جمعرات , 22 اپریل 2021

بیوروکریسی سیاسی دباؤ کے سامنے سر نہ جھکائے، چیئرمین نیب

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔وفاقی سیکرٹریز سے کابینہ ڈویژن میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ملکی ترقی میں اہم کردار ہے جب کہ بیوروکریسی کے مسائل سے آگاہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ سمیت ملک کے مختلف اداروں میں اہم ذمہ داریاں سر انجام دی ہیں، نیب 1999 میں قائم کیاگیا، چیئرمین نیب کی حیثیت سے گزشتہ 13ماہ سے کام کررہا ہوں اور اس عرصہ کے دوران نیب کو آزاد ادارہ بنانے کیلئے بھرپور کوشش کی جا رہی ہیں۔

ملکی ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہوگا
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ تمام شعبوں میں جامع اصلاحات کے ذریعے نیب کو فعال ادارہ بنایا گیا ہے، ملکی ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہوگا، پروپیگنڈہ کیا گیا کہ نیب کی وجہ سے بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے ہزاروں مقدمات کا جائزہ لیا تو بیوروکریسی کے خلاف سامنے آنے والے مقدمات نہ ہونے کے برابر تھے، یہ مذموم پروپیگنڈہ تھا جس کا مقصد نیب پر الزام تراشی اور بیوروکریسی کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔

نیب بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کام کرنے والا معتبر ادارہ ہے
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب ملک کا بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے قانون کے مطابق کام کرنے والا معتبر ادارہ ہے، نیب ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کرنے کے علاوہ ان کے جائز خدشات کو قانون اور آئین کے مطابق حل کرنے پر یقین رکھتاہے۔

ہم سب کوملک نے جو کچھ دیا ہے وہ ہم پر قرض ہے
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کرپشن کا خاتمہ نہ صرف نیب بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ دار ی ہے، ہم سب کوملک نے جو کچھ دیا ہے وہ ہم پر قرض ہے اور ہمیں یہ قرض اتارنا ہے، 28سال قبل جن کے پاس سواری نہیں تھی وہ آج دبئی اور دیگر ممالک میں جائیدادوں اور ٹاورز کے مالک ہیں، ان سے یہ پوچھنا کہ یہ سب کہاں سے آیا تو یہ جرم ہے۔

بیوروکریسی کو کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے 10 بار سوچنا چاہیے
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ 95 ارب ڈالر کا قرضہ کہاں خرچ کیا گیا کیا یہ پوچھناکیا جرم ہے، نیب اور بیورو کریسی کا تعلق کسی گروپ، گروہ، طبقہ، حکومت اور کسی سیاسی جماعت سے نہیں، ہمارا تعلق پاکستان کے ساتھ ہے، بیوروکریسی کو کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے 10 بار سوچنا چاہیے ہمیشہ ملک کے مفاد میں فیصلے کریں، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن ریاست پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گی۔

بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ حکومت پالیسی سازی کرتی ہے لیکن اس پر عملدرآمد کرنا بیوروکریسی کا کام ہے، بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے، سزا کے خوف کے بجائے اللہ پر یقین رکھیں گے تو مشکلات حل ہوجائیں گے کیونکہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے بھی بیوروکریسی کے قانونی اقدامات کا تحفظ کیا جا رہا ہے
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بھی بیوروکریسی کے قانونی اقدامات کا تحفظ کیا جا رہا ہے، سرکاری ملازم کے خلاف معمولی فیصلہ کو بھی واپس لیا جاتاہے، اس وقت ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کیوں دباؤ کے سامنے سرنگوں ہوں، نیب پر زیادہ دباؤ آتا ہے لیکن ہم اس کا سامنا کرتے ہیں، بیوروکریسی قانون قواعد وضوابط اور آئین کے مطابق کام کرے، اگربیوروکریسی قانون کے مطابق کام کرے گی تو نیب آپ کو کیوں بلائے گا۔

نیب کے تفتیشی نظام میں بتدریج بہتری آرہی ہے
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ یہاں کیسے کیسے چھکے لگ رہے ہیں، ہمیں ملک اور عوام کے مفاد میں کام کرنا ہوگا، وزارتوں اور ڈویژنوں میں ادارہ جاتی نظام اتنا اچھاہو کہ معاملہ نیب تک نہ پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کے تفتیشی نظام میں بتدریج بہتری آرہی ہے، فیصلہ کیا ہے کہ آج کے بعد نیب میں کسی سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری کے خلاف شکایت کا میں ذاتی طورجائزہ لوں گا۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …