بدھ , 14 اپریل 2021

مسلم دنیا کے فراموش شدہ سیاسی قیدی

(تحریر: سید اسد عباس)

تاریخ انسانیت میں سیاسی اختلاف کی بنیاد پر قید و بند اور قتل کا سلسلہ بہت قدیم ہے۔ ہزاروں انسان سیاسی اختلاف کے سبب قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے کرتے راہی عدم ہوگئے۔ بادشاہتوں اور آمریتوں میں ان سیاسی قیدیوں کو کوئی حقوق حاصل نہ تھے، پھر جیسے جیسے آئینی حکومتوں کا دور دورہ ہوا تو ان سیاسی قیدیوں کو بھی حقوق ملنے شروع ہوئے۔ دنیا میں انسانی حقوق کا ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل سیاسی، مذہبی اور فلسفی بنیاد پر قید ہونے والے اشخاص کی رہائی کے لئے سرگرم عمل رہتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیاسی قیدی کے عنوان سے مختلف اداروں اور ریاستوں کی تعریف مختلف ہے، ساتھ ساتھ سیاسی قیدیوں کے بارے میں رویئے بھی۔ جدید انسانی تاریخ میں نیلسن مینڈیلا کو ایک سیاسی قیدی قرار دیا جاسکتا ہے۔ امریکی تاریخ میں مارٹن لوتھر کنگ کا نام لیا جاسکتا ہے، جنہیں مختلف اوقات پر اپنے سیاسی موقف کی وجہ سے سیاسی قیدی بنایا گیا۔

جیسے جیسے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والوں کی تعداد میں اٖضافہ ہو رہا ہے، ویسے ویسے حکومتی حربے میں بدل رہے ہیں۔ آج حکومتیں اکثر سیاسی قیدیوں کو بغاوت اور قانون شکنی جیسے جرائم میں گرفتار کرتی ہیں۔ یکطرفہ قانونی کارروائی، قانون و انصاف تک رسائی، اپیل کا حق ان قیدیوں کو نہیں دیا جاتا، اسی سبب اکثر سیاسی قیدی دیار غیر میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں سیاسی قیدی کی ایک بڑی مثال ذوالفقار علی بھٹو تھے، جن کو ایک آمر نے قتل کے مقدمے میں ملوث کرکے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے پھانسی کی سزا سنوائی۔ مسلم دنیا میں سیاسی قیدیوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ نہیں معلوم اسلامی دنیا میں بر سر اقتدار حکمرانوں کا ذہن ابھی تک ملوکیت سے باہر نہیں نکلا یا حاکمیت ہے ہی اسی چیز کا نام کہ اختلاف رائے کو سختی سے کچل دیا جائے۔ وہ ممالک جو بادشاہوں کی مانند سیاسی مخالفین کا قلع قمع نہیں کرسکتے، ان سیاسی مخالفین کے خلاف ایسے ایسے حربے ڈھونڈ لاتے ہیں، جو گذشتہ ملوک کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوں گے۔

عالم اسلام کے چند ممالک میں تو اب بھی ملوکیت عملاً قائم ہے۔ انسانی حقوق کے چارٹر، قیدیوں کے حقوق کی تنظیمیں، صحافتی ادارے وہاں براجمان ملوک کا چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے، جس کی ایک بڑی وجہ ان ممالک کا سرمایہ اور مغربی طاقتوں کے ساتھ لین دین ہے۔ انسانی حقوق کے سمندر کی عظیم موجیں ان ریاستوں کی سرحدوں پر آکر یکدم خشک ہو جاتی ہیں۔ ان ممالک میں آج بھی سیاسی طور پر مختلف نقطہ نظر رکھنے والے افراد کو مختلف حیلوں بہانوں سے قید رکھا جاتا ہے اور ان میں سے بعض کو تو یکطرفہ کارروائی کے ذریعے قتل بھی کروایا جاتا ہے، جس کی تازہ ترین مثال سعودیہ میں قتل کئے جانے والے عالم دین شیخ نمر باقر النمر کی ہے، جن کو ان کے سیاسی نظریات اور حکومت کے طرز عمل سے اختلاف کے سبب شہید کر دیا گیا۔ سعودیہ میں اس وقت بھی بہت سے علماء، دانشور، انسانی حقوق کے علمبردار حکومتی قید میں ہیں اور ان کے مقدمات بظاہر عدالتوں میں چل رہے ہیں، تاہم حقیقتاً حکومت ان سے چھٹکارے کے مناسب وقت کی منتظر ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں کی رپورٹیں فقط غریب ممالک کو طعنے دینے کے لئے لکھی جاتی ہیں، ان ممالک کو ان رپورٹوں اور اس میں لکھی کی عبارتوں سے کوئی سروکار نہیں۔

سعودیہ کے ہمسایہ ملک بحرین کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ بحرین میں سیاسی حقوق کے لئے آواز اٹھانے پر وہاں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت الوفاق کے سربراہ شیخ علی سلمان سمیت اس جماعت کے متعدد اراکین کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم کئے گئے۔ ممبران پارلیمنٹ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں اپنی شہریت سے محروم ہوئے۔ بحرین کے سب سے بڑے عالم دین شیخ عیسیٰ قاسم منبر کے ذریعے حق بات کہنے کے جرم میں گذشتہ کئی برسوں سے نظر بند ہیں۔ حکومت نے متعدد بار ان کو قتل کرنے نیز گرفتار کرنے کی کوشش کی، جس میں وہ کامیاب نہ ہوسکی۔ حال ہی میں بحرینی سپریم کورٹ نے شیخ علی سلمان کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ان کی سزا کو برقرار رکھا، یوں بحرینی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ سیٹوں کی حامل جماعت الوفاق پر پابندی کے ساتھ ساتھ اس کی مرکزی قیادت پر مختلف مقدمات قائم کئے جاچکے ہیں۔

شیخ علی سلمان گذشتہ چار سال سے حکومتی حراست میں ہیں، جبکہ ان کے دو دیگر ساتھیوں سابق ممبران پارلیمنٹ علی الاسود اور حسن سلطان کو غیر موجودگی میں عمر قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ اسی طرح بحرین میں انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ نبیل رجب بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ نبیل رجب کی اپیل بھی مسترد ہوچکی ہے۔ یہ بحرین کی مرکزی سیاسی قیادت کا حال ہے، عام عوام کا تو کوئی پرسان حال ہی نہیں۔ جن میں خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان حکومتی انصاف، جسے ظلم کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا، کی چکی میں پس رہے ہیں۔ تاہم بحرین اور اس کی سرکار مغربی ممالک کی مکمل آشیر باد رکھتی ہے۔ دنیا کو انسانی حقوق پر طعنے دینے والے بحرین کے حالات سے مکمل آگاہی کے باوجود یہاں انتہائی ڈھٹائی سے آتے ہیں اور اس ریاست کی سرکار کے ساتھ تجارتی معاہدے کرتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس بعض ایسے ممالک ہیں، جن کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جرم میں تجارتی پابندیوں کا سامنا ہے۔

مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کا خاتمہ اور اخوان کی سیاسی قیادت کی حراست کو بھی دنیا فراموش کرچکی ہے، ہزاروں اخوانیوں کے قتل کے بعد اخوان المسلمین کے مرشد عام، مصر کے سابق صدر سمیت متعدد مرکزی قائدین حکومتی حراست میں ہیں اور ان پر فوجی عدالتوں میں یکطرفہ مقدمات چلا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔ سیسی کا یہ بیان کہ مصر میں کوئی سیاسی قیدی نہیں بلکہ تمام افراد قوانین کی خلاف ورزی کی بنیاد پر مقدمات جھیل رہے ہیں، نہایت مضحکہ خیز ہے۔ فلسطین کے ہزاروں جوان اسرائیلی جیلوں کا ایندھن ہیں اور اسرائیلی عدالتوں میں یکطرفہ مقدمات جھیل رہے ہیں۔ افریقہ کے ملک نائجیریا میں قید اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ زکزاکی کی قید کو بھی برسوں بیت چکے ہیں، جو انسانی حقوق کے اداروں اور ریاستوں کو بالکل دکھائی نہیں دیتا۔ اسلامی دنیا کے دیگر سیاسی قیدیوں کی مانند شیخ زکزاکی بھی بغاوت اور نقص امن کے جرم میں قید ہیں۔ جن سے اپیل اور قانونی چارہ جوئی کا حق تک چھین لیا گیا ہے۔

بڑی قیادتوں کے علاوہ دنیا بھر میں چھوٹے درجے کے سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگیاں اور قید و بند کا سلسلہ آج بھی موجود ہے، جس کے بارے میں نہ تو کسی عالمی فورم پر کوئی آواز اٹھتی ہے اور نہ ہی کوئی شور و غوغا بلند ہوتا ہے۔ دنیا میں موجود ان حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انسان زمانہ قدیم کی مانند آج بھی مظلوم ہے، ظالم نے فقط حربے بدلے ہیں، ظلم کا وہی بازار گرم ہے، جو انسانی تاریخ میں جاری تھا۔ آج انسان کی مظلومیت کے نوحے کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا انسانیت اور مظلوم کی دادرسی سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے۔ مظلوم جس کو امید سمجھتے ہیں، وہ ایک سراب ہے، جو ان کی تکلیف کو بڑھانے کے لئے ان کے سامنے رکھا گیا ہے، جیسے پیاسے کے سامنے ریگ گرم کا حباب، جو پیاسے کی پیاس نہیں بجھاتا بلکہ اس کی تشنگی کو دو آتشہ کر دیتا ہے۔ امید ہے تو حقیقی منجی بشر جو اس زمین کو ایسے انصاف سے پر کر دے گا، جیسے وہ ظلم سے پر ہوگی۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …