پیر , 12 اپریل 2021

ایران میں سائنس و ٹیکنالوجی میں پیشرفت، ایک مختصر جائزہ

(ڈاکٹر راشد عباس)

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر تعلیم، کوگنیٹیو سائنس ریسرچ سینٹر کے اراکین، سائنسدانوں، محققین اور ممتاز اسکالروں نے گذشتہ بدھ کو رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ ہم نے اس ملاقات کے تناظر میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد علمی بنیادوں پر ہونے والی پیشرفت پر اجمالی نگاہ ڈالی ہے، اس ترقی کو اعداد و شمار میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، امید ہے کہ اسلام ٹائمز کے قارئین کو یہ کاوش پسند آئے گی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کوگنیٹیو سائنس ریسرچ سینٹر کے اراکین، سائنسدانوں، محققین اور ممتاز اسکالروں سے خطاب میں مختلف سائنسی میدانوں بالخصوص علم طب، اقتصاد اور معاشرتی علوم پر کوگنیٹیو سائنس کے اثرات کا ذکر کیا اور ان علوم میں زیادہ سے زیادہ پیشرفت و ترقی کے لئے بغیر کسی توقف کے دن رات کوششیں جاری رکھنے کی تاکید کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ملک کی سائنسی ترقی کی رفتار میں توقف یا سستی نہیں آنی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ بیس سال میں ملک میں سائنسی ترقی و پیشرفت کی رفتار اطمینان بخش رہی ہے۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ ایران میں تیز رفتار علمی اور سائنسی ترقی کا یہ عمل آئندہ بیس سے تیس برسوں بلکہ طویل عرصے تک جاری رہنا اور ترقی کی اس رفتار کی تقویت ہونی چاہیئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس رفتار میں سست روی نہیں آنی چاہیئے بلکہ خدا پر توکل اور اس کی نصرت پر اعتماد کرتے ہوئے خلوص نیت کے ساتھ علمی و سائنسی ترقی کی رفتار بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی گذشتہ چالیس سالہ کارکردگی میں علم و ٹیکنالوجی میں سامنے آنے والی ترقی و پیشرفت نہایت اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ انقلاب اسلامی سے پہلے ایران سائنس و ٹیکنالوجی میں دوسرے ممالک سے بہت پیچھے تھا اور اسے دوسرں کی علمی پیشرفت پر ہی بھروسہ کرنا پڑتا تھا۔ علمی میدان میں پسماندگی کی یہ ثقافت اہل ایران کے لیے ایک تکلیف دہ طعنے سے کم نہ تھی۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کی ایک نئی ثقافت نے جنم لیا اور یوں اس شعبے میں بھی ایک علمی انقلاب وقوع پذیر ہوا۔

گذشتہ چند برسوں میں تو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے علمی ترقی کو ایک نصب العین قرار دیتے ہوئے soft power اور علمی جہاد کو نئی نسل کے لئے ضروری قرار دیتے ہوئے اس پر بھرپور توجہ دی نیز اس راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کا عزم بالجزم کیا۔ انقلاب کے بعد کی علمی ترقی کا انقلاب سے پہلے کے دور سے موازنہ کیا جائے تو انسان حیران و پریشان ہو جاتا ہے۔ انقلاب سے پہلے بڑی عمر کے افراد میں ناخواندگی کی شرح 70 فی صد تھی، صرف 40 فی صد ایرانی بچے اسکولوں تک پہنچ پاتے تھے اور اس وقت خواندگی کی شرح 100 فی صد کے قریب ہے۔ تعلیم بالغان کے ادارے نے ناخواندگی کو ختم کرنے کے لئے انقلابی اقدامات انجام دیئے ہیں۔ تعلیم بالغان کے ادارے نے نہ صرف بڑی عمر کے افراد کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا بلکہ ان کو پیشہ وارانہ تربیت دے کر مختلف شعبوں میں ماہر بنا دیا ہے۔ اس اقدام نے ان پڑھ افراد کو بھی ایک مفید شہری میں تبدیل کر دیا ہے۔

انقلاب سے پہلے اسکولوں کی تعداد 4700 تھی، جبکہ اس وقت ایک لاکھ اسکول ملک بھر میں تعلیمی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ اسلامی انقلاب سے پہلے یونیورسٹی طلباء کی تعداد ایک لاکھ چون ہزار تھی اور یونیورسٹیاں بھی چند بڑے شہروں تک محدود تھیں۔ اس وقت ملک بھر میں 119 یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیم کے مراکز ملک کے کونے کونے میں تعلیمی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ سرکاری یونیورسٹیوں کے علاوہ 550 پرائیویٹ یونیورسٹیاں اور پیام نور کے نام سے 550 اوپن یونیورسٹیاں بھی علمی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اسکے علاوہ آزاد اسلامی یونیورسٹیز کے نام سے ملک بھر کے مختلف حصوں میں 385 ادارے کام کر رہے ہیں۔ 274 ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ و کالج بھی مختلف شعبوں میں اپنی تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں 45 لاکھ یونیورسٹی طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انقلاب سے پہلے کی صورت حال سے موازنہ کیا جائے تو طلباء کی تعداد میں 29 گنا اضافہ ہوا ہے۔ 1979ء میں مختلف شعبہ جات میں 396 تعلیمی ادارے تھے جبکہ اس وقت یہ تعداد مختلف شعبہ جات کے حوالے سے تین ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

معروف عالمی ادارے "سایمگو” یعنی Scimgo Journal and country Rank نامی ادارے کی 1996ء سے 2015ء تک رپورٹ کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی میں ایران، دنیا میں 53 ویں نمبر سے 16 ویں نمبر پر آگیا ہے۔
ایٹمی انرجی کے شعبے میں 83 ویں نمبر سے 11 نمبر پر آگیا ہے
نانو ٹیکنالوجی میں 57 سے 16 ویں نمبر پر آگیا ہے
بائیو ٹیکنالوجی میں 56 سے 14 ویں نمبر پر آگیا ہے
ائیر و اسپیس میں 43 سے 11 ویں نمبر پر آگیا ہے
میڈیکل کے شعبے میں 54 سے 19 ویں نمبر پر آگیا ہے
کیمسٹری میں 48 سے 11 ویں نمبر پر آگیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران 2017ء میں نئی ایجادات کرنے والے 25 ممالک میں سے پہلے نمبر پر آیا ہے اور اسکی ترقی کی شرح 8.9 فی صد تھی۔ مختلف علمی موضوعات پر تحقیقی مقالات اور علمی پیپرز لکھنے کے حوالے سے سایمگو نے 2017ء میں جو رپورٹ پیش کی تھی، اس میں فزکس اور اسٹرانومی میں ایران مغربی ایشیا میں اول اور دنیا میں تیرہویں نمبر پر آیا ہے۔

ایران گذشتہ بیس سالوں میں سات اسلامی ملکوں میں نئی سائنسی ایجادات کے حوالے سے سرفہرست رہا ہے، ان سات اسلامی ملکوں کا دنیا کے پچاس اسلامی ممالک کی یونیورسٹیوں میں سے انتخاب کیا گیا تھا۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کے بیس ممالک میں ایران کا 16 واں نمبر ہے۔ مختلف علمی مقالات، سائنس و ٹیکنالوجی میں ایجادات اور جدید تھیوریز پیش کرنے کے حوالے سے ایران نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ایران کے ریسرچ اسکالرز گذشتہ بیس سالوں میں انقلاب سے پہلے کی علمی پیشرفت کے مقابلہ میں 50 گنا زیادہ تحقیقی کام اور ریسرچ جرنلز میں اپنے مقالات شائع کروا چکے ہیں۔ نیچر انڈکس نامی معروف انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے گذشتہ عشرے میں سائنس و ٹیکنالوجی کے تحقیقی میدان میں 22 فی صد سالانہ ترقی کی شرح سے دنیا کے مختلف ممالک میں سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔ انجینرنگ کے شعبے میں ایران کی علمی پیشرفت دوسرے تمام ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔ ایران نے سائنس و ٹیکنالوجی کے جدید شعبہ جات من جملہ بائیو، نانو، ریکور ایبل انرجی، ائیرو اسپیس، مائیکرو الیکٹرانک اور اسٹیم سیلز میں قابل ستائش ترقی کی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں موجود نانو ٹیکنالوجی کے حوالے سے 5۔7 فیصد سائنسی تحقیقات ایران کے پاس ہیں۔(جاری ہے)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …