعودی عرب کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے مشرقی صوبے میں تعمیراتی سامان کی دکان کھولی۔رحمہ شباط نے صوبے کے دارالحکومت ’دمام‘ کے مرکزی علاقے میں دکان کھولی ہے، جہاں وہ روایات کے برعکس دن بھر کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

رحمہ شباط نے نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ابتدائی طور پر انہیں کچھ مشکلات کا سامنا ہوا تھا، تاہم اب ان کی دکان چل پڑی ہے اور انہیں ملازمین کی تنخواہوں سمیت منافع بھی حاصل ہونے لگا ہے۔

رحمہ شباط کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر انہوں نے خوف کی وجہ سے دکان پر مرد ملازمین رکھے تھے، تاہم اب انہوں نے دکان کے تمام اندرونی امور کے لیے خواتین ملازموں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

رحمہ شباط کے مطابق انہیں اب دکان چلانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اور ان کے خریداروں میں زیادہ تر مرد حضرات ہی ہیں جو کسی بھی ہچکچاہٹ کے بغیر ان کی دکان پر آتے ہیں۔اگرچہ رحمہ شباط نے دکان کو چلانے کے لیے تمام خواتین ملازمائیں رکھی ہیں، تاہم انہوں نے بھاری سامان کی منتقلی کے لیے مرد ملازموں کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔

رحم شباط کا انٹرویو نشریاتی ادارے پر چلنے کے بعد عرب سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے ان کی تعریف کی اور ان کے کام کو بدلتے ہوئے سعودی سماج سے تشبیہ دی۔رحمہ شباط نے اعتراف کیا کہ انہیں تعمیراتی سامان کے دکان کھولنے کا خیال قریبی ریاست متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا سفر کرنے کے بعد آیا، جہاں انہوں نے دبئی میں خواتین کو ایسا کام کرتے دیکھا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ رحمہ شباط کی جانب سے دکان کھولے جانے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سعودی عرب کی دیگر خواتین بھی اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے آگے آئیں گی۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …