ہفتہ , 17 اپریل 2021

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شام میں نئے بحران کی کوشش

(تحریر: قاسم غفوری)

شام بدستور مشرق وسطی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا اصلی محور ہے۔ اس وقت جب شام میں دہشت گرد گروہ آخری سانسیں لے رہے ہیں اور ان کے حامی ممالک بھی اپنی شکست کا اعتراف کر چکے ہیں خطے اور شام کے دشمن ممالک اس ملک کے خلاف نئی سازشیں کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ یہ ممالک اگرچہ خود کو شام اور خطے کا مخلص ظاہر کرتے ہیں لیکن خفیہ طور پر شام پر کاری ضرب لگانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ان ممالک نے آج کل ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے جو شام سے ایران کے انخلا پر مشتمل ہے۔ شام کی تعمیر نو کا ایشو سامنے آ چکا ہے اور عرب اور یورپی ممالک نے بھی اس میں حصہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ شام سے اپنے فوجیوں کی وطن واپسی کا اعلان کر چکا ہے لیکن دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ ان سب نے اپنے اقدامات کیلئے ایک شرط پیش کی ہے اور وہ شام سے ایران کا انخلا ہے۔

امریکہ نے دہشت گردی سے مقابلے کے بہانے کچھ نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اس تناظر میں امریکہ نے شام میں داعش کے خلاف سرگرم فاطمیون اور زینبیون بریگیڈز پر بھی پابندی کا اعلان کیا ہے اور اس فیصلے کی وجہ ان کا ایران سے تعلق بیان کیا ہے۔ اسی طرح امریکہ نے حزب اللہ لبنان، بعض دیگر لبنانی گروہوں اور عراق کی ملیشیا حشد الشعبی پر بھی ایران سے تعلق کے باعث پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل نے شام پر ہوائی اور میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل اپنے ان حملوں کے بارے میں دو نکات پر تاکید کر رہا ہے۔ ایک یہ کہ ان حملوں کا مقصد ایران سے مقابلہ کرنا ہے اور جب تک ایرانی فورسز شام میں موجود ہیں یہ حملے جاری رہیں گے۔ دوسرا اسرائیل کے سیاسی اور میڈیا حلقے مسلسل ایسی خبریں اور رپورٹس شائع کر رہے ہیں جن سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شام کے بارے میں اسرائیل اور روس کے درمیان مفاہمت پائی جاتی ہے اور شام پر انجام پانے والے تمام حملے روس کو اعتماد میں لے کر انجام پاتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ روس اور ایران میں مفادات کا ٹکراو اور شام کے مستقبل کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ان تمام باتوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی – مغربی – صہیونی اتحاد نے شام کے بارے میں ایک ایسا پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کیلئے مشکلات کھڑی کرنا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے اس پروپیگنڈے کا مقصد کیا ہے اور انہوں نے یہ نفسیاتی جنگ کیوں شروع کر رکھی ہے؟ اگر ہم خطے کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ ماضی میں بھی یہ ممالک ایسا کام کر چکے ہیں۔ 2005ء میں امریکہ، اسرائیل اور ان کے مغربی اور عرب اتحادی ممالک نے ایسا ہی پروپیگنڈہ لبنان میں موجود شام آرمی کے خلاف انجام دیا تھا۔ اس پروپیگنڈے کے نتیجے میں لبنان سے شام فوج وطن واپس آ گئی جو وہاں گذشتہ 30 سال سے موجود تھی اور اس کا مقصد ممکنہ اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنا تھا۔ اس زمانے میں بھی مغربی – عربی – صہیونی اتحاد نے لبنان کی تعمیر نو اور اس کی خودمختاری کی حفاظت کا دعوی کرتے ہوئے یہ کام انجام دیا تھا۔ ان کی سازش کا پول اس وقت کھلا جب 2006ء میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 33 روزہ جنگ واقع ہوئی۔

آج بھی یہ شیطانی اتحاد جانتا ہے کہ شام میں موجود ایرانی فورسز شام اور خطے کی سکیورٹی میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہیں لہذا وہ شام میں نئے بحران پیدا کرنے پر مبنی اپنی سازشوں میں ایرانی فورسز کو بڑی رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔ ایران نے حزب اللہ، فاطمیون، زینبیون، حشد الشعبی وغیرہ جیسی عوامی رضاکار فورسز تشکیل دے کر اسلامی مزاحمتی ونگ بنانے اور ان کے ذریعے خطے کی سکیورٹی بحال کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے دشمن ممالک نے خطے کی سکیورٹی کی ضامن ان فورسز کو نشانہ بنا رکھا ہے کیونکہ ان کا اصل مقصد خطے میں مستقل سکیورٹی بحران ایجاد کرنا اور اس بحران کے ذریعے اپنے شیطانی اہداف حاصل کرنا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ان کے مغربی اور علاقائی اتحادیوں کی جانب سے وینزویلا میں سیاسی بحران ایجاد کرنے اور ایران کے علیحدگی پسند دہشت گرد گروہوں کی مدد اور حمایت کرنے کا بھی یہی مقصد ہے کہ روس اور ایران کو شام میں موثر کردار ادا کرنے سے روکا جائے۔ اس تناظر میں شام میں مثبت کردار ادا کرنے والے تمام ممالک اور قوتوں کو آپس میں اتحاد اور مفاہمت کی فضا مزید مضبوط بنانا ہو گی تاکہ ان شیطانی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …