ہفتہ , 17 اپریل 2021

پاکستان کا تنگ نقطہ نظر طالبان مخالف امریکی کوششوں پر پانی پھیردے گا،رپورٹ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس ڈینیئل کوٹس نے 2019 میں افغانستان اور بھارت میں انتخابات اور وسیع پیمانے پر طالبان حملوں سے جنوبی ایشیا کو درپیش چیلنجز میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔سینیٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس میں ڈینیئل کوٹس نے امریکا کو درپیش اہم عالمی خطرات کی نشاندہی سے متعلق رپورٹ پیش کی تھی۔

نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر نے اپنے بیان میں یہ پیش گوئی کہ آنے والے سال میں’ پاکستان میں موجود مسلح گروہ اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پڑوسی ممالک میں حملے جاری رکھیں گے‘۔

ڈینیئل کوٹس کی رپورٹ میں پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت کرنے اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا ذمہ دار قرار دیاگیا ’ جہاں وہ بھارت اور افغانستان میں کیے جانے والے حملوں اور امریکی مفادات کے مخالف اقدامات کی منصوبہ بندی کرتے ہیں‘۔

رپورٹ میں اسلام آباد کو بعض گروہوں کو پالیسی آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے اور صرف براہ راست پاکستان کو دھمکانے والے مسلح گروہوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ڈینیئل کوٹس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی تعاون میں پاکستان کا تنگ نقطہ نظر طالبان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی امریکی کوششوں پر پانی پھیر دے گا۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان، افغانستان میں امن عمل اور 17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں اہم ترین کردار ادا کررہا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے اور سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی کہ اگر اتحادی حمایت موجودہ سطح تک قائم رہتی ہے تو کابل اور طالبان 2019 میں افغان جنگ میں اسٹریٹیجک ملٹری فوائد حاصل نہیں کرسکیں گے۔

اس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان نے بڑے پیمانے پر حملوں میں تیزی کردی ہے تاہم افغان فورسز نے شہروں اور حکومتی اداروں کو محفوظ کیا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ افغان سیکیورٹی کو دفاعی مشن قبضے میں لیے گئے علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنے میں نقل و حرکت اور قابل اعتماد افواج کی کمی کا سامنا ہے ‘۔

پاکستان کے جوہری پروگرام پر تشویش
ڈینیئل کوٹس نے سینیٹ کمیٹی میں دیے گئے ریمارکس میں کہا کہ ’ ہمیں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر تشویش ہے‘ لیکن انہوں نے بھارت کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی تشویش کا اظہار نہیں کیا۔تاہم رپورٹ میں 2018 میں بھارت میں جوہری میزائل سے لیس پہلی جوہری آبدوز کو اپنے ہتھیاروں میں شامل کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ ’پاکستان نئے قسم کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری جاری رکھےہوئے ہے جن میں شارٹ رینج میزائل، سمندر سے مار کرنے والے کروز میزائل، فضا سے مار کرنے والے کروز میزائل اور لانگ رینج بیلسٹک میزائل شامل ہیں‘۔

2016 میں جوہری دہشت گردی سے بچاؤ سے متعلق ہارورڈ کینیڈی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت کے جوہری سیکیورٹی اقدامات پاکستان سے کمزور ہوسکتے ہیں‘۔

اس میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں سرحد پار چوری کا خطرہ کم دکھائی دیتا ہے جبکہ پاکستان میں یہ خطرہ زیادہ ہے۔امریکا کی رپورٹ کے مطابق 2019 میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے مجموعی خطرہ بڑھنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے جوہری ہتھیار ’ جنوبی ایشیا میں جوہری سیکیورٹی کے خطرے میں اضافہ‘ کررہے ہیں۔اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ جوہری ہتھیاروں کی نئی اقسام خطے میں سیکیورٹی سے متعلق نئے خطرات میں اضافہ کردے گا۔

2019 میں پاک بھارت کشیدگی برقرار رہنے کا امکان
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی مئی 2019 یعنی بھارت میں انتخابات تک برقرار رہے گی اور اس کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔پاک بھارت کشیدگی کی وجوہات میں سرحد پار دہشت گردی،لائن آف کنٹرول (ایل اوسی ) پر فائرنگ، بھارت میں متنازع انتخابات اور بھارت کے مقابلے میں امریکی تعلقات سے متعلق پاکستانی تصور شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’مسلسل دہشت گرد حملے اور کشمیر میں سرحد پار فائرنگ سے دونوں ممالک کی جانب سے مفاہمت کی سیاسی خواہش میں کمی آئی ہے‘۔اس میں مزید کہا گیا کہ ’ بھارت کے ملکی انتخابات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی ہلچل کی وجہ سے پاکستان سے تعلقات بحال کرنے کے مواقع میں کمی آئے گی‘۔

ڈینیئل کوٹس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ہونے والے انتخابات ملک میں فرقہ وارانہ انتشار میں بھی کردار ادا کرسکتے ہیں، جس سے بھارتی مسلمانوں اور مذہبی دہشت گرد گروہوں کو بھارت میں اپنے اثرات کا دائرہ کار وسیع کرنے میں مدد ملے گی‘۔مزید برآں امریکا کے مطابق بھارت اور چین کے تعلقات میں دونوں جانب سے کوششوں کے باوجود کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

تاہم چینی اور بھارتی قیادت نے اپریل 2018 میں کشیدگی میں کمی اور تعلقات میں بحالی کے لیے ایک غیر رسمی ملاقات کی تھی جس میں سرحد سے متعلق مسائل پر بات چیت نہیں ہوئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ فوجی نقل و حرکت سے متعلق غلط فہمی کے نتیجے میں چین اور بھارت کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگا جو ایک مسلح تصادم میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے‘۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …