جمعہ , 19 جولائی 2019

پختونخوا: محکمہ تعلیم کے مرد ملازمین کے خواتین سے رابطے پر پابندی

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے مرد ملازمین پر خواتین ملازمین سے رابطہ کرنے پابندی عائد کردی ہے۔ محکمہ کے مرد ملازمین خواتین ملازمین سے فون، میسج، واٹس ایپ اور فیس بُک پر رابطے پر بھی رابطہ نہیں کرسکیں گے۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق خواتین ملازمین کے ساتھ دفتری امور سے متعلق تمام تر رابطے خواتین ہی کریں گے اور اس پابندی کا اطلاق اسکول اساتذہ سے لیکر اوپر تک ہوگا۔

محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کا بڑا فیصلہ۔ مردوں کے خواتین اساتذہ سے رابطے پر پابندی عائد

محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کا بڑا فیصلہ۔ مردوں کے خواتین اساتذہ سے رابطے پر پابندی عائد

Gepostet von Iblagh News am Freitag, 1. Februar 2019

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے تعلیم ضیاء اللہ بنگش نےمیڈیا بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ملازمین کی جانب سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ مرد افسران دفتری امور میں ان سے رابطہ کرنے کے بعد بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ذاتی معاملات تک پہنچ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعض خواتین اساتذہ اور دیگر ملازمین کی جانب سے ہراسانی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں جس کے باعث پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ خواتین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر تاحال کسی مرد افسر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تاہم اس پابندی کے اطلاق کے بعد خلاف ورزی کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

وزیر اعظم کا کلبھوشن یادیو پر عالمی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم

وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالتِ انصاف …