بدھ , 17 جولائی 2019

ایران کے خلاف امریکہ کے تمام حربے ناکام ہوئے ہیں:عراقی تجزیہ کار

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک)عراق کے ایک معروف سیاسی تجزیہ نگار ’’ہاشم القاندی‘‘ نے کہا کہ وارسا میں ایران مخا لف کانفرنس کا انعقاد امریکہ کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی ایک اور ناکام کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کے تمام حر بے ناکام ہوئے ہیں اور واشنگٹن اور اسکے اتحادیوں کو ایران کے خلاف ہر محاذ پر شکست ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ دہائیوں کے دوران امریکہ ایرانی عوام،حکومت اور قیادت کے خلاف طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا تا رہا ہے لیکن اُسے ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔موصوف تجزیہ کار نے کہا کہ ایران کے خلاف نیا اتحاد قائم کرنے کی امریکی کو ششیں بھی ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے عوامی اتحاد اور فوجی طاقت سے پوری طرح آگاہ ہے اور امریکی حکام بھی ایران کے مقابلے میں اپنی شکست کا بارہا اعتراف کر چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عراق،شام، لیبیا اور افغانستان کی عوام کو در پیش مسائل کا اصلی ذمہ دار بھی امریکہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم دہائیوں سے اس بات کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ صیہونی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی امریکہ کھل کر حمایت کرتا آرہا ہے ۔انہوں نے کہا واشنگٹن حکومت علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اپنی پالیسی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وارسا کانفرنس کے ذرئعے امریکہ یہ جتانے کی کوشش کررہا ہے کہ ایران علاقے کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے جبکہ حقیقت میں اسلامی جمہوریہ ایران علاقے میں امن و استحکام کا اہم عنصر ہے ۔انہوں نے کہا کہ شام سے لیکر عراق تک امریکی کے پراکسی دہشتگردوں کو شکست دینے میں ایران نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ علاقے سے نکل جائے تو یقینی طور پر مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام بحال ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے کی ایک عظیم طاقت ہے اور امریکہ و صیہونی رژیم اس کے سامنے بے بس ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بحرین اور قطر پھر آمنے سامنے

رپورٹ کے مطابق بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے قطر کو …