منگل , 13 اپریل 2021

ایران فی الوقت جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا: امریکی انٹیلیجنس رپورٹ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی انٹیلیجنس کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے شواہد نہیں ملے ہیں وہیں ٹرمپ انتظامیہ کی امیدوں کے باوجود اس بات کے امکانات کم ہیں کہ شمالی کوریا اپنے تمام جوہری ہتھیار تلف کر دے گا۔حال ہی میں جاری کی جانے والی ‘ورلڈ وائیڈ تھریٹ اسیسمنٹ’ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین اور روس کی جانب سے سائبر حملوں کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں اور یہ دونوں ممالک 2020 کے امریکی انتخابات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں ایران کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اندازہ یہی ہے ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے سلسلے میں فی الوقت کام نہیں کر رہا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام جو کہ خطے میں سب سے بڑا ہے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے خلا میں مشن بھیجنے کے پروگرام سے بھی اس کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے پروگرام کی ٹائم لائن مختصر ہو گئی ہے کیونکہ سپیس لانچ وہیکل اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل میں ایک جیسی ٹیکنالوجی ہی استعمال ہوتی ہے۔

امریکی رپورٹ میں ایران پر کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے تحت اس پر عائد ذمہ داریاں پورا نہ کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ خدشات موجود ہیں کہ ایران جارحانہ مقاصد کے تحت کیمیائی مواد تیار کر رہا ہے اور اس نے اپنے تمام کیمیائی مواد کو ظاہر نہیں کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ایران ابھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا، لیکن تہران کے ’خطے میں عزائم اور بہتر فوجی صلاحیتیں‘ مستقبل میں امریکی مفادات سے متصادم ہو سکتے ہیں۔

2018 میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے کیے جانی والے جوہری معاہدے کو ختم کر دیا تھا اور اس پر اور بھی سخت پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔سینیٹ کی کارروائی کے دوران سی آئی اے کی ڈایئرکٹر جینا ہیسپل نے کہا کہ ایران اب بھی ’تکنیکی طور پر‘ جوہری معاہدے کی ’پابندی‘ کر رہا ہے۔

شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار
رپورٹ کے مطابق جب تک شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کی جزوی تخفیفِ کے حوالے سے بات چیت میں لگا ہوا ہے، ’ایسا نہیں لگتا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے یا پیداواری صلاحیت کو ترک کرے گا۔‘رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے نزدیک یہ ہتھیار اس کی موجودہ حکومت کی بقا کے لیے لازمی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جانگ اُن کی پچھلے سال سنگاپور میں ہونے والی ملاقات میں جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے بارے میں بات چیت ہوئی تھی۔

دونوں رہنماؤں نے ایٹمی ہتھیاروں کی مکمل تخفیف پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس ملاقات کے بعد اس مسئلے پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔شمالی کوریا نے ہمیشہ اصرار کیا ہے کہ وہ صرف اس صورت اپنے جوہری ہتھیار ترک کرے گا اگر امریکہ بھی ایسا ہی کرے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ایک اور ملاقات فروری میں متوقع ہے، لیکن اس کے محرکات ابھی تک طے نہیں ہو پائے۔رپورٹ کے مطابق چین اور روس دونوں کے پاس ’سائبر جاسوسی‘ کی صلاحیتیں موجود ہیں، جن کی مدد سے وہ 2020 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …