پیر , 12 اپریل 2021

وینزویلا میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت

(تحریر: رضا حسینی)

وینزویلا میں سیاسی کشمکش جاری ہے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر خوان گوایدو نے خود کو ملک کا نگران صدر قرار دے کر موجودہ صدر نکولاس مادورو کی قانونی حیثیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بحران کی شدت میں اس وقت اضافہ ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام نے بھی خوان گوایدو کی حمایت کا اعلان کر دیا اور اس کے بعد امریکہ کے اتحادی مغربی ممالک بھی میدان میں کود پڑے۔ البتہ وینزویلا کی مسلح افواج نے قانونی صدر نکولاس مادورو کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کو خبردار کیا ہے کہ وینزویلا کی سیاسی صورتحال ایک ٹائم بم کی مانند ہے اور باغی لیڈر خوان گوایدو کی حمایت اس صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہی ہے جس کے بھیانک نتائج ظاہر ہوں گے اور اس کا فائدہ نہ تو وینزویلا کو ہو گا اور نہ ہی امریکہ کو۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے باغی رہنما کی حمایت کو جمہوریت کی حمایت قرار دیا ہے جبکہ انتہائی واضح ہے کہ ان کا یہ اقدام عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی رو سے کسی ملک کو دوسرے خودمختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔

حال ہی میں امریکی صدر نے وزارت خارجہ میں ایک اہم تبدیلی کی ہے جو وینزویلا میں جاری سیاسی بحران کے تناظر میں اسٹریٹجک قرار دی جا رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلیٹ ابرامس کو "وینزویلا میں جمہوریت لوٹانے کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے” کے طور پر وزارت خارجہ میں مقرر کیا ہے۔ یاد رہے ایلیٹ ابرامس ماضی میں امریکہ کے سابق صدور رونلڈ ریگن اور جرج بش سینیئر کے دور میں وزارت خارجہ میں کام کر چکے ہیں۔ اس دور میں ان کی ذمہ داری جنوبی اور مرکزی امریکہ کے ممالک میں مداخلت کر کے اپنی مرضی کی حکومتیں برسراقتدار لانا تھا۔ لہذا اب بھی یہی توقع کی جا رہی ہے کہ موجودہ امریکی صدر ان کے ماضی کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ماضی میں بھی جنوبی امریکہ کے ممالک میں امریکی مداخلت کا نتیجہ وسیع پیمانے پر خانہ جنگی اور قتل و غارت کی صورت میں ظاہر ہوا تھا اور اب بھی سیاسی حلقوں میں یہی پریشانی پائی جاتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک طرف وینزویلا پر فوجی چڑھائی کی دھمکی اور دوسری طرف وزارت خارجہ میں ایلیٹ ابرامس کی تقرری سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے اکثر سابق صدور مملکت کی طرح وہ بھی دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے وسوسے پر قابو نہیں پا سکے۔ اس خطرناک وسوسے کی اصل وجہ یہ ہے کہ واشنگٹن لاطینی امریکہ کو اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے اور گمان کرتا ہے کہ اس کی فوج لاطینی امریکہ کے عوام کو جمہوریت کا سبق پڑھا سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ میں دیگر ممالک میں مداخلت پر مبنی وسوسے سے مقابلے میں کمزوری کے وینزویلا میں کیا نتائج ظاہر ہوں گے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے وینزویلا کے مستقبل کے بارے میں چار ممکنہ منظرنامے پیش کئے ہیں۔ ان میں سے ایک ایسا ہے جو بظاہر مطلوب نظر آتا ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے اپنائی گئی پالیسی کے تناظر میں اس کا جامہ عمل پہننا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

پہلا منظرنامہ: نکولاس مادورو کی حکومت باغیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرے اور انہیں کچل دے اور اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خوان گوایدو کی حمایت شکست سے روبرو ہو جائے گی۔

دوسرا منظرنامہ: نکولاس مادورو کی حکومت باغیوں کے ہاتھوں سرنگون ہو جائے اور اس کے بعد فوج اپنی طاقت کے بل بوتے پر حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک پر قابض ہو جائے۔ یہ صورتحال بھی ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے شکست سمجھی جائے گی۔

تیسرا منظرنامہ: امریکہ شدت پسندانہ بیانات اور دھمکیوں کے بعد عملی طور پر وینزویلا پر فوجی چڑھائی کر دے جس کا نتیجہ ماضی میں سرد جنگ کے دوران مختلف ممالک میں امریکہ کی فوجی مداخلت کے نتائج جیسا ہی ظاہر ہو گا۔

چوتھا منظرنامہ: مختلف ممالک کے دباو سے وینزویلا میں حکومت اور مخالفین کے درمیان گفتگو اور بات چیت کا موقع فراہم ہو جائے۔ ایسی صورت میں ملک خانہ جنگی سے بچ جائے گا اور امریکہ کے پاس بھی فوجی مداخلت کا بہانہ ختم ہو جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …