بدھ , 23 اکتوبر 2019

امل الترامسی شہید ہوگئیں مگر ان کی روح زندہ ہے!

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں جمعہ کے روز اسرائیلی فوج کی وحشیانہ اور بلا اشتعال گولہ باری کے نتیجے میں جام شہادت نوش کرنے والی 43 سالہ فلسطینی خاتون امل مصطفیٰ الترامسی کو ہفتے کے روز سپرد خاک کردیا گیا۔ شہیدہ الترامسی کی نماز جنازہ اور تدفین میں ہزاروں شہری اس کے گھر پر جمع ہوگئے تھے۔

نماز جنازہ میں فلسطینی مزاحمتی، قومی، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی شرکت کی۔ شہیدہ کے جنازے میں شرکت کرنے والوں میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کے سربراہ اور دیگر رہ نمائوں نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں ہونے والے حق واپسی مظاہروں کے دوران فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کے ساتھ ساتھ بھاری توپ خانے سے حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں ایک خاتون شہید اور 25 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔

فلسطینی 30 مارچ 2018ء سے غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے اور حق واپسی کے حصول کے لیے پر امن احتجاج کر رہے ہیں۔ دوسری جانب صہیونی فوج فلسطینی مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے ان پر طاقت کا اندھا دھند استعمال کرتی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 257 فلسطینی شہید اور 25 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ ان میں سے 500 کی حالت خطرے میں ہے جب کہ شہید ہونے والے 11 فلسطینیوں کے جسد خاکی دشمن فوج نے قبضے میں لے رکھے ہیں۔

صہیونی فوجیوں نے امل الترامسی کو نام نہاد سرحدی باڑ سے 260 میٹر کی مسافت سے گولیاں مار کر شہید کیا۔صہیونی فوج نے الترامسی کوباقاعدہ نشانہ بنا کر گولی ماری جس کے نتیجے گولی ان کے سرمیں لگی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔

تیسری شہیدہ
فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں جاری احتجاجی تحریک”حق واپسی” کے دوران اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے دوران تین خواتین جام شہادت نوش کرچکی ہیں۔ امل الترامسی اس تحریک کی تیسری خاتون شہیدہ ہیں۔ الترامسی شہیدہ اپنی دیگر قریبی رشتہ دارخواتین کے ہمراہ حق واپسی تحریک میں باعدگی کے ساتھ شرکت کرتی رہی ہیں۔

اس کی ساتھیوں میں زخمی ہونے والی رضا مشتہی کا کہنا ہے کہ الم الترامسی غزہ کی سرحد پر ہونے والے پرامن مظاہروں کے دوران باقاعدگی کے ساتھ شرکت کرتی اور دیگر خواتین کو بھی ان مظاہروں شرکت پر قائل کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اس نے میدان کارزار کو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چھوڑا۔ وہ اپنے بچوں کے ہمراہ سرحد پر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرتی۔

رضا مشتہی کا کہنا ہے کہ ہم دکھی دل کے ساتھ اب اپنی ساتھی اور رہ نما الام ترامسی کو یاد کرتے ہیں۔ صہیونی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کر کے امل الترامسی کو ہم سے چھین لیا۔

ایک سوال کے جواب میں زخمی رضا مشتہی کا کہنا تھا جب مجھے خبر ملی امل الترامسی شہید ہوچکی ہیں تو میں اسپتال میں تھی۔ میں نے اپنے ساتھ دیکھ بھال پر موجود افراد سے کہا کہ ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر مجھے میری دوست امل کے جسد خاکی کے پاس پہنچایا جائے۔ اس کا کہنا ہے کہ میری زبان پر صرف ایک ہی لفظ تھا کہ میری دوست امل کو مجھ سے چھین لیا گیا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں ہونے والے حق واپسی مظاہروں کے دوران فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کے ساتھ ساتھ بھاری توپ خانے سے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں ایک خاتون شہید اور 25 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔

فلسطینی 30 مارچ 2018ء سے غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے اور حق واپسی کے حصول کے لیے پر امن احتجاج کر رہے ہیں۔ دوسری جانب صہیونی فوج فلسطینی مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے ان پر طاقت کا اندھا دھند استعمال کرتی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 257 فلسطینی شہید اور 25 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ ان میں سے 500 کی حالت خطرے میں ہے جب کہ شہید ہونے والے 11 فلسطینیوں کے جسد خاکی دشمن فوج نے قبضے میں لے رکھے ہیں۔ شہید ہونے والے 11 فلسطینیوں کے جسد خاکی دشمن فوج نے قبضے میں لے رکھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ کی خواتین کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے۔ امل الترامسی کی شہادت ایک انتقامی کارروائی ہے۔ اسرائیل غزہ کی خواتین کو جان بوجھ کر انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے۔

شہادت کے دن امل الترامسی
شہیدہ امل الترامسی کے بھائی خالد الترامسی نے بتایا کہ جس روز اس کی ہمشیرہ کو شہید کیا گیا، اس روز علی الصباح امل نےاسے بیدار کیا اور کہا آج ہم نے جلدی مظاہروں میں شرکت کے لیے پہنچنا ہے۔ میں‌ نے کہا کہ ہم ہر بار جلدی ہی تو جاتے ہیں۔ اس بار اتنا جلدی کیوں‌ تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ "آج مجھے شہادت کی خوشبو آ رہی ہے”۔خالد الترامسی نے بتایا کہ شہیدہ ان کے گھر کا ستون تھیں، ان کا خاندان امل کی شہادت کے بعد بہت ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔

ٰخالد نے کہا کہ امل الترامسی اس سے عمر میں بڑی تھیں۔ اس لیے تمام بہن بھائیوں نے اسے ماں کا درجہ دے رکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہماری ماں عارضہ قلب اور دیگر امراض کا شکار ہوئیں تو امل الترامسی ہی ان کا سہارا بنیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

اصل کون ہے اور روبوٹ کون، بوجھو تو جانیں

وسعت اللہ خان دنیا چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے۔ پہلا صنعتی انقلاب چھاپے …