منگل , 13 اپریل 2021

انقلاب فرانس کی طرف

(ظہیر اختر بیدری) 

حکومتوں کو ہر چند سال کے بعد پولیس اصلاحات کے دورے پڑتے ہیں ان دوروں کا کچھ فائدہ ہو نہ ہو اخباروں میں خبریں چھپتی ہیں اور آٹومیٹک رشوت کے ریٹس میں اضافہ ہو جاتا ہے یہ پریکٹس عشروں سے جاری ہے اور اس کا فائدہ کسی کو ہو نہ ہو اہل معاملہ کو ضرور ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے پہلی بات یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیوں بلکہ گندگیوں میں رشوت عرف کرپشن سرفہرست ہے اور یہ بات یاد رکھیے کہ رشوت یا کرپشن کو کوئی مائی کا لال ختم نہیں کرسکتا کیونکہ رشوت عرف کرپشن اور سرمایہ دارانہ نظام کا چولی دامن کا ساتھ ہے جہاں سرمایہ دارانہ نظام ہے وہاں رشوت لازمی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مجبوری رشوت کی ماں ہے لیکن ہم اس فلسفے سے قطعی متفق نہیں کیونکہ نچلے طبقات میں کسی حد تک مجبوریاں انسانوں کو کرپشن کی طرف لے جاتی ہیں اور سرکار رشوت کو آمدنی کا سپلیمنٹری سمجھ کر اسے وصول کرنے کی آزادی دے دیتی ہے۔

رشوت عام غریب آدمی جیسے کلرک، پولیس کا سپاہی سے اوپر تک جاتی ہے، اس کام میں جو مہارت رکھتا ہے وہ گھر بھی بنا لیتا ہے گاڑی بھی لے لیتا ہے اور اگر صاحب ذوق ہے اور بچوں کو سمندر میں تیرانا چاہتا ہے تو بچوں کو اعلیٰ تعلیم بھی دلواتا ہے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے کی نظر میں چھوٹی رقمیں جچتی ہی نہیں۔ غریب کی اولاد خواہ بی اے کرے یا ایم اے وہ مرتبے کی آخری سیڑھی ہی پر فروکش رہتی ہے کیونکہ اس سے آگے جانا طبقاتی نظام کے شایان شان نہیں۔پسماندہ ملکوں میں ایک ظلم یہ ہوتا ہے کہ آمدنی اور خرچ میں زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

اس فرق کو اخلاقاً بھی ختم ہونا چاہیے لیکن غریب ملکوں کی معیشت اور امیروں کا اخلاق اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ غریب کے ناشتے میں انڈے، مکھن، ڈبل روٹی، دودھ، جوس جیسی صحت اچھی کرنے اور عادت خراب کرنے والی چیزیں شامل ہوں لہٰذا ان چیزوں کو غریب کے دسترخوان تک پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ ویسے بھی جو پیٹ روٹی دال، پیاز روٹی، چائے روٹی کے عادی ہوں وہ انڈے، مکن، جام جیلی، ڈبل روٹی کو ہضم کر ہی نہیں سکتے اگر ان بدنصیب پیٹوں میں دال روٹی کی جگہ انڈے مکھن پہنچانا ہو تو پورے پیٹ کا نظام بدلنا پڑتا ہے جیسے ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں کو پٹرول پر چلانا ہو تو انجن میں رد و بدل کرنا پڑتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کھانے، کپڑے وغیرہ کی یہ تفریق صدیوں سے قائم ہے خاص آدمی ایک چیز دو بار کھا لیتا ہے تو وہ بور ہو جاتا ہے بور ہونے کا احساس پیٹ کو نہیں ہوتا دماغ کو ہوتا ہے۔ کیا اس نسلوں سے چلی آرہی بوریت کو دور کرنے کی خواہش نہیں ہوتی؟ ہونی چاہیے لیکن اس فرق کو پیدا کرنے اور برقرار رکھنے والوں کو بھی اندازہ تھا کہ اگر اس یکسانیت کی بوریت بڑھ جائے تو پھر دال روٹی سے بے زار غریب ڈائننگ ٹیبلوں کی طرف مارچ کرنے لگیں گے۔

اس خوف و خطرے سے بچنے کے لیے ان مہاپرشوں نے کئی طریقے ڈھونڈ رکھے ہیں جن میں قسمت سب سے موثر طریقہ ہے۔اس کے علاوہ اس فرق کے بانیوں نے کئی ایک تیر بہدف طریقے بھی ایجاد کر رکھے ہیں مثلاً کوئی بھوکا روٹی چوری کرلے تو اسے فوری گرفتار کرلیا جاتا ہے کیونکہ چوری کرنا قابل دست اندازی پولیس ہے لیکن بھوکا رہنا قابل دست اندازی پولیس نہیں ہے ان روٹی چوروں کے لیے تھانے کچہری جیل سزا کی قسم کے لوازمات رکھے گئے ہیں۔ کیونکہ چوری جرم ہے اور جرم بہرحال جرم ہوتا ہے۔ روٹی کے ساتھ قانون ہے انصاف ہے اور ترنت فیصلوں کا ایک نظام ہے کہ عام آدمی عبرت پکڑے۔

بعض عقل کے پیدلوں کو اس حوالے سے یہ شک یا اعتراض ہے کہ ہمارے ملک کے محترمین نے بینکوں سے دو کھرب کے قرضے لے کر معاف کرا لیے یہ قرض معاف کرانے والے نہ مجبور ہیں نہ غریب نہ اندھے نہ لنگڑے۔ پھر انھوں نے اتنے بھاری قرض کیوں معاف کرائے۔ اور اتنے بھاری قرض کیوں معاف کیے گئے؟ بھوک سے تنگ آکر ایک شخص ایک روٹی چراتا ہے تو اسے فوری انصاف ملتا ہے بینکوں سے کھربوں کے روپے چرانے والوں سے انصاف دور بھاگتا ہے برسوں دور عشروں دور یہ کیسی دنیا ہے یہ کیسا انصاف ہے؟ یہی قانون ایک بھوکے سے روٹی چھین لیتا ہے یہی قانون امرا شہر کو دو کھرب کے قرض یا ایڈ فراہم کرتا ہے اور بھول جاتا ہے۔ ایسا کیوں؟ ایسا اس لیے کہ روٹی چور نے روٹی چھیننا نہیں سیکھا، جب روٹی چور روٹی چھیننا سیکھے گا تو روٹی امیروں کے بینک قرض کی طرح قانون کی نظروں سے اوجھل ہوجائے گی۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ جو انسانوں کی تقسیم ہے کیا یہ قدرت کا کوئی عطیہ ہے دنیا میں 7 ارب انسان رہتے ہیں جن میں ہندو بھی ہیں، مسلمان بھی، سکھ بھی، عیسائی بھی چونکہ یہ مسئلہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے لیکن غریب اور امیر کی تقسیم تو انسانوں کی ہوتی ہے یہ کس قدر ظلم اور ناانصافی ہے کہ ایک شخص وہ ہے جو اربوں کی دولت پر سانپ بنا بیٹھا ہے دوسری طرف اربوں انسان ہیں جو صبح سے شام تک صرف دو روٹی کے لیے سخت محنت کرتے ہیں کیا یہ ناانصافی نہیں ہے ؟ اگر ناانصافی ہے تو پھر اس کے خلاف غریب طبقات کو سخت مزاحمت کرنا چاہیے۔

ان ناانصافیوں کے خلاف پولیس کے قانون میں کوئی سخت قسم کی کلاز ہونی چاہیے۔ ہمارا پولیس کا نظام دنیا کے بدترین نظام میں سے ایک ہے اس میں اصلاحات کی بات ایک مذاق لگتی ہے۔ پولیس ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ہوتی ہے لیکن وہاں کی پولیس عوام کی خدمت اور رہنمائی کے لیے ہوتی ہے بلاوجہ پکڑ کر رشوت وصول کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں تھانے نیلام ہوتے ہیں اور اس کے خریدار عام طور پر تھانے دار ہی ہوتے ہیں۔ انقلاب فرانس سے قبل فرانس میں تھانے بکتے رہے ہیں یا نہیں البتہ جج کے عہدے ضرور فروخت ہوتے تھے اس ابتری اور ظلم ہی کے نتیجے میں انقلاب فرانس کا واقعہ ہوگیا۔ کیا ہمارا ملک بھی انقلاب فرانس کی طرف جا رہا ہے؟بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …