بدھ , 21 اپریل 2021

امریکہ طالبان مذاکرات، تیرا کیا بنے گا مودی۔۔۔۔؟؟

(تحریر: تصور حسین شہزاد)

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان پچھلے کئی روز سے دوحا میں طالبان کے دفتر میں مذاکرات جاری تھے۔ دوحا مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی افغان امور کے مشیرِ خاص زلمے خلیل زاد کر رہے تھے۔ دوسری طرف طالبان کے سینیئر کمانڈر ملا عبدالغنی برادر ہیں، جو کہ 8 سال پاکستان کی تحویل میں رہنے کے بعد گذشتہ اکتوبر میں رہا کئے گئے۔ طالبان اور امریکہ کے مابین براہ راست مذاکرات گذشتہ برس جولائی سے جاری تھے۔ ان مذاکرات میں کئی بار تعطل آیا لیکن یہ ختم نہیں ہوئے۔ اب امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہونیوالے مذاکرات میں حوصلہ افزاء پیشرفت ہوئی ہے، جس میں امریکہ نے افغانستان چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جبکہ کچھ معاملات کیلئے ابھی افغان حکومت کی رائے لینا باقی ہے، جس کیلئے امریکی نمائندہ زلمے خلیل زاد دوحا سے کابل پہنچ چکے ہیں۔ امریکہ اور طالبان میں مذاکرات کے دوران طے پانے والے اس معاہدے کے تحت غیر ملکی افواج ایک مقررہ مدت کے اندر افغانستان سے نکل جائیں گی، افغان طالبان کو بلیک لسٹ سے بھی نکال دیا جائے گا، جس سے اِن پر لگی سفری پابندیاں ختم ہو جائیں گی اور قیدیوں کا تبادلہ بھی ہوگا۔

مذاکرات میں یہ بھی طے پایا ہے کہ طالبان اس بات کی ضمانت دیں گے کہ افغانستان میں داعش یا القاعدہ جیسے دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا نہیں ہوں گی۔ ان مذاکرات میں ایک بات جو سامنے آئی ہے، وہ یہ کہ طالبان نے فوری جنگ بندی کی بات نہیں مانی، اتنے طویل دورانیے کے مذاکرات اس سے قبل طالبان اور امریکہ میں نہیں ہوئے۔ زلمے خلیل زاد نے ٹرمپ کی ”باٹم لائن“ کو ایک اعلامیے کی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ اس معاہدے کے حق میں نہیں تھی، امریکی افغانستان سے نکل رہے ہیں، اس سے روس اور چین کو کوئی تشویش نہیں، جہاں روس اور چین مطمئن ہیں، وہاں ایران بھی خوش ہے کہ امریکہ کو شکست کے بعد یہاں سے سبکی کیساتھ واپس جانا پڑ رہا ہے، البتہ بھارت، ازبکوں اور تاجکوں کو تکلیف بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے ایسی کوئی خبر نہیں کہ افغانستان میں امریکی بیسز موجود رہیں گے اور طالبان یہ بات مانیں گے بھی نہیں۔ امریکہ افغانستان سے مرحلہ وار جائیگا۔

اس وقت افغانستان کی حکومت کو جان کے لال پڑے ہوئے ہیں کہ ہمارا بنے گا کیا؟ جبکہ مودی (بھارت) بھی پریشان ہے کہ اس کا کیا بنے گا، کیونکہ بھارت نے امریکہ کی موجودگی کا ہی فائدہ اٹھا کر افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔ اب بھارت اس پر پریشان ہے اور اپنے سفارتی ذرائع کے ذریعے امریکہ کے ترلے کر رہا ہے کہ وہ افغانستان نہ چھوڑے، مگر اب امریکہ یہاں مزید نہیں رکنا چاہتا، کیونکہ اگر امریکہ مزید افغانستان میں قیام کرتا ہے تو اسے وائٹ ہاوس کی سلامتی کا خطرہ دکھائی دے رہا ہے، کیوںکہ امریکہ میں حالیہ شٹ ڈاون بحران بڑی مشکل سے قابو ہوا ہے۔ ٹرمپ کو اپنا تھوکا چاٹنا پڑا ہے اور اس نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ شٹ ڈاون نے ٹرمپ کو مجبور کر دیا کہ وہ جھک جائے یا اقتدار سے آوٹ ہو جائے۔ ایسے میں ٹرمپ کے پاس دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنا اقتدار بچا لیا۔ اب افغانستان سمیت مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جو درگت بنی ہے، اس سے وہ مجبور ہوچکا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلائے ہوئے اپنے پاوں سمیٹ لے۔

امریکی عوام اب واضح کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اب دنیا کے ہر معاملے میں ٹانگ نہ اڑائے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں تعینات امریکہ سفارتی عملے سے کوئی صحافی یہ سوال کر لے کہ امریکی حکومت کی یہ کیا پالیسیاں ہیں تو وہ کوئی بھی جواب نہیں دیتے بلکہ تمام سفارتکاروں نے ایک ہی جواب رٹا ہوا ہے کہ ہم یہاں پاک امریکہ تعلقات بہتر بنانے کیلئے تعینات ہیں، ہم سیاست پر بات نہیں کرتے، امریکہ کی پالیسیوں پر اعتراض ہے تو ٹرمپ سے پوچھیں یا وائٹ ہاوس چلے جائیں، وہ بتائیں گے۔ یہ جواب ظاہر کرتا ہے کہ امریکی دوہرے معیار کا شکار ہیں۔ بہرحال موجودہ امریکی حکومت نے وقتی طور پر اپنا اقتدار تو بچا لیا ہے، مگر دنیا بھر میں ہونیوالی ناکامی کا خمیازہ بھگتنا ابھی باقی ہے۔ اس کیلئے شائد امریکہ تیار نہیں، مگر تاریخ اپنا سبق ضرور سکھاتی ہے اور امریکیوں کو اس کیلئے تیار رہنا ہوگا۔

دوحہ مذاکرات میں طالبان نے ایک اور اہم بات کی ہے کہ امریکہ پاکستان کیخلاف کوئی ہینگی پھینگی نہیں کرے گا۔ مطلب امریکہ کو افغانستان میں جو ناکامی ہوئی ہے، اس کا نزلہ پاکستان پر نہیں گرایا جائے گا کہ امریکہ کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان ہے، بلکہ طالبان نے امریکہ کو کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں خدمات کا اعتراف کرے گا۔ ممکن ہے جان چھڑوانے کیلئے امریکہ یہ اعتراف بھی کرے لے، مگر مجھے مودی کے چہرے پر چھائی تشویش اور اداسی پر بڑا ترس آ رہا ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے نکلتے ہی بھارت کو کمشیر ہاتھ سے جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ مودی کے چہرے پر چھائی ویرانی کی دو بڑی وجوہات ہیں، ایک تو اسے انڈیا بھر میں الیکشن میں عبرتناک شکست ملی ہے، دوسرا امریکہ کی جانب سے دیا جانیوالا داغِ مفارقت ہے۔ اب افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد کشمیر کا ایشو مزید سر اٹھائے گا اور مودی کیلئے کشمیر کو مزید اپنے ظالمانہ تسلط میں رکھنا مشکل ہو جائے گا اور وہ دن دور نہیں، جب کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا اور کشمیری بھی صبح آزادی کا لطف اٹھائیں گے۔ ان شاء اللہ

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …