ہفتہ , 17 اپریل 2021

ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے عوام پر اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنے کیلئے کوشاں

(سید رحیم نعمتی)

امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے بدھ کی صبح اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر بعض ایسے افراد سے ملاقات کی خبر دی جو ان کے بقول وینزویلا حکومت کے سفیر اور نمائندے تھے۔ ان افراد میں کارلوس وچینو اور دیگران شامل تھے۔ یہ افراد امریکہ میں وینزویلا کے سفارت کار نہیں کیونکہ اس ملک کے سفارت کار امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے اندرونی امور میں مداخلت پر اعتراض کرتے ہوئے اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ یہ ایسے افراد ہیں جنہیں مائیک پینس اور دیگر امریکی حکام وینزویلا حکومت کے نمائندے قرار دے رہے ہیں۔ یہ اقدام درحقیقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد وینزویلا میں اپنی مرضی کی حکومت بنانا ہے۔ امریکی حکام نہ صرف وینزویلا کے عوام پر اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنے کے درپے ہیں بلکہ عالمی برادری کو بھی وینزویلا میں اپنی مرضی کی حکومت قبول کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کوشش گذشتہ ہفتے بدھ کے دن سے آغاز ہو چکی ہے لیکن اب تک وائٹ ہاوس اور اس کی بنائی ہوئی وینزویلا کی جعلی حکومت کو کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کسی دوسرے راہ حل کی طرف جاتے ہیں یا نہیں؟

دوسری طرف وینزویلا میں باغی رہنما خوان گوایدو نے گذشتہ ہفتے بدھ کے دن سے قانونی صدر نکولاس مادورو کے خلاف اقدامات کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے نکولاس مادورو کے حالیہ صدارتی دورے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خود کو ملک کا نگران صدر قرار دیا ہے۔ اس اعلان کے چند منٹ بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خوان گوایدو کے بھیجے ہوئے افراد کو وینزویلا کے سفارت کار کے طور پر قبول کیا اور دیگر ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ خوان گوایدو کو وینزویلا کے قانونی صدر کے طور پر تسلیم کر لیں۔ اب تک صرف کولمبیا، برازیل، ارجنٹائن اور کینیڈا نے ہی امریکی صدر کے اس مطالبے کو تسلیم کیا ہے جبکہ روس، چین، ایران، کیوبا اور ترکی جیسے ممالک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کی واضح طور پر مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ جب امریکی حکام نے دیکھا کہ عالمی برادری میں ان کے اس مطالبے کو مناسب پذیرائی حاصل نہیں ہوئی تو انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رخ کیا تاکہ وہاں سے کوئی قانونی جواز حاصل کیا جا سکے لیکن نہ صرف چین اور روس نے وینزویلا میں حکومت سازی پر مبنی امریکی منصوبے کی شدید مخالفت کی بلکہ جنوبی افریقہ، گینہ، انڈونیشیا اور ڈومینیکا نے بھی وینزویلا کے اندرونی معاملات میں امریکہ کی مداخلت کی مذمت کی۔

امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی مایوس ہونے کے بعد وینزویلا حکومت کے خلاف خام تیل کی خرید و فروش اور بینکاری نظام پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اس طرح وینزویلا کی سرکاری آئل کمپنی اور اس سے وابستہ چند دیگر کمپنیوں پر پابندی لگا دی گئی۔ امریکہ نے اپنے بینکوں میں وینزویلا حکومت کے تمام اکاونٹ بھی بند کر دیے اور اعلان کیا ہے کہ جب تک وینزویلا پر امریکہ کی مرضی کی حکومت برسراقتدار نہیں آتی اس وقت تک یہ اکاونٹس بند رہیں گے۔ روس اور چین نے وینزویلا کے خلاف امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں وینزویلا کی ہر ممکن مدد کرنے کا اعلان کر دیا۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاوروف نے گذشتہ ہفتے واضح طور پر اعلان کیا کہ روس وینزویلا کی قانونی حکومت کی مدد کیلئے کسی اقدام سے دریغ نہیں کرے گا۔ یوں گذشتہ دو ہفتے سے وینزویلا مشرق اور مغرب کے درمیان سفارتی اور اقتصادی جنگ کا مرکز بنا ہوا ہے اور اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں یہ تنازعہ مزید وسعت اختیار کرتے ہوئے فوجی میدان تک نہ جا پہنچے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ برس وینزویلا پر فوجی حملے کی دھمکی دی تھی۔ اسی طرح گذشتہ ہفتے اعلی سطحی امریکی حکام کی پریس کانفرنس کے بعد وینزویلا پر امریکی فوجی حملے کی افواہیں شدت اختیار کر گئی تھیں۔ امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے ہاتھ میں ایک ڈائری پر لکھا ہوا ایک نوٹ صحافیوں کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔ اس نوٹ میں لکھا تھا: "پانچ ہزار فوجی کولمبیا بھیجنے ہیں۔” بعض ماہرین اس نوٹ کو وینزویلا کے خلاف امریکہ کی فوجی کاروائی کی دلیل قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امریکی فوج کے جنوبی حصے کے کمانڈر جنرل مارک اسٹامر نے بھی حال ہی میں کولمبیا کا دورہ کیا ہے جس سے یہ افواہیں مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔ اگرچہ امریکہ اور جنوبی امریکہ میں اس کے اتحادی ممالک جن میں کولبمیا بھی شامل ہے نے ابھی تک واضح طور پر وینزویلا کے خلاف فوجی کاروائی کے بارے میں کچھ نہیں کہا لیکن جنرل مارک اسٹامر کا دورہ کولمبیا اور وینزویلا کی سرحد کا جائزہ لینے سے فوجی کاروائی کے امکان کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ 1989ء میں بھی امریکہ پاناما میں اپنے مخالف صدر منول نوریگا کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کیلئے فوجی طاقت کا استعمال کر چکا ہے لہذا بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت امریکہ وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے مشابہہ اقدام انجام دے سکتا ہے۔

لیکن اس وقت کے پاناما اور آج کے وینزویلا میں بہت فرق ہے۔ ایک فرق دونوں ممالک کی فوجی طاقت میں ہے۔ آج وینزویلا فوجی اعتبار سے اس وقت کے پاناما سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ دوسرا فرق مشرقی سپر پاورز روس اور چین کی حمایت حاصل ہونے کا ہے۔ 1989ء میں پاناما اور اس حد تک روس اور چین کی حمایت حاصل نہ تھی جبکہ چین بھی آج جیسا طاقتور نہ تھا۔ لہذا ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے وینزویلا کے خلاف فوجی کاروائی امریکہ کیلئے آسان نہیں ہو گی۔ اب دیکھنا یہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں اپنی مرضی کی حکومت برسراقتدار لانے کیلئے کس حد تک آگے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ امریکہ کا صدر بننے کے بعد اب تک دو اہم ایشوز، جنوبی کوریا اور ایران سے جوہری معاہدے، کو کامیابی سے ڈیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس تناظر میں ان کیلئے وینزویلا کا مسئلہ زیادہ اہم ہو چکا ہے تاکہ وہ اندرونی سطح پر اپنے حامیوں پر یہ ثابت کر سکیں کہ انہوں نے امریکہ کو کھوئی ہوئی عزت واپس لوٹائی ہے۔ ہو سکتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ خود کو جرج بش ظاہر کرنے کی کوشش کریں لیکن گذشتہ دو سال کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ رسک لینے کی جرات نہیں رکھتے اور مزید امریکہ کا مالی یا جانی نقصان برداشت نہیں کر سکتے۔ لہذا وینزویلا اپنی مسلح افواج اور حامی ممالک کی مدد سے اس شدید بحران پر قابو پا سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …