منگل , 13 اپریل 2021

تحریک آزادی کشمیر کے نشیب و فراز

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ)

پاکستان کی موجودہ نسل کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پانچ فروری کسی داستانِ فتح کی یاد ہے یا کسی شکست کے جشن کا دن؟ 1990ء میں جس طرح اس دن کا آغاز ہوا، وہ یادگار بھی ہے اور اہمیت کا حامل بھی۔ کشمیر تاریخی اعتبار سے مختلف ادوار سے گزرتا آیا ہے۔ پہلے یہاں بدھ مت راج تھا، جو بعد میں آہستہ آہستہ ہندومت راج میں بدل گیا۔ جس کے باقیات آج بھی وادی میں موجود ہیں۔ تیرہویں صدی عیسوی کے اوائل میں شمس الدین شاہ میر، یہاں کا پہلا مسلمان حکمران تھا۔ پھر یہ سلسلہ مغلوں اور افغان حکمرانوں سے چلتا چلتا سکھ مہاراجا رنجیت سنگھ تک آن پہنچا۔ 1819ء میں چار صدیوں پر محیط مسلمان راج پاٹ کو ختم کرکے سکھ سلطنت کی بنیاد رکھی گئی، بے شمار ریاستی ٹیکس لگائے گئے، گائے ذبح کرنے پر سزائے موت، اذان پر اور سرِ عام نماز ادا کرنے پر پابندی کے ساتھ ساتھ سری نگر کی جامع مسجد کو بھی بند کردیا گیا۔ کشمیری لوگ جو مسلمانوں کے جاہ و حشمت کے اختتام پر سکھ کا سانس لے رہے تھے اور سکھوں کو مسیحا سمجھ رہے تھے، نئی مصیبت میں پھنس گئے۔ کشمیر میں ہر تہذیب کا کچھ کچھ حصہ کسی نہ کسی صورت موجود ہے۔ کشمیری شال دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔

1857ء کی جنگ میں بھی کشمیر عمل داری نے برٹش اقتدار کا ساتھ دیا۔ 1947ء میں تقسیم برصغیر کے وقت رنبیر سنگھ کے پوتے ہری سنگھ کی حکومت تھی۔ شروع شروع میں وہ آزاد کشمیری ریاست کا خواہشمند تھا، لیکن بعد میں اس سے مکر گیا۔ اکتوبر1947میں ہری سنگھ نے برطانوی فوج کے مسلم سپاہیوں سے اسلحہ ضبط کر کے کشمیر کی ہندوآبادی میں بانٹنا شروع کیا تو مسلم آبادی مشتعل ہو گئی اور انھوں نے بغاوت کردی۔ کشمیری مجاہدین کو پاکستان کے پشتون قبائلیوں کی مدد بھی حاصل ہو گئی۔ صورتحال سے گھبرا کر ہری سنگھ نے بھارت سے فوجی مدد مانگی۔ ہندوستان نے اس شرط پر ہری سنگھ کی مدد کرنے کا وعدہ کیا کہ وہ کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دے۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے اکتوبر1947 میں کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کردیا اور خود دہلی میں پناہ لے کر چھپ گیا۔ پاکستان نے اس الحاق کو ماننے سے انکار کر دیا، کیونکہ ابھی سٹینڈ سٹل معاہدہ قائم تھا اور ہری سنگھ الحاق کی کسی دستاویز پر دستخط کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ 27 اکتوبر کو بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئیں جس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ جنگ چھڑ گئی۔

دوران جنگ بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے کشمیریوں سے ریفرنڈم کا وعدہ کیا اور اپنی وعدے پر قائم رہنے کی بڑی بڑی قسمیں کھائیں۔ اسی وعدے کے مطابق بھارت کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا، جہاں 13اگست 1948 کو ایک قرارداد پاس ہوئی۔ اس میں طے پایا کہ کشمیری ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ۔ مگر جنگ ختم ہوتے ہی بھارت ریفرنڈم سے مکر گیا۔ اور آج تک انکاری ہے۔ وہ دن اور آج کا دن کشمیری بھارتی جبر کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ ان کے دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اگر ماضی کے واقعات کا جائزہ لیں تو ستّر کی دہائی میں سقوطِ ڈھاکہ نے کشمیریوں کے اعصاب شل کر دیئے اور وہ اپنے مستقبل سے مایوس ہوئے۔ شیخ عبداﷲ نے حقِ خودارادیت کا مؤقف ترک کرکے کشمیر پر بھارت کے کنٹرول کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرلیا۔ انہیں یہ یقین ہوگیا کہ اب پاکستان ان کی مدد کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ اسّی کی دہائی میں اس مایوسی نے ایک نئے زاویے میں سفر کرنا شروع کیا۔ امریکی پٹھو شاہِ ایران کیخلاف انقلابِ اسلامی کی کامیابی اور جہادِ افغانستان وقت کی دو اہم سپر طاقتوں امریکہ اور سوویت یونین کے خلاف برپا ہوئے۔ دونوں تحریکوں نے کشمیریوں کی مایوسی کو نئی امید میں بدل دیا۔

عظیم کشمیری رہنماء محمد مقبول بٹ نیشنل ازم کی بنیاد پر مقبول عام تھے، اب ایران میں اسلامی انقلاب اور افغانستان میں مجاہدین کی جنگ کے اثرات مرتب ہوئے۔ اسلامی جمعیت طلبہ رہنماء شیخ تجمل الاسلام نے کشمیر میں ایران کے اسلامی انقلاب کی طرز کا انقلاب برپا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک عالمی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ بھارت نے اس کانفرنس کو بزور طاقت روک دیا، شیخ تجمل اور ان کے کچھ ساتھی گرفتار ہوئے، کچھ جلاوطن اور کچھ زیر زمین چلے گئے۔ اسی دوران عبدالمجید ڈار نے افغان جہادی گروپ حزبِ اسلامی کی طرز پر حزبِ اسلامی کشمیر کے نام سے ایک زیرزمین گروپ تشکیل دیا۔ جو بعد میں حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر بنے اور 2000ء میں انہوں نے بھارت کے ساتھ یک طرف جنگ بندی کا اعلان کرکے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ جس طرح سقوطِ ڈھاکہ اور اندرا عبداﷲ ایکارڈ نے کشمیریوں کومایوس کیا، اسی طرح مقبول بٹ کی پھانسی اور مسلم متحدہ محاذ کے قیام سے نیا ولولہ ملا اور کشمیری مسلمانوں کو یقین ہوا کہ وہ وقت اور حالات کا دھارا بدل سکتے ہیں، کیونکہ بھارت سوویت یونین اور امریکہ سے بڑی طاقت نہیں کہ جسے شکست نہ دی جا سکے۔

افغانستان سے سوویت انخلاء کے بعد پاکستانی قیادت کے ذہن میں کشمیر کیلئے جو نقشہ تھا، وہ خطے میں ہمارے اتحادی امریکیوں کے ایجنڈے سے یکسر جدا تھا۔ ان حالات میں کشمیر کے سیاسی ماحول کو عسکری جد و جہد میں بدلنا خاصا مشکل تھا۔ لیکن مسلم متحدہ محاذ کو کشمیر کے نام نہاد انتخابات میں شکست ہوئی اور کشمیر میں مسلح جدوجہد کا آغاز ہوگیا۔ ابتداء میں کوئی منظم جماعت اس جدوجہد کی حمایت نہیں کررہی تھی، البتہ نوجوانوں کے غیر منظم اور غیر معروف گروہوں نے جنہیں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی چھتری حاصل تھی، اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کیلئے آگے بڑھے۔ لیکن بھارت نے مسلح جدوجہد کا ابتدائی تانا بانا بکھیر کر رکھ دیا۔ درجنوں نوجوان گرفتار ہوگئے۔ چند ایک کنٹرول لائن عبور کرکے آزاد کشمیر آگئے۔ ان میں سے کئی ایک کو آزادکشمیر پولیس نے نظربند کردیا۔ پاکستانی حکام تذبذب کا شکار تھے کہ ان کیساتھ کیا رویہ اپنایا جائے؟ ایک سوچ یہ تھی کہ انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے، ایک خیال یہ بھی تھا کہ اس کی آبیاری کی جائے۔ صدر غلام اسحاق خان کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو، جنرل مرزا اسلم بیگ، اور صدر آزادکشمیر سردار عبدالقیوم خان بھی شامل تھے، جہاں اس کونپل کی آبیاری کرنے اور ان مجاہدین کو سرپرستی دینے کا حتمی فیصلہ ہوا۔

اسٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ نے اُس دور کے بھارتی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی ڈاکٹر ربیعہ سعید کو سری نگر کے صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ سے اغواء کرکے سوپور کے ایک گھر میں چھپا دیا۔ بھارت نے ڈاکٹر ربیعہ کی رہائی کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا، لوگوں کو گھروں سے نکال کر خانہ تلاشی، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو برفانی راتوں اور برفانی راستوں میں کھڑا کرکے انہیں تنگ کیا گیا۔ ردعمل میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور کشمیر کی سرزمین کشمیر بنے گا پاکستان اور نعرہ حیدری کی صداؤں سے گونجنے لگی۔ اس طرح ان مظاہروں نے باقاعدہ مزاحمت، بغاوت اور سول نافرمانی کی تحریک کا روپ دھار لیا۔ نعرے بلند ہوئے کہ سرحد پار جائیں گے، کلاشنکوف لائیں گے، سینکڑوں افراد کے قافلے کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کے ساتھ مڈبھیڑ کے نتیجے میں لٹ پٹ کر مظفر آباد پہنچتے، ان میں اگر کوئی قافلہ بہ حفاظت بھی پہنچتا تو اسے خوراک اور لباس کی ضرورت ہوتی۔ آزادکشمیر حکومت اس صورتِ حال سے قطعی لاتعلق تھی۔ جن ریاستی اداروں نے یہ کام اپنے ذمہ لے رکھا تھا، ان کی تیاریاں بھی محدود تھیں۔ وہ کشمیر کے برف زاروں میں چھپے آتش فشاں کی شدت اور سنگینی سے بے خبر تھے، انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ کشمیری اس قدر قوت سے اُٹھ کھڑے ہوں گے۔

اس لیے ان کا انتظام اس نئی صورتِ حال سنبھالنے سے قاصر تھا۔ ایسے میں قاضی حسین احمد مرحوم نے ملتان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے ہزاروں افراد بھارتی مظالم سے تنگ آکر آزاد کشمیر پہنچ رہے ہیں، حکومتیں ان کی مدد نہیں کررہیں، قوم آگے بڑھ کر ان کی مدد کرے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے عام ہڑتال کی اپیل کی۔ کشمیری کمانڈر محمد احسن ڈار نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے، کیونکہ ہمیں سرحد پار سے اخلاقی مدد ملنا شروع ہوگئی ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف اور وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس طرح پانچ فروری کشمیریوں کی جدید تحریک سے یک جہتی کے لیے ایک رسم و ریت کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ بعد ازاں جنرل مشرف کے یوٹرن سے کشمیری قیادت اور عوام میں مایوسی پیدا ہوئی، فرقہ وارنہ تنظیموں کی طرف سے جہاد کے نام پر ہونیوالی سرگرمیوں کے تحریک آزادی پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

لیکن برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں مزاحمت اور ابتلا و آزمائش کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ وادیٔ کشمیر ایک آتش فشاں کا روپ دھار چکی ہے۔ بھارت ظلم و جبر کے تمام تیر عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لیے استعمال کررہا ہے، مگر ہر تیر اور وار خطا ہو رہا ہے۔ بھارت کے کئی سیاسی رہنما یہ بات تسلیم کررہے ہیں کہ وادی میں فوج کا سامنا موت کے خوف سے بے نیاز نسل سے ہے اور اس دردِ سر کا بھارتی فوج کے پاس کوئی علاج نہیں۔ کشمیری اب پاکستانی پرچم کفن بنا کر ڈٹ چکے ہیں، انہیں طفل تسلیوں سے زیادہ عرصے تک بہلایا نہیں جا سکتا۔ انہیں شکایت یہ ہے کہ اس وقت ریاست پاکستان کی پالیسی بھارت نوازی سے لچکی ہوئی شاخ کی مانند ہے اور بھارت کے بجائے حکومتِ پاکستان کو للکارنے اور جگانے کی زیادہ ضرورت ہے۔ کیونکہ کشمیریوں کا بھارت سے گلے شکووں کا کوئی رشتہ و تعلق ہی قائم نہیں۔ وادیٔ کشمیر کا عام مسلمان بھارت کو غاصب سمجھتا تھا اور سمجھتا رہے گا۔ یہ بات بھارت کو پوری طرح معلوم ہے۔ اس لیے کشمیر کا عام آدمی بھارت کے ساتھ ایک جبری ناتے میں بندھا ہوا ہے، مگر کشمیریوں کو پاکستان سے ہر دور میں بے شمار توقعات رہی ہیں۔ ہمیں ان توقعات یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کرنیکی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …