پیر , 21 اکتوبر 2019

لورالائی ایک ماہ میں چار حملوں کا نشانہ کیوں بنا؟

(خدائے نور ناصر)

بلوچستان کے پشتون آبادی والے شہر لورالائی میں منگل کے روز ہونے والے حملے میں نو پولیس اہلکار ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے۔ یہ اسی ماہ جنوری میں ہونے والاچوتھا حملہ ہے، جس میں دو خودکش حملے اور ٹارگٹ کلنگ کے دو واقعات شامل ہیں۔حکومتی موقف کے مطابق لورالائی کے یہ واقعات پاکستان کی ترقی کے خلاف سازش ہیں، جبکہ بعض حلقے اسے بلوچستان کے پشتون علاقوں میں ’طالبانائزیشن‘ پھیلنے یا پھیلانے کا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔

یکم جنوری کو لورالائی کینٹ پر چار خودکش حملہ آوروں کے حملے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔ گیارہ جنوری کو کوئٹہ روڈ پر بلوچستان ریزیڈنشل کالج کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر ہونے حملے میں دو اہلکار زخمی ہوئے۔

اگلے ہی دن 12 جنوری کو شہر کے سماجی کارکن اور ایدھی کے مقامی انچارج بازمحمد عادل کو اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جب وہ شہر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے خلاف ریلی نکالنے کا اعلان کررہے تھے۔

لورالائی کوئٹہ سے لگ بھگ 200 کلومیٹر پر واقع پشتونوں کا شہر ہے جہاں مختلف قبائل آباد ہیں۔ سنہ 2012 اور 2013 میں جب بلوچستان کے پشتون علاقوں میں اغوا اور دہشت گردی کے بعض واقعات رونما ہوئے تو یہ اطلاعات تھیں کہ لورالائی کے جنوب مشرق میں ضلع ژوب کے تحصیل مرغہ کبزئی اور شمال مغرب میں ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی کے بعض علاقوں میں مسلح طالبان سرگرم ہیں۔

بعد میں سکیورٹی فورسز نے انہی اور آس پاس کے علاقوں میں متعدد اپریشنز کیے، جن میں دہشت گردوں کو مارنے کا دعوی بھی کیا گیا۔اُس وقت بھی یہ اطلاعات تھیں کہ فاٹا اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کی وجہ سے دہشت گرد بلوچستان کے پشتون علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔

لورالائی میں بعض حکومتی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے ’سلیپر سیلز‘ عرصہ دراز سے موجود تھے لیکن سرگرم نہیں تھے تاہم اب اُن کے اچانک متحرک ہونے کے سوال کا جواب کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔

بی بی سی نے لورالائی کے آس پاس دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سلیپر سیلز کے حوالے سے صوبے کے وزیرداخلہ ضیاءاللہ لانگو سے بات کی اور پوچھا کہ اگر واقعی کیمپس ہیں، تو حکومت اتنے عرصے سے خاموش کیوں تھی؟وزیر داخلہ نے ان رپورٹس کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کوئی بنانا سٹیٹ نہیں، جہاں حکومت اور ریاستی اداروں کی موجودگی میں دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپس موجود ہوں‘۔

لورالائی سے رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر محمد خان تور اُتمانخیل اپنے حلقے میں ان واقعات کا الزام انڈیا، اسرائیل اور افغانستان پر ڈالتے ہیں۔ صوبائی وزیر اس کا واحد حل افغانستان کے ساتھ بارڈر کو سِیل کرنا قرار دے رہے ہیں اور اُن کے مطابق افغانستان کے ساتھ آنا جانا ویزے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔

اس سوال کے جواب میں کہ خود صوبائی حکومت ان واقعات کی روک تھام کے لیے کیا کررہی ہے؟ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اُن کی حکومت نے سکیورٹی کی ساری ذمہ داری ایف سی کو دی ہے اور حکومت باقاعدہ ایف سی کی فنڈنگ کرتی ہے۔

لورالائی سے قومی اسمبلی کے سابق رکن اور جمعیت علما اسلام کے رہنما مولوی امیرزمان نے حالیہ واقعات پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صرف اتنا جواب دیا کہ وہ سچ نہیں بول سکتے۔ ‘میرے خیال میں اگر پاکستان میں حکمران، سیاستدان اور عوام سچ کہیں، تو پورے پاکستان میں امن آسکتا ہے۔’

اسی شہر سے صوبائی اسمبلی کے سابق رکن اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما بابت لالانے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بعض قوتیں سوات اور وزیرستان کے بعد بلوچستان کے پشتون بیلٹ کو بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں، لیکن یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

اربعین واک: عراق میں نجف سے کربلا تک پیدل سفر کی کہانی

منزہ انوار یہاں جا بجا دورانِ سفر کسی بھی مسافر کو پیش آنے والی ہر …