بدھ , 21 اپریل 2021

کیا امریکی زوال شروع ہوچکا ہے ؟

سماجیات اور سیاسیات کےبہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اپنے زوال کی جانب گامزن ہے ان کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسیز اور مہم جوئیوں میں ناکامی تو دوسری جانب ٹرمپ کے سبب پیدا ہونے والے بحران امریکی قوت کو آہستہ آہستہ سکیڑنے جارہے ہے ۔یہ بات تو واضح ہے کہ اب دنیا میں وہ امریکی اثر ورسوخ نہیں رہا جو آج سے صرف ایک دہائی پہلے تک ہواکرتا تھا ۔

ہم جب ماہرین کی بات کررہے ہیں تو ان سے ہماری مراد دنیا کے وہ اہم ماہرین ہیں جن کا ایک طویل تجربہ اور سماجیات پر گہری نگاہ ہے ۔ان میں سے بہت سے ماہرین اور دانشوروں نے سوویت یونین کے زوال کے بارے میں بھی کھلے لفظوں بات کی تھی جو اس کیمونسٹ معاشرتی ساخت پر گہری نگاہ رکھتے تھے ۔

سماجیات کے بارے میں اگر الہٰی نکتہ نظر اور خاص کر ان الہٰی سنتوں کو پرکھا جائے جو کسی بھی سماج کے عروج و زوال کے اسباب بیان کرتی ہیں تو بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آخر کار ٹیڑھے اور ناہموار اصولوں پر قائم کوئی بھی معاشرے زیادہ دیر قائم نہیں رہتا ۔

فرانسیسی فلسفی آمونیل ٹوڈہو یا پھر ناروے کےجوہین گیلٹونگ یا پھر جدید دنیا میں الہیات کی بنیاد پر انقلاب برپا کرنے والی شخصیت ایران کے امام خمینی سب نے سوویت یونین کے خاتمے کی پیش گوئی کی تھی ۔اس فرق کے ساتھ کہ امام خمینی وہ پہلی شخصیت تھی جس نے سوویت یونین کے رہنما گورپاچوف کو سب سے پہلے متنبہ کیا تھا ۔

دلچسب بات یہ ہے کہ ایرانی دانشوروں کے مطابق امام خمینی نے امریکہ کے بارے میں بھی کہا تھا کہ وہ اپنے اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا ،ان کا کہنا تھا کہ حالیہ صدی دنیا میں کمزور اور پسے ہوئے لوگوں کی بہتری اورکامیابیوں کی صدی ہوگی ۔

میڈیا میں وقفے وقفے سے چھپنے والے مضامین کے مطابق آمونیل ٹوڈاور جوہین گیلٹونگ کا بھی یہی خیال ہے کہ سن 2020اور 2030یا 2025تک امریکہ کا اندرونی بحران اسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار کرے گا ۔

بہت سے سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکہ میں عوامیت پسندی Populismکی مقبولیت ،غیر سنجیدہ اقدامات اور صدر کی ہیجان خیز پالیسیاں اس ملک کو ڈکٹیٹرشب کی جانب لے کر جارہی ہیں جس کا نتیجہ اندرونی مزید تقسیم اور تصادم کی شکل میں نکل سکتا ہے ۔

اگر بغور دیکھاجائے تو امریکہ اس وقت عوامیت پسندی کی بد ترین لہر سے گذررہا ہے کہ جس نے تمام حدیں پار کرلیں ہیں ،نسل پرستانہ بیانات اور اقدامات سے لیکر خود امریکی ریاستی ستونوں کے ساتھ ٹکراؤ کی جو صورتحال دکھائی دے رہی ہے وہ آنے وال ےکٹھن حالات کاکھلا پتہ دے رہی ہیں ۔

ماہرین کے مطابق اس وقت امریکی ہر سیاسی سوچ دوسرے کو شک اور بے اعتمادی کے ساتھ دیکھنے لگی ہے جبکہ ماضی میں اس قسم کی صورتحال نہیں رہی ہے اور ایک دوسرے کو برداشت اور حسن ظن سے دیکھنے کی روایت قائم رہی ہے ۔

آج امریکی اپوزیشن کھلے لفظوں صدر ٹرمپ پر الزام لگارہی ہے کہ وہ ملک کو عوامیت پسند نعروں سے ڈکٹیٹرشب کی جانب لے جارہے ہیں دوسری جانب صدر کے حامی کہتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق اور آزادی کے نام پر ان غیر ملکیوںکی حمایت کرکے امریکہ کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔

بات صرف اپوزیشن کے رہنماؤں اور برسراقتدار ذمہ داروں تک بھی محدود نہیں بلکہ امریکی میڈیا سے لیکر سوسائٹی اور اہم پالیسی ساز اداروں تک تقسیم کو واضح پر طور دیکھاجاسکتا ہے ۔

صورتحال اس قدر بھیانک ہے کہ بعض وہ شہر یا علاقے جہاں ٹرمپ کے حمایتیوں کی اکثریت بستی ہے ٹرمپ کے خلاف تنقید برداشت کرنے کے لئے نہ صرف تیار نہیں بلکہ وہ کسی غیر مہذب سوسائٹی کے باسیوں کی طرح لڑنے اور جھگڑنے پر اترآتے ہیں ۔

امریکی سماج پر نگاہ رکھنے والوں کے بقول اس وقت یہ تقسیم ریاستی اداروں سے لیکر عام آدمی تک اس سطح کو چھو گئی ہے کہ یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس پر کوئی ذمہ دار ادارہ کنٹرول کرپائے گا ،حتی کہ علمی اداروں اور بحث و گفتگو کے حلقوں تک اس تقسیم کو دیکھا جاسکتا ہے ۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …