اتوار , 18 اپریل 2021

کیا یو ٹیوب خطرناک مواد حذف کر دیگی؟

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں، اسے سائنس و ٹیکنالوجی کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ ہزاروں مزدوروں کی جگہ ایک دو بڑی مشینیں کام کرتی ہیں، جنھیں ایک دو یا تین چار آدمی آپریٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ کنسٹرکشن کمپنیز کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جدید عہد نے انسانی زندگی کو سہل اور تیز تر کر دیا ہے۔ اس تیز روی نے ایک احساس یہ بھی ابھارا کہ کوئی کسی کا دکھ درد کا ساتھی نہیں۔ کسی کے پاس وقت نہیں کہ وہ کسی کا دکھ بانٹے۔ سوشل میڈیا نے اس دکھ کو کم بھی کیا ہے اور بڑھاوا بھی دیا ہے۔ آج ہر بندہ فیس بک پہ مصروف ہے۔ اس سے جہاں اپنے ہم مزاج لوگوں سے شناسائی ہوتی ہے، وہیں ان خونی رشتوں کا رنج گہرا ہوتا جا رہا ہے، بالخصوص عمر رسیدہ خونی رشتوں کا یہ شکوہ موجود ہے کہ بندہ قریب ترین کے رشتوں کو چھوڑ کر کمپیوٹر کی سکرین پہ جم گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے کئی پہلو زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔ انسانی نفسیات کی کئی کمزوریاں اس میڈیا پر شدت سے عیاں ہوئی ہیں۔ کوئی دو سال قبل لکھے گئے کالم کا یہ اقتباس آج بھی اس میڈیم پر صادق آتا ہے بلکہ آج تو اس تکلیف نے کئی مزید گھرانوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ پہلے فیس بک نے اپنا اثر ظاہر کیا۔ اب ٹویٹر، انسٹا گرام اور سب سے بڑھ کر یو ٹیوب۔

سوشل میڈیا کی مختلف فارمز نے جہاں انسانوں کو ایک دوسرے کے بہت قریب کر دیا، وہیں اس میڈیم کی کئی قباحتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں تو فیس بک اور یو ٹیوب کو تفریح طبع کا سامان سمجھا جا رہا ہے۔ روزنامہ دنیا کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر برادرم عمار چوھدری نے فری لانسسنگ کے حوالے سے ایک پوری سیریل لکھ، کہ کیسے اس میڈیم کو کام میں لا کر انسان نہ صرف زیادہ کما سکتا ہے بلکہ کئی دوسروں خاندانوں کے کام بھی آسکتا ہے۔ ہر سماج کا اپنا رحجان ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرتی رحجان جارحانہ ہے۔ شاید ہم کسی حد تک اذیت پسند ہیں۔ اس کی کئی وجوھات ہیں۔ مثلاً ملک کی آدھی سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ ان کے پاس کوئی ڈھنگ کی نوکری نہیں ہے۔ البتہ ہر ایک کے ہاتھ سمارٹ فون ہے اور اوٹ پٹانگ اپ لوڈ کئے جا رہا ہے۔

ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے چاہا جائے، اس کے کہے کو تسلیم کیا جائے اور اس کے لکھے پہ واہ واہ ہو۔ یہ جبلت ہے کہ انسان کی پہچان ہو، ہر صاحب فکر انسان چاہتا ہے کہ اس کی فکر کی پذیرائی ہو، اسے یاد کیا جائے، سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک نے انسان کی اس جبلی کمزوری کو ہمہ وقتی ضرورت میں بدل دیا ہے۔ لکھنے والوں کے کئی گروپس، کئی ویب سائٹس سامنے آئی ہیں۔ جہاں بالخصوص نئے لکھنے والے یا وہ افراد جو اخبارات، رسائل و جرائد میں نہیں لکھ سکتے تھے، انھوں نے فیس بک سٹیٹس کے اختصاری رویئے کو اپنایا اور” لائیکس” سمیٹنے شروع کر دیئے۔ بے شک سوشل میڈیا پہ چند لائنیں لکھنا اخبارات و جرائد میں لکھنے سے کئی گنا آسان ہے۔

پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا تینوں کی ترجیحات مختلف ہیں۔ اخبارات و ٹی وی میں، خبروں، تجزیات، رپورٹوں اور مضامین پر ایڈیٹوریل بورڈ کی گہری نظر ہوتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا میں ایک شخص اپنے پیج یا اکاونٹ کا خود ہی ایڈیٹر اور خود ہی سب ایڈیٹر بھی ہوتا ہے۔ میڈیا کےت ینوں سیکٹرز کی ترجیحات الگ ہیں۔ اخبارات و ٹی وی میں لکھنے والے یا خبر فائل کرنے والے کے پاس صحافتی تجربہ ہوتا ہے، اگر تجربہ نہ بھی ہو تو ایڈیٹوریل بورڈ رہنمائی کے لیے موجود ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پہ لکھنے والے کے لیے اتنا ہی ضروری ہے کہ وہ فیس بک، یو ٹیوب یا انسٹا گرام اکاونٹ بنائے اور چند سطری خیالات لکھ ڈالے، یا پھر یو ٹیوب کے لیے سنسنی خیز ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کر دے۔

پرنٹ میڈیا کی سب سے اچھی بات ایڈیٹوریل بورڈ کا ہونا ہے، جو خبر، کالم، انٹرویو، شخصی خانے وغیرہ سے غیر ضروری الفاظ حذف کرکے اسے اشاعت کے قابل بناتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا چونکہ نیا ہے، اس لئے اس میں غلطیوں کا امکان زیادہ ہے، اس کے باجود اسائنمنٹ ایڈیٹر، ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر ڈگری ہولڈر رپورٹرز، پرنٹ میڈیا کے سیکھے ہوئے کاپی رائٹر، کاپی ایڈیٹرز موجود ہوتے ہیں۔ مجھ سمیت سارے عامل صحافی فیس بک پر دو سطری "صحافیوں” کے مخالفین پر رکیک حملے پڑھ کر بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ ہر سمارٹ فون والا جس نے یو ٹیوب چینل بنایا ہوا ہے، وہ اوٹ پٹانگ ویڈیوز تو اپ لوڈ کرسکتا ہے، مگر ایسے شخص کی "کاریگری” میں صحافتی مہارت کا فقدان صاف نظر آتا ہے۔

اے کاش ان لوگوں نے عمار چوھدری کے کالمز پڑھے ہوتے اور انٹرنیٹ کو کمائی کا ذریعہ بناتے۔ بی بی سی اردو کی سکرولنگ کر رہا تھا کہ ایک خبر پر نظر رک گئی، "ویڈیو شیئرنگ سائٹ یوٹیوب نے اپنے پلیٹ فارم پر خطرناک اور جذباتی طور پر تکلیف دہ مواد کو ممنوع قرار دیا ہے۔ یہ اقدام ان نام نہاد چیلنجز کے جواب میں کیا گيا ہے، جس میں شریک ہونے والے بعض اوقات خود کو زخمی کر لیتے ہیں یا ان کی وجہ سے اموات ہو جاتی ہیں۔ گوگل کی ویڈیو شیئرنگ سائٹ نے کہا ہے کہ ایسے مواد کی یوٹیوب پر کوئی جگہ نہیں ہے۔ بہرحال یہ کمپنی اپنے تازہ ضابطے کو سائٹ پر موجود نقصان دہ مواد پر نافذ کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔

انٹرنیٹ سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی ایک رپورٹ میں یہ دکھایا گيا ہے کہ کس طرح درندگی کو پیش کرنے والی یا اس قسم کی چیزیں اب بھی سائٹ پر موجود ہیں، حالانکہ گذشتہ اپریل میں ایسے مواد کو ہٹانے کا عہد کیا گيا تھا۔ بعض ویڈیوز کو تو کئی لاکھ بار دیکھا گیا ہے۔ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ انھوں نے "جارحانہ انداز میں اپنی قانونی پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے کام کیا ہے، تاکہ اس قسم کی چیزیں ہٹائی جا سکیں۔” لیکن میرا خیال ہے کہ ابھی اس بیل کو منڈھے چڑھنے میں دو چار برس مزید لگ جائیں گے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ داعش نے بھی اس میڈیم کا سہارا لیا اور بے گناہ انسانوں کے سر قلم کرکے ویڈیوز اپ لوڈ کیں، تاکہ لوگوں پر اپنی وحشت اور اپنے نام نہاد فہم اسلام کی دھاک بٹھا سکیں۔؟ کیا کالعدم تحریک طالبان نے بھی اس میڈیم کو اپنے مذموم اور گھٹیا مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا۔؟

جارحانہ اور ڈرائونی ویڈیوز صرف پاکستان یا ترقی پذیر ممالک کے صارفین ہی اپ لوڈ نہیں کرتے بلکہ امریکہ و یورپ میں بھی جنونی اپنی ظالمانہ نفسیاتی تسکین کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق "گذشتہ مئی میں مینیسوٹا کی 20 سالہ خاتون مونالیسا پیریز کو اپنے بوائے فرینڈ ماریو روئز کو مردہ دکھانے کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا ہوئی۔ ان دونوں کا خیال تھا کہ ان کا سٹنٹ والا ویڈیو جس میں ایک انسائیکلوپیڈیا مسٹر روئز کو بچائے گا، وہ یوٹیوب پر وائرل ہوگا۔ حال ہی میں نیٹ فلکس کے شو "برڈ باکس کے ایک منظر سے متاثر ایک چیلنج میں آنکھ پر پٹی باندھ کر ڈرائیونگ کا چيلنج سامنے آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔” کالم طوالت کا متحمل نہیں ہوسکتا نہ ہی میں اس کی دوسری قسط لکھنا چاہتا ہوں۔ البتہ اس موضوع پر مزید دو چار کالم ضرور لکھوں گا۔ یوٹیوب، فیس بک اور سوشل میڈیا کی دیگر فارمز کو اگر سنجیدگی سے کام میں لایا جائے تو لاکھوں کمائے جا سکتے ہیں، مگر ہمارے جوان مثبت اور محنت طلب کام کرنے کے بجائے ہیجانی کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …