اتوار , 11 اپریل 2021

سانحہ ساہیوال

(زمرد نقوی) 

آج کل میڈیا میں سانحہ ساہیوال موضوع بحث ہے۔ عوام سمیت اپوزیشن اس کی مذمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ۔لیکن پوچھنے والے پوچھتے ہیں کہ ہماری سابقہ حکومت کے خادم اعلیٰ جن کی زبان پر ایک ہی ورد ہوتا تھا کہ وہ پولیس کلچر تبدیل کردیںگے ۔

لیکن مجا ل ہے کہ پنجاب پولیس ذرہ برابر بھی تبدیلی ہوئی ہو، اگر تبدیلی ہوئی تو صرف وردی میں جس پر حکومتی خزانے سے عوام کے اربوں روپے ضایع ہوگئے۔کہنے والے اُ س وقت بھی کہتے رہے کہ وردی تبدیل نہ کروا ان کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرو۔ حالت یہ ہے کہ جو نیم خواندہ جس کا زیادہ تر دیہی علاقوں سے تعلق ہوتا ہے جب انھیں پولیس کی ملازمت مل جاتی ہے تو وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ انھیں نوکری نہیں ملی انھیں لائسنس(To Kill) عوام کو قتل کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ انھیں پتہ ہوتا ہے کہ دو دوران ملازمت چاہے جتنے بھی بند ے بھی مار دیں کوئی انھیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا ۔ زیادہ سے زیادہ انھیں وقتی طور پر تبدیل کردیا جائے گا۔انکوائری ہوگی جس کا نتیجہ آخر کار اُ ن کے حق میں ہی آئے گا ۔

پاکستان کے ننانوے فیصد عوام کو ماضی کے حوالے سے آج بھی یقین ہے کہ سانحہ ساہیوال کا ارتکاب کرنے والے اہلکار آخر کار بچ جائیں گے۔کچھ دے دلا کر متاثرین کا منہ بند کردیا جائے گا اور میڈیا ایک نئی بریکنگ نیوز کی تلاش میں ہوگا۔ عوام کی یادداشت تو ویسے بھی کمزور ہوتی ہے وہ بھی آخر کار بھول بھال جائیں گے ۔ جب قائدہ اعظم ، لیاقت علی خان، محترمہ فاطمہ جناح کے قاتلین پکڑے نہیں جاسکے ۔ اُ س کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ،مرتضیٰ بھٹو، بینظیر بھٹو کے حقیقی قاتل آج بھی گمنام ہیں۔

لیکن فرنٹ پر رہنے والے اہلکاروں کو ترقیوں سے نوازا گیا ۔ سانحہ ساہیوال میں قتل ہونے والے فرد کے بھائی نے پنجاب بیوروکریسی کی پھرتیاں دیکھ کر فوراً ہی کہہ دیا تھا کہ اسے انصاف کی کوئی توقع نہیں ۔جب پولیس ہی اس سانحہ کی تفتیش کرئے گی تو نتیجہ زیرو ہی نکلے گا ۔ ہمارے ملک میں شروع سے ہی یہ المیہ چلاآرہا ہے کہ جب تھانے میں پولیس تشدد سے کوئی ناحق مارا جاتا ہے تو اُس کے اپنے ساتھی اہلکار ایسی تفتیش کرتے ہیں کہ اُن کا پیٹی بھائی صاف بچ جاتا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ شہریوں ریٹائرڈ دیانتدار ججوں اور افسروں پر ایسا ادارہ مستقل پر قائم ہو جو مجرم اہلکار کو قرار واقعی سزا کم از کم عمر قید یا سزائے موت دے۔ کیونکہ جان کا بدلہ جان ہے اس طرح کی سخت ترین سزائیں ہی ماورائے عدالت جیسے گھناؤنے جرائم کا خاتمہ کرسکتی ہیں۔ اس بات پر بھونڈی دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو پولیس فورس کے مورال پر بُرا اثر پڑے گا۔یہ بھی خوب کہی کہ فورس کے مورال پر بُرا اثر نہ پڑے لیکن عوام کا مورال نفسیاتی طور پر تباہ ہو جائے، اُ س کی خیر ہے ۔’’ مشہور قول ہے کہ کفر کے معاشرے جو انصاف پرمبنی ہو ں قائم رہ سکتے ہیں لیکن ظلم سے نہیں‘‘ وجہ صاف ظاہر ہے ظلم پر مبنی معاشروں سے عوام رفتہ رفتہ لاتعلق ہوتے جاتے ہیں، اس طرح وہ حکمران جو ظالموں کی سرپرستی کرتے ہیں نہ صرف خود تباہ ہوتے ہیں بلکہ آخر کار ایسے ملک ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔

سانحہ ساہیوال کے مدعی کی جانب سے درج کرائی گئی FIR میں 16 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے جس میں 10 اہلکار باوردی جب کہ6 اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے۔FIR کے مطابق مقتولین کو ایلیٹ فورس کی ایک گاڑی نے جس میں CTD اہلکار سوار تھے انھیں اسلحہ کے زور پر اغواء کیا اور انھیں اپنی من پسند جگہ قادر آباد اڈے کے قریب مین جی ٹی روڈ پر لے گئے اور مقتولین کی گاڑی پر دانستہ طور پر سوچی سمجھی اسکیم کے تحت فائرنگ کردی۔

ہمارے دوست سنیئر تجزیہ کار کے مطابق اس سانحہ کے ذمے دار 2 افراد ہیں ۔پہلا شخص وہ مخبر ہے جس نے غلط اطلاع دی ،دوسر اشخص وہ ہے جس نے گاڑی میں سوار افراد کو قتل کرنے کی اجازت دی ۔ یقین واثق ہے کہ مہینوں پر طویل انکوائری کے بعد یہ بے قصور قرار پائیں گے جس کے بعد انھیں ترقیوں سے نوازا جائے گا۔ اگر اُ س گاڑی میں کوئی دہشت گرد بھی تھا تو اُسے منزل پر پہنچنے کے بعد باآسانی گرفتار کیا جاسکتا تھا ۔ اُس پر سونے پر سہاگہ جائے وقوعہ کو فوری طور پر پانی سے دھو دیا گیاتاکہ شواہد مٹائے جا سکیں۔

بینظیر بھٹو کی قتل گاہ کو بھی فوراً پانی سے دھو دیا گیا تھا۔ غیر ذمے داری کی انتہا یہ کہ فوری فرانزک تحقیقات بھی نہیں کی گئیں۔اب یہ دو بڑے قانونی سقم ہیں جس میں ملوث (دہشت گرد) اہلکار بالاآخر عدالتی کارروائی میں چھوٹ جائیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانحہ ساہیوال کے قتل عام میں ملوث اہلکاروں کے ناموں کے بغیر FIR کا اندراج بدنیتی اور انصاف کے قتل عام کا آغاز ہے ۔ یہ عمل پولیس کی طر ف سے ملوث اہلکاروں کو بچانے کے لیے قانونی سہولت کاری قرار دیا گیا ہے۔

سانحہ ساہیوال پر اپوزیشن شدید تنقید کررہی ہے ۔ راؤ انوار کو بہادر بچہ کہنے والے کو جو نہ صرف نقیب اللہ محسود بلکہ سیکڑوں بے گناہوں کا قاتل ہے زیب نہیں دیتا۔ پہلے تو بہادر بچہ کہنے والے کو یہ وضاحت دینی چاہیے کہ انھوں نے راؤ انوار کے کس کارنامے پر اُسے بہادر بچہ کہا۔ دوسرا سابقہ خادم اعلیٰ جن کے دور میں بہت سے مقابلے ہوئے جو تھانہ کلچر بدلنے کے دعویدار تھے وہ پنجاب میں پورے10سال بلاشرکت غیرے حکمران رہے۔ آیندہ شاید کسی کو بھی ایسا موقعہ نہ دیا جائے، وہ کس منہ سے سانحہ ساہیوال کی مذمت کررہے ہیں۔

سندھ حکومت آزمائشی دور میں داخل ہونے والی ہے۔پہلا مہینہ فروری ہے ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مدت پوری کرسکیں گے یا نہیں۔اہم مہینے مارچ ،اپریل ہیں ۔فوری طور پر اہم تاریخیں 31-30 جنوری تا2 فروری ہیں۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …